چاغی، سیندک پروجیکٹ میں مقامی افراد کیساتھ مظالم، چائنیز منیجمنٹ کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے کا گھپلا
دالبندین: نیشنل پارٹی چاغی کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہاگیا ہے کہ سیندک پروجیکٹ میں ایک طرف مقامی آبادی اور پاکستانی ملازمین کے ساتھ کورونا کے نام پر بدترین مظالم وپابندیاں جاری ہیں دوسری طرف ملازمین کے نام پر پاکستانی افسران چائنیز مینجمنٹ کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے بٹوررہے ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو سالوں سے کورونا کے بہانے ملازمین کو غلام بناکر سالوں سے قیدکیاگیا ہے جہاں انکے نقل وحرکت پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے مقامی ملازمین کو پانچ دس کلومیٹر کے فاصلے پر موجود انکے گھروں کو جانے کی اجازت تک نہیں پاکستان بھر میں کورونا لاک ڈاون ختم ہوگئی ہے تمام سکولز کھل گئے ہیں مگرسیندک پروجیکٹ میں صرف کوروناپابندیاں پاکستانی ملازمین مقامی لوگوں تک محدود ہیں چائنیزمنیجمنٹ اور پاکستانی افسران آزادانہ طور پر سفر بھی کررہے ہیں اور جب چاہے چھٹیاں بھی کرسکتے ہیں پروجیکٹ میں موجود سکول گذشتہ ایک سال سے بند ہے جس سے سینکڑوں طلباطالبات کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے دوسری جانب پروجیکٹ کی جانب سے ملازمین کو ملنے والا بونس نقدی کی بجائے ایک ایک جوڑا کپڑے کی صورت میں دے کر پاکستانی افسران کرپشن کے اپنے اس پرانی سسٹم سے کروڑوں روپے بٹوررہی ہے کیونکہ سابقہ ادوار میں بھی کبھی تربوزوں کی شکل میں تو کبھی آم کی شکل میں ملازمین کوملنے والے نقدی بونس کے عوض دئے گئے ہیں بیان میں کہاگیا ہے کہ سیندک پروجیکٹ میں مظالم اور کرپشن کی حد ہوگئی ہے اب جو ناقابل برداشت ہوگئی ہے نیشنل پارٹی چاغی بہت جلد نیشنل پارٹی بلوچستان کے لائیرزفورم سے رابطہ کرکے پروجیکٹ انتظامیہ کے خلاف عدالتی راستہ اپنائے گی۔


