نوجوان کسی بھی تبدیلی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں، شبیر بلوچ
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی وائس چیئرپرسن شبیر بلوچ نے نال میں اپنے تنظیموں ساتھیوں کے ایک سرکل میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو طالب علموں کا سیاست میں ہمیشہ ایک فعال کر دار رہا ہے، تاریخ کے ورق میں دیکھا جائے تو انقلابی تحریکوں اور سماجی تبدیلیوں میں نوجوانوں کا ہمیشہ ایک اہم رول رہا ہے، طلبا کو کسی بھی سماج کا سب سے توانا اور متحرک طبقہ گردانا جاتا ہے، طالب علم ہمیشہ سماجی ثقافتی ادبی اور سیاسی تبدیلیوں میں ہمیشہ ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے آئے ہیں ، قومی اور سماجی جدوجہد میں طالب علموں نے مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے جو یقینا اس بات کا غماز ہے کہ نوجوان کسی بھی قومی ادبی یا سماجی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اگر ہم آج اپنے سماج کا بغور جائزہ لیں تو اس بات کی مثال مل جاتی ہے کہ بلوچستان میں سماجی اور قومی تبدیلیوں میں اہم کردار طالب علموں اور باشعور نوجوانوں کا ہے، کئی مشکل اور مصائب کا سامنا کرنے کے باوجود وہ اپنے جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید منظم اور متحرک ہوتے جا رہے ہیں۔آج بلوچ طالب علم پختگی کے ایک الگ مرحلے تک آ پہنچے ہیں جن کے اندر موجودہ حالات میں اتنی کیپیسٹی ہے کہ وہ سخت سے سخت فیصلے کرنے کی جرات رکھتے ہیں آج وہ سماج میں موجود کسی بھی منفی رجحانات کو ختم کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ، آج کے معروضی حالات میں سیاسی و ادبی سمیت قومی زمہ داریوں کو پورا کرنے میں سب سے پیش پیش ہیں ، بحیثیت ادارہ ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے ہٹاکر انہیں پختگی اور سنجیدگی کی طرف لائیں تاکہ وہ سماجی اور قومی زمہ داریوں میں کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے طلبا سیاست کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی طرح آج بھی سماجی تبدیلی اور اصلاحات کا دارومدار طلباء اور جامعات میں علمی ماحول پر منحصر ہے ترقی یافتہ ممالک اس ٹیکنالوجی کے دور میں ترقی کے لئے طلباء اور اس کی ذہنی تحقیق و تخلیق پر منحصر کر کے ہی آگے بڑھ رہے ہیں اگر ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ممالک کے سفر کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ طلباء کی سماجی بیگانیت سے ہٹ کر متحرک قوت بننا ہی ترقی کی ضامن ہوتا ہے. آج پسماندہ ممالک کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں نوجوانوں میں سماجی بیگانگی اور منفی رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں یہ بیگانیت اور منفی رحجانات ہی اس ترقی کے ارتقائی سفر میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں اور اس منفی رحجانات اور بیگانیت کو ختم کرنا ہی انہیں ترقی کی جانب گامزن کر سکتی ہیں


