سینیٹر عثمان کاکڑ کے لواحقین کی تشویش کو دور کیا جائے، یوسف رضا گیلانی
اسلام آبا د:سینٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے لواحقین کی تشویش کو دور کیا جائے جس پر وفاقی اعظم سواتی نے کہا ہے کہ معاملے پر دودھ کا دودھ پانی کا پانی واضح ہونا چاہئے،حکومت اس معاملے پر ہر قسم کی معاونت کیلئے تیار ہیں جبکہ چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ معاملے پر قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے مشاورت اور حکومت کو آن بورڈ لیکر حکمت عملی بنائی جائے گی۔ جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ، ایجنڈے میں چالیس آئٹمز آئے،ایک نارمل انسان چالیس آٹمز کی تیاری کیسے کر سکتا ہے،افسران اور ملازمین کافی دیر تک کام کرتے رہے ہیں،کم ازم کم دو دن کا وقت تو دیں۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ سیشن کا آخری روز ہے اس لئے ایجنڈے پرلا کر کمیٹیوں کے سپرد کیا جا سکے۔ یوسف رضا گیلانی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ ملک میں آئل ٹینکر کا احتجاج جاری یے،خدشہ ہے اس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ قائد ایوان شہزاد وسیم نے کہاکہ سیشن کا آخری روز ہے،چاہتے ہیں پیش کر کے کمیٹیوں کے سپرد کیا جائے۔ شہزاد وسیم نے بتایاکہ چاہتے ہیں کہ کمیٹیاں بھر پور طریقے سے کام کریں۔سینیٹر شفیق ترین نے کہاکہ عثمان کاکڑ کیلئے تعزیتی قرارداد پیش پاس کرنے پر شکر گزار ہیں،سترہ جون کو سینیٹر عثمان کاکڑ اپنے گھر میں زخمی پائے گئے،ہیڈ انجری اتنا شدید تھا کہ جیسے دس منزلہ عمارت سے گرائی گئی ہو،ان کی موت کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے،اس میں سینیٹ کے ممبران کو بھی شامل کیا جائے،انہوں نے اپنی آخری تقریر میں کہا تھا کہ انکی موت کو گم کھاتے میں نہ ڈالا جائے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ عثمان کاکڑ کے معاملے پر آپ اور میاں شہباز شریف مل کر کوئی حکمت عملی بنائیں،اس معاملے پر پارٹی چیئرمین سے بھی بات کی جائیگی۔ یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ لواحقین کی جو تشویش ہے اس کو دور کیا جائے۔ قائد ایوان شہزاد وسیم نے کہاکہ عثمان کاکڑ کیلئے سینیٹ میں متفقہ قرارداد بھی پاس کی گئی،بلوچستان حکومت اور سندھ حکومت نے اس معاملے پر بہت اچھا اقدام اٹھایا، ان کی موت سے متعلق تشویش ہونے چاہئیں۔ وفاقی وزیراعظم سواتی نے کہاکہ اس معاملے پر دودھ کا دودھ پانی کا پانی واضح ہونا چاہئے،حکومت اس معاملے پر ہر قسم کی معاونت کیلئے تیار ہیں۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ اس معاملے پر قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے مشاورت اور حکومت کو آن بورڈ لیکر حکمت عملی بنائی جائے گی


