ایف سی اور انتظامیہ کی جانب سے چمن میں گاڑیوں کو تحویل میں لینے کی مذمت کرتے ہیں، عبدالرحیم کاکڑ

کوئٹہ:مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ حضرت علی اچکزئی سید عبدالقیوم آغا میر یاسین مینگل سعداللہ اچکزئی حاجی ہاشم کاکڑ عبدالخالق آغا حاجی ظفر کاکڑ حاجی حمداللہ ترین دوست محمد آغا حاجی خدائیدوست خرم اختر حاجی ودان علی کاکڑ عطامحمد کاکڑ ظہور آغا نعمت آغا حاجی محمد یونس عبدالعلی ڈمر ودیگر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے ایف سی اور انتظامہ نے چمن کے تاجروں کی 22 گاڑیوں کو پکڑا ہے جسکی مرکزی انجمن تاجر ان بلوچستان و لغڑی اتحاد شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں مرکزی انجمن تاجر ان چمن کے تاجروں اور لغڑی اتحاد نے گزشتہ دو دنوں سے کوئٹہ چمن شاہراہ ٹاپ کوڑک کے مقام پر ہر قسم کے آمدورفت کے لیے بند کیا ہے کیونکہ چمن شہر میں نہ کوئی فیکٹریز ہے اور نہ کوئی روزگار ہے جس سے چمن کے عوام اور تاجر برادری مستفید ہو پہلے ہی کورونا کی وجہ سے بلوچستان بھر کے تاجر برادری کافی نقصانات کر چکے ہیں اور مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتے حکومت کو چاہے کہ تاجروں کو ریلیف دے تاکہ صوبہ اور ملک مزید ترقی کرسکے حکومت ریلیف تو نہیں دے سکتے اور تاجروں پر روزگار کے دروازہ بند کرنا چاہتے ہے وفاقی و صوبائی حکومت اور الف سی کے اعلی حکام سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاک افغان بارڈر کو جلد سے جلد کھولا جائے دس دفعہ سے ذاہد لغڑی اتحاد اور تاجروں کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے کہ بارڈر کو کھولا جائے گا لیکن ابھی تک بارڈر کو بند کیاگیا ہے اور کسی معاہدہ پر عمل دارامد نہیں کیاگیا تاجروں کے 22گاڑیوں کو فورا” چھوڑا جائے تاکہ چمن کے مسافر اور مریض جوکہ سخت گرمی کے باوجود پہاڑوں میں بیٹھے ہے اور سخت بیمار مریضوں کو کوئٹہ لایا جاسکے جن کا علاج موجہ ممکن ہو سکے اگر گاڑیوں نہ چھوڑا گیا تو کوئٹہ کچلاک شاہراہ کو ہر قسم کے آمدورفت کے لیے بند کیا جائے گا اور احتجاج کو وسیع کرنے کے لیے مزید سخت سے سخت احتجاج کا اعلان کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں