پی ٹی آئی رہنماء پر ایک اور حملہ

کراچی:کراچی کے علاقے گلشن معمار میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عیسی خان پر 10روز کے دوران دوسرا قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ اور ڈرائیور محفوظ رہے۔پولیس کے مطابق گلشن معمار میں عیسی خان کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی تاہم خوش قسمتی سے وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ایس ایس پی ویسٹ سہائے عزیز کا کہنا ہے کہ گاڑی پر دو فائر باہر اور ایک اندر سے ہوا۔جبکہ جائے وقوعہ سے پستول کا ایک خول بھی ملا ہے۔سہائے عزیز نے مزید کہا کہ گاڑی اور پستول کے خولوں کو فرانزک کے لیے بھیجا گیا ہے۔واقعے سے متعلق مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 10روز قبل بھی عیسی خان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی تھی جس سے ان کی اہلیہ جاں بحق ہو گئی تھیں۔17جون 2021 کو کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اہلیہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا،عیسی خان اور اہلیہ فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے تھے، عیسی خان کو کلاشنکوف کی دو گولیاں بازو پر لگیں جبکہ اہلیہ کو ایک گولی سرپر لگی،ان کی حالت تشویشناک ہو گئی تھی۔پی ٹی آئی رکن اسمبلی راجا اظہر کا کہنا تھا کہ ملزمان دو موٹرسائیکل پر سوار تھے اور انہوں نے کلاشنکوف سے 6 فائر کیے گئے۔واقعے کے وقت گاڑی میں 6 ماہ کی بچی بھی موجود تھی جو محفوظ رہی۔راجا اظہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ سے عیسی خان کے بازو پر دو گولیاں لگی ہیں اور ان کی اہلیہ کے سر پر گولی لگی۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان تین موٹرسائیکلوں پر سوار تھے جن کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کو گلشن اقبال میں واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔زخمیوں کا ابتدائی بیان بھی ریکارڈ کیا گیا جس میں انہوں نے بتایا کہ واردات میں بڑا اسلحہ استعمال کیا گیا۔پولیس کے مطابق عیسی خان کے ہاتھ اور ٹانگ میں گولی لگی جبکہ ان کی اہلیہ بختاور کے سر میں گولی لگی۔فائرنگ کے وقت خاتون کی گود میں بچی بھی تھی جو محفوظ رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں