اور بجٹ منظور ہوگیا!
جس بجٹ کی دستاویزات معزز اراکین قومی اسمبلی نے اپنے ہاتھوں سے ایوان کے فلور پر نہ صرف پھاڑیں بلکہ انہیں مخالفین(سرکاری بینچوں پر بیٹھے اراکین نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے اراکین پر پھر انہوں نے جواباً سرکاری بینچوں کی طرف)پھینکیں۔یہ کام تین دن جاری رہا۔خواتین ایم این ایز کی موجودگی میں ایک دوسرے کوماں بہن کی ننگی گالیوں سے بھی نوازی گیا۔چوتھے روز قائد حزب اختلاف نے اپنی تقریر مکمل کی، قوم کو یقین دلایا کہ یہ عوام دشمن بجٹ ایوان سے منظور نہیں ہونے دیں گے، بشرطیکہ اپوزیشن متحد ہوجائے۔جب کہ وہ اپنے دل و دماغ کی گہرائیوں تک باخبر تھے کہ جس اپوزیشن کے متحد ہونے کی نیک خواش کا ذکر کر رہے ہیں وہ متحد نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں ہوگی۔ پی ڈی ایم بھی پارہ پارہ ہو چکی ہے،پی پی پی اور اے این پی کو مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل نے شوکاز نوٹس کاری کیا تھا اور دونوں پارٹیاں پریس کانفرنس کے ذریعے یہ کہہ کر پی ڈی ایم سے علیحدگی کا با ضابطہ اعلان کر چکی تھیں کہ یہ کوئی لمیٹڈ کمپنی نہیں،نہ ہی یہ کوئی اتحاد ہے، نہ اس کا کوئی منشور ہے،کہ کسی رکن پارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیا جا سکے۔حتی کہ نون لیگ کے بارے میں بھی ٹوٹ پھوٹ کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔حقیقی منظر قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی توقعات کے برعکس رہا، حکومت نے معزز ایوان سے اپنا بجٹ برائے مالیاتی سال2021-22منظور کرا لیا۔سیاسی اور معاشی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین بھی دو خونوں میں منقسم ہیں،ایک گروپ کہا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں اس سے بہتر بجٹ پیش کرنا ممکن نہیں تھا،جبکہ دوسرے گروپ کی رائے ہے کہ حکومت متوقع نتائج (طے شدہ اہداف)حاصل نہیں کر سکے گی، اور آئی ایم ایف کے شرائط من و عن مانے گی۔البتہ حکومت کے حامی تجزیہ کار دبے لفظوں میں یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر حکومت اپنے اہداف کا 40فیصد بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی ہی جیتے گی۔ انہیں بجٹ میں صنعت اور زراعت دونوں شعبوں کو ساتھ لے کر چلنے کی امید دلائی ہے۔ماضی کے برعکس چھوٹی صنعتوں کو ممکنہ سطح تک فعال بنانے کی راہ نکالی ہے۔چھوٹے کسانوں کو ”کسان کارڈ“ جاری ہوں گے تاکہ ان کے لئے مختص رقم بڑے زمیندار نہ لے اڑیں۔جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان تاجروں اور کاروبار افراد تک پہنچ جائے گا جو ابھی تک ٹیکس ادانہیں کررہے۔ وزیر خزانہ ایسے ٹیکس نادہندگان کو جیلوں میں ڈالنے کا اظہار بھی کر چکے ہیں جو تاجرتمام شواہد دیکھنے اور تاجروں پر مشتمل علاقہ وار کمیٹیوں کے سمجھانے کے باوجود ٹیکس دینے سے انکار کریں گے، انہیں نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔وزیر خزانہ کادعویٰ ہے کہ حکومت نے محکمے کے افسران اور اہلکاروں کی مداخلت اوررشوت خوری کا پرانا نظام مسمار کر دیا ہے۔ایف بی آر اپنا سارا کام کمپیوٹر کے ذریعے انجام دے گا،ملازمین اور افسران کسی مرحلے پر کسی ٹیکس نادہندہ سے براہ راست یابالمشافہ ملاقات نہیں کریں گے۔سارا سسٹم جدید ٹیکنالوجی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ آڈٹ بھی تھرڈ پارٹی کرے گی اور گرفتاری کے احکامات پر وزیر خزانہ دستخط کریں گے۔واضح رہے تاجر برادری آج”ای کامرس“سے روشناس ہے، استفادہ کر رہی ہے۔وزیر خزانہ جوکچھ کہہ رہے ہیں،تاجر برادری سمجھ رہی ہے، اسی لئے اس مرتبہ تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔تاجروں کی نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی سے بے خبر نہیں۔اپنا مال منگوانے کے لئے متعلقہ ڈیلر کو آرڈر واٹس ایپ کردیا جاتا ہے،بل کی ادائیگی آن لائن کی جا رہی ہے۔ اپنے سیلز پوائنٹ (دکان) پربیٹھے بیٹھے سامان خریدا اور بیچا جارہا ہے۔حکومت نے اربوں روپے 12 ہزار روپے فی کس کے حساب سے لاکھوں خاندانو ں میں تقسیم کئے فراڈ کی ایسی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی جیسی ماضی میں لوٹ مار کی نذر ہوجاتی تھی۔ سابق انچارج بینظیر کفالت پروگرام فرزانہ راجہ عدالتوں سے مفرور ہیں۔8لاکھ سے زائد فراڈ ادائیگی کی جا رہی تھی،رقم وصول کرنے والوں میں گریڈ17اور19افسران بھی شامل تھے، جو اپنی بیویوں کے نام پر یہ رقم وصول کر رہے تھے۔موجودہ حکومت کو اچھے کام کی داد دی جانی چاہیئے۔بجٹ منظور نہ ہونے دینے کا بلند بانگ دعویٰ کرنے والے قائد حزب اختلاف اور نون لیگ کے صدرمیاں شہباز شریف اس اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔اپوزیشن کی جانب سے بار بار کئے گئے مطالبے پر گنتی کرائی گئی۔گنتی کے نتیجے میں سرکاری ووٹ172اور اپوزیشن کے 138ووٹ نکلے۔صورت حال کسی تبصرے کی محتاج نہیں۔ عام آدمی جانتا کہ قول و فعل کے اس کھلے تضاد کے محرکات کیا ہیں؟اگر اپوزیشن کے پاس یہ صلاحیت ہوتی کہ حکومت کو کہیں پر روک سکتی،توسابق صدر مملکت اور پی پی پی کے حقیقی رہنما آصف علی زرداری میڈیا کے سوالات کا جواب استعاروں میں نہ دے رہے ہوتے۔اپوزیشن نے سوائے مہنگائی میں بے تحاشہ اضافے کی نشاندہی کرنے کے اور کوئی ٹھوس تجویز نہیں دی۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے مختصر جوابی تقریر میں اپوزیشن کے اہم اعتراضات کا جواب دیا،:”ہم نے جو کہا ہے، انشاء اَللہ کر کے دکھائیں گے“۔سچ یہی ہے کہ عوام اس کے سوا کچھ نہیں چاہتے کہ اپوزیشن ہو یا حکومت،جو کہے اس پر عمل کرے۔ بجٹ اجلاس کا پرامن انعقاد خوش آئندہے۔پارلیمنٹ کے وقار کا خیال رکھا جائے،اب وقت آگیا ہے کہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے قانون سازی میں دلچسپی لیں۔ایف اے ٹی ایف کی تلوار پاکستان کے سر پر موجود ہے،آخری شرط منوائے بغیر نام گرے لسٹ سے نہ نکالنے کا
دوٹوک اعلان صورت حال کی سنگینی ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا، یہ دلیل کام نہیں آئے گی کہ پاکستان میں امن و امان گھانا سے کہیں بہتر ہے۔ منی لانڈرنگ کے ذمہ داروں کو سزا دینا پڑے گی۔مفرور اور اشتہاری ہونے کے یہ معنے نہیں کہ قانون انہیں عدالت میں پیش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اگر کہیں کوئی سقم موجود ہے جو مجرموں کو سزا میں بچنے میں مددگارہے اسے فی الفور دور کیا جائے تاکہ پاکستان کانام گرے لسٹ سے نکل سکے۔بجٹ کی منظوری سے اپوزیشن کو ایک سبق ضرور سیکھنا چاہیے کہ سیاست کسی شخص واحد،چند افراد،کسی ایک پارٹی یا چندپارٹیوں کے نیم دلانہ اتحاداور بلاسوچے سمجھے جذباتی نعروں کے تابع نہیں۔زمینی حقائق کو نظر کیا جائے تو سیاست بند گلی میں پہنچ جاتی ہے۔


