گوادر و جیونی میں پانی کی قلت سے متعلق درخواست نمٹا دی گئی
کوئٹہ:بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جسٹس محمدکامران خان ملاخیل پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے سینئر قانون دان ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جانب سے گوادر/جیونی میں پانی کی قلت سے متعلق دائر آئینی درخواست نمٹا دی۔واضح رہے کہ سینئرقانون دان ساجد ترین ایڈووکیت کی جانب سے گوادر/جیونی میں پانی کی قلت سے متعلق آئینی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیاگیاتھاکہ دعوئے تو کئے جارہے ہیں لیکن گوادراورجیونی کی عوام پانی کی سہولت سے محروم ہیں،اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود عوام بنیادی ضرورت کیلئے سراپااحتجاج ہوتے ہیں ترقی کے سینکڑوں دعوے اور اربوں روپے لگانے کے باوجود گوادر کی عوام اللہ تعالیٰ کی اہم نعمت سے محروم ہیں جس پرسماعت کے دوران بینچ نے حکومت بلوچستان کو حکم دیاتھاکہ وہ گوادر /جیونی میں پانی کی قلت کے خاتمے کیلئے منصوبوں کوترجیحی بنیادوں پر مکمل اور شادی کور ڈیم سے جیونی/گوادر کیلئے پائپ لائن کی تکمیل جلد سے جلد مکمل کی جائیں۔حکومت بلوچستان کی جانب سے مالی سال 2021-22ء کی پی ایس ڈی پی میں کروڑوں روپے کے پانی سے متعلق منصوبے شامل کئے گئے۔


