گورنربلوچستان تبدیل
مئی کے پہلے ہفتے سے یہ اطلاع گشت کر رہی تھی کہ بلوچستان کے گورنر جسٹس (ر)امان اللہ خان یاسین زئی کو وفاق تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھیجا گیا ایک خط بھی منظر عام پر آگیا تھا جس میں وزیر اعظم نے گورنر تبدیل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔وزیراعظم کے خیال میں بعض نئے چیلنجز کا سامنا ہے اس کے پیش نظر گورنر کی تبدیلی ضروری ہوگئی ہے۔اگلے روز اس خواہش کے مطابق اقدامات مکمل کر لئے گئے۔سید ظہور آغا نے یہ منصب سنبھال لیا ہے، پیشے کے لحاظ سے کاروباری شخصیت ہیں، سیاسی وابستگی پاکستان تحریک انصاف سے ہے، وزیراعظم کے دیرینہ رفیق ہیں،۔ اسی روز دوسرا اہم فیصلہ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی کووزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے مفاہمت و ہم آہنگیکے طور پر اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے، ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے مساوی ہوگا۔وفاق میں وہ حکومت کے اتحادی ہیں۔انہیں ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ناراض بلوچوں کو راضی کرنا آسان کام نہیں،لیکن شاہ زین بگٹی کے خاندانی پس منظر کی بنیاد پر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ انہیں اس اہم مشن میں کامیابی کے امکانات کسی دوسرے فرد سے کہیں زیادہ ہیں۔مشکلات کے باوجود وہ کوئی راستہ نکال لیں گے۔آج بلوچستان کے نوجوان اور عمائدین ایک بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ بلوچستان کو پسماندگی سے نجات دلائی جائے۔یہاں ترقی اور خوش حالی کا دور نہ صرف شروع ہو بلکہ تادیر بلاتوقف جاری بھی رہے۔جہاں طویل عرصے سے بدامنی کا دوردورہ ہو، گھروں میں لوگوں کی جان و مال محفوظ نہ ہو،سفر خطرے سے خالی نہ ہو۔وہاں سرمایہ کاری کے لئے آنے کی بجائے مقامی لوگ بھی دوسرے علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔اور بلوچ عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔لیکن ایسا صرف پاکستان یا بلوچستان میں رونما نہیں ہوابلکہ ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی تباہی بربادی نے پنجے گاڑے، امریکہ نیٹو افواج کے ساتھ افغانستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی خواہش دل میں بسائے بم برساتا ہواداخل ہوا مگر 20سال بعد اپنے زخم چاٹتا ہوا واپسی کے آخری مراحل عبور کرنے میں مصروف ہے۔اس سے ایک ہی سبق ملتا ہے کہ تمام فیصلے اپنی مرض کے مطابق اور صرف بندوق کے زور پرنہیں ہو سکتے،مذاکرات کی میز ہی مناسب حل مل سکتا ہے۔مذاکرات کے پیچھے دانائی، وسیع النظری،وسیع القلبی اور اخلاص بھی لازمی شرائط میں شامل ہے۔تنگ نظری اور مفاد پرستی کو حاوی نہ ہونے دینا مذاکرات کی کامیابی کا پیشگی تقاضہ ہے جسے پورا کئے بغیر مذاکرات کی میز پر بیٹھنامحض وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔یاد رہے مذاکرات پہلی بار نہیں کئے جارہے، اس سے پہلے بھی متعدد بار یہ رسم دہرائی گئی ہے، مگر اکثرو بیشتر ناکامی کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اس بار بھی کامیابی کے لئے خلوص نیت، دیانت داری اور قومی مفاد کو سامنے رکھنا ازحد ضروری سمجھا جانا چاہیئے۔بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ وفاق اس بار ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ ہے اوراس نے مذاکرات کی کامیابی کے جذبے کے تحت آگے بڑھنے کی بہتر منصوبہ بندی کر لی ہے۔اس کے پاس ناراض بلوچوں کو راضی کرنے کی گنجائش نسبتاً بہتر ہے۔ فی الحال اسے محض قیاس آرائی کہا جاسکتا ہے مگر ماضی میں سنجیدگی کافقدان نمایاں نظر آتا تھا۔اس بار ایک مثبت تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔مسنگ پرسنز کے حوالے سے وفاقی ادارے تسلسل سے یقین دلاتے رہے ہیں کہ جلد ہی یہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا اور تمام شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گوادر ڈیپ سی کے فعال ہونے کے لئے ضروری ہے ناراض بلوچوں کو راضی کیا جائے۔تیسری وجہ یہ ہے کہ عالمی منظر نامہ بھی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔امریکہ کا عالمی سپر پاور ہونے کا دعویٰ ہر گزرتے روز کمزور پڑ رہا ہے۔ چین نے اس خطے میں اپنی حاکمیت منوانے کا نفسیاتی مرحلہ عبور کرلیا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کی جانب سے کسی مفاہمت تک پہنچنے کے لئے پرامید ہونا اسی جانب ایک طاقت ور اشارہ ہے۔ بھارت نے اپنے آئین میں تبدیلی لانے میں عجلت سے کام لیایا اسے چین کی جانب اتنے بڑے ردعمل کا اندازہ نہیں تھا۔اسے اگرلداخ کودہلی کے ماتحت کرنے کے عواقب کادرست اندازہ ہوتا تو وہ یہ غلطی نہ کرتا۔موجودہ زمینی حقائق کودیکھتے ہوئے ہر ذی شعور شخص پوچھ رہا ہے افغانستان سے اپنی کوئی شرط منوائے بغیر پسپا ہوتا ہواامریکہ، بھارت کوچین کے خلاف کسی قسم کی فوجی یا سفارتی مدد کیسے فراہم کر سکتا ہے؟ کاغذات میں ہونا بہت آسان کام ہے،کسی ایک ملک کے دارالحکومت میں،ایئر کنڈیشنڈکمرے میں میز پر دونوں ملکوں کے دو بااختیار عہدیدار دستخط کردیں، دو ملک ایک دوسرے کے اسٹرٹیجک پارٹنربن جاتے ہیں لیکن ہزاروں میل دور سے چین جیسے ملک کے خلاف میدان جنگ میں اترناانتہائی مشکل فیصلہ ہوگا، امریکی مقتدرہ بھی ہزار بار سوچے گی۔اس لئے پاکستان میں ایک دوسرے کے خلاف متحارب فریقین اپنی فہم و فراست کے مطابق ماضی کے مقابلے میں بہتر فیصلے کرنے کی پوزیشن میں آ چکے ہوں گے۔نارضگی کے اسباب کو دور کرنے کے لئے مذاکرات سے استفادہ کرنا ہر لحاظ سے دانشمندانہ اقدام ہے۔بندوق اٹھانا ناراضگی کے اظہار کا ایک روایتی طریقہ ہے۔لیکن صلح کے لئے بندوق رکھ کر مخالف فریق کو عزت سے گلے لگانا پڑتا ہے۔سورۃ الحجرات آیت9میں اَللہ نے مومنوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ اگر تم میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیں۔۔اس کے بعد اَللہ نے مزید فرمایا کے معاہدہ ہوجانے کے بعد اگر کوئی فریق اپنے معاہدے سے پھر جائے تو تم اس پھر جانے والے فریق کے خلاف اس وقت تک مسلح جنگ (قتال)کروجب تک وہ فریق معاہدے پرعمل کے لئے آمادگی نہ ظاہر کرے۔ وفاق اگر اس بار کوئی معاہدہ کرنے میں کامیا ب ہوجائے تو یاد رکھے کہ اس نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کرنی ورنہ اَللہ کے بیان کردہ اصول کے تحت مومنوں کو ساس کے خلاف مسلح جنگ کا حق حاصل ہوگا۔معاہدے کی پابندی فریقین پر لازم ہے۔ خلاف ورزی کو اَللہ کی نافرمانی قرار دیا گیا ہے۔ماض کی غلطیاں دہرانے سے اجتناب کیا جائے۔اسی میں عوام اور ملک کا فائدہ پنہاں ہے۔


