اپوزیشن بجٹ سازی میں مثبت کردار اداکرے
بجٹ بنانے کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب وسائل کم اور مسائل زیادہ ہوں۔قدرت نے پاکستان کو وسائل فروانی سے بخشے۔700کلومیٹر طویل خوبصورت ساحل،زرخیز زمین،قیمتی معدنیات،دنیا کا بہترین نہری نظام،برف سے ڈھکے پہاڑ، زمین سیراب کرنے کے لئے دریا، ایک سے زائد فصلیں اگانے کے لئے (سردی،گرمی،خزاں،بہار)چار موسم،جفاکش افرادی قوت، ہر شعبے میں ذہین و فطین شخصیات الغرض پاکستان کسی لحاظ سے پسماندہ ملک نہیں تھا اور نہ ہی آج اس کے بارے میں کوئی شخص بقائمی ہوش و حواس یہ کہنے جسارت کر سکتا ہے پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے۔ڈھیروں وسائل رکھنے والا ملک پسماندہ نہیں کہلاتا۔قدرت قیمتی وسائل وہاں رہنے والے انسانوں کو مشترکہ طور پر عطا کرتی ہے،چند گھرانوں کی گود میں نہیں ڈالتی۔اَللہ نے ہمیشہ خود کو رب العالمین کہلوایا ہے۔کسی خاص علاقے یا خاص افراد کا رب نہیں کہا۔سورج تمام انسانوں کو ایک جیسی روشنی اور حرارت فراہم کرتا ہے۔اس سے فیضیاب ہوکرسمندر سے آبی بخارات ہوا میں شامل ہوتے ہیں، ہوائیں انہیں لاد کر خشک اور ویران زمین تک پہنچاتی ہیں۔ بارش برستے ہی مردہ زمین زندہ ہو جاتی ہے۔تالاب اور جھیلیں ہر قسم کی حیات سے بھر جاتی ہیں۔نباتات پودوں کی شکل میں زمین کو مخملی پوشاک پہنا دیتی ہیں۔یاد رہے یہ سارا نظام کسی ایم این اے یا ایم پی اے یا بہت سارے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا بنایا ہوا نہیں، رب العالمین کا تشکیل کردہ ہے، اس کے وارث اس خطے پر بسنے والے تمام انسان ہیں۔اَللہ نے اصلاح کے لئے رشدوہدایت کا بندوست بھی کیا،انسان کو عقل و بصیرت کے ساتھ اپنی مشکلات حل کرنے کا سلیقہ اور ہنر بھی عطا فرمایا۔ انسانوں نے اپنی پیدائش سے آج تک مختلف سماجی اور معاشی نظام آزمائے، بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھی۔ انسان کو یہ اختیار دیا کہ جسے اپنی فہم و فراست کے مطابق درست سمجھے،اسے آزمائے،حیوانات جیسی پابند زندگی نہیں دی، نیچر کا غلام اور بے بس نہیں بنایا۔انسان نے آگ کا استعمال سیکھا، پہیہ ایجاد کیا اور پھر بحرو بر سے نکل کر خلاؤں کی تسخیر میں مصروف ہوگیا۔انسان واحد جاندار ہے جو ستر پوشی اور موسمی شدائد سے محفوظ رہنے کے لئے لباس پہنتا ہے۔انسان نے یہ ترقی اجتماعی طور پر کی مگر اپنے تنگ نظر اور خود غرضانہ تصورات سے مغلوب ہوکر اکثر و بیشتر اجتماعیت کی بجائے انفرادیت کوترجیح دی اور اجتماعی وسائل کی لوٹ مار کے لئے قانون سازی سمیت ہر حربہ استعمال کیا۔ پاکستان کی پسماندگی کا بنیادی سبب یہی انفرادی سوچ بنی۔22کروڑ عوام کی ملکیت چند خاندانوں کے قبضے میں چلی گئی۔ جتنی لوٹ مار وفاقی حکومتیں کر سکتی تھیں انہوں نے کی اوروفاق کی دیکھادیکھی صوبائی حکومتوں نے بھی جی بھر کے اپنے ہاتھ پیر چلائے۔یہ سب کچھ نہ کیا جاتا، 22کروڑ عوام کی ملکی کو 22کروڑ عوام کی ملکیت سمجھا جاتاتو آج ملک دیوالیہ ہونے کے انتہائی قریب نظر نہ آتا۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس خرابی کا ذمہ دار گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو سمجھتے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک سے حساب لینے کا اعلان کیا ہے۔مسلم لیگ نون کے رہنماسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تفصیلات بیان کئے بغیر صرف اتنا کہا ہے کہ دو تین روز میں ایک بہت بڑا اسکینڈل سامنے آنے والا ہے۔جس ملک میں چار دہائیوں تک بے رحمانہ انداز میں قومی خزانے کو لوٹا جاتا رہا ہے وہاں ہر کارپٹ کے نیچے سے اسکینڈل کا نکلنا حیران کن بات نہیں، اسے زندگی کے معمولات کا حصہ سمجھا جانا چاہیئے۔نیب ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ میں کی جانے والی لوٹ مار کے حوالے سے 26ذمہ داران کو بے نقاب کرنے کادعویٰ کر رہا ہے۔بلوچستان کی دو یوسیز کے 2ارب25کروڑ چرانے والے دو سفید پوش مجرموں سمیت دیگر کو چند روز پہلے سزا سنائی جا چکی ہے۔ ہمسایہ ملک چین میں 400سے زائد مالیاتیہیراپھیری کرنے والوں کو گولی ماری گئی ہے، ان میں چین کا وہ ریلوے وزیر بھی شامل ہے جس نے پاکستان کو ناکارہ اور غیر معیاری ریلوے انجن فروخت کئے تھے۔پاکستان نے یہ ناکارہ اور غیر معیاری انجن خریدنے والے ریلوے وزیر کو ابھی تک کچھ نہیں کہا۔پاکستان میں چین جیسے قوانین نہیں، ابھی عدالتیں اشتہاری مجرم کے قانونی حقوق کے بارے میں تحقیق میں مصروف ہیں۔جبکہ معاون وکیل ملکی اور غیرملکی عدالتی فیصلے،نظیریں (precedence)تلاش کرنے کے لئے مہلت مانگ رہے ہیں۔اسی دوران حکومت پاکستان،شوگر اسکینڈل کے ایک بڑے ملزم جہانگیر ترین(جو وزیر اعظم کے انتہائی قریبی دوست مانے جاتے ہیں) کی شکایت پر ایف آئی اے کے سربراہ کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے،تاکہ صاف و شفاف انصاف کو یقینی بنایا جائے۔افسران کے تبادلے دوران تفتیش کئے جائیں تو ایسے اقدام کے منفی اور مثبت اثرات کاانکارنہیں کیا جاسکتا۔ بعض مبصرین اور تجزیہ کار اس کارروائی کو بھی بجٹ منظور ی کی مجبوری سمجھتے ہیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اتنی تیز رفتار ہو چکی ہے، اسکینڈلز پر پردہ ڈالنا ممکن نہیں رہا،کوشش کے باوجود کسی ایک یا دوسرے کونے سے بعض پوشیدہ پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں۔ جیسے براڈشیٹ اسکینڈل سے برطانیہ کے سفارت خانے سے بھیجی گئی اہم دستاویزات کا وہ سر بمہربنڈل نکل آیاجسے سپریم کورٹ میں گمشدگی کا عذر کرتے ہوئے متعلقہ افسران نے مجرم کوفائدہ پہنچایا تھا۔اپوزیشن ٹیکنالوجی کی جدت طرازی اور رفتار میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے پریشان ہے۔لیکن تاریخ کی مجبوری ہے کہ ماضی کی طرف لوٹنا اس کے بس میں نہیں۔مگراپوزیشن کو اپنی پریشانیوں کے جھرمٹ میں گھرے ہونے کے باوجود اپنا ذمہ دارانہ سیاسی اور پارلیمانی کردار بھی ادا کرنا ہے۔اپوزیشن کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیئے کہ عام آدمی میڈیا کے سامنے بیٹھ کرپہلے کی نسبت زیادہ سیانا ہو گیا ہے، غلط اعدادو شمار کی مدد سے اب اسے بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔عام آدمی سے سچ بولا جائے،ورنہ ملکی معاملات سے اس کی لاتعلقی برقرار رہے گی۔ نوجوان نسل کے ہاتھوں میں واٹس ایپ ہے اوروہ حالات حاضرہ سے واقف ہے۔ ویسے بھی جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔زبان سے نکلی بات پرائی ہوجاتی ہے۔دور تک جاتی ہے۔ بجٹ اجلاس میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کی جائے،ملک کی بہتری کے لئے ٹھوس اور قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں، نعرے بازی کام نہیں دے گی۔


