حکومت کی پالیسی کو غیروں کا ایجنڈا کہنا مناسب ہوگا،مولانا عبدالحق ہاشمی

کوئٹہ: ملی یکجہتی بلوچستان کے صدر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ قرآن وسنت سے متصادم کوئی قوانین قبول نہیں سودی معیشت مسائل کی جڑہے تفرقے وانتشارکاخاتمہ اور اتحادویکجہتی کی فضاسازگاربنانااور امن کاقیام وقت کی اہم ضرورت ہے افغانستان میں اسلامی حکومت اور طالبان کے ہر اچھے کام کی حمایت کریں گے۔حکومت کا مدارس ودینی مراکز کوتحویل میں لینے کا حربہ ناکام ہوگا۔لادین سیکولر سازشی عناصر کی سازشیں ناکام ہوگی اسلامی حکومت،نفاذ اسلام،دشمن کی سازشیں ناکام بنانے اور مشترکہ کاز کیلئے بلاتفریق جدوجہدکرنے کی ضرورت ہے معمولی اختلافات کو ہوادیکر فرقہ بندی،تعصب ونفرت پھیلانے والے کسی کے خیرخواہ نہیں بلکہ دشمن کاکام آسان کررہے ہیں ان کو غیروں کا ایجنڈاکہنا مناسب ہوگا۔عوام سوشل میڈیا پرجھوٹا پروپیگنڈہ کرکے مسالک ومکاتب فکر کے درمیان سازشیں نفرتیں پھیلانے والوں سے خبر داررہے امت مسلمہ،مذاہب ومکاتب کے درمیان دوریوں ونفرتوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے افغانستان میں پائیدار امن ہی پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے مدرسہ خاتم النبیین ﷺ میں ملی یکجہتی کونسل کے صوبائی اجلاس سے کی صدارتی خطاب کرتے ہوئے کی اجلاس میں مرکزی جامع مسجدکے امام وتحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا انوارالحق حقانی،امام جمعہ شیعہ علما کونسل کے رہنما علامہ جمعہ اسدی،وحدت المسلمین کے علامہ مقصودعلی ڈومکی،اہل سنت والجماعت کے سید حبیب اللہ شاہ چشتی،جمعیت اتحاد العلما کے صدر ڈاکٹرعطا الرحمان،جماعت اسلامی کوئٹہ کے امیر حافظ نورعلی، جماعت اسلامی کے میڈیا انچارج عبدالولی خان شاکر،اسلامک لا مومنٹ کے سید نورالحق،مجلس وحدت المسلمین کے سید ذوالفقار علی سعیدی،سہیل اکبر خان،تنظیم اسلامی کے اقتدار احمد،تحریک خلافت کے سید شمس الحق،سید خورشید احمدشاہ،مولانا سید محمد رضااخلاقی سمیت علمائے کرام نے شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے کہاکہ ہمیں ملکر ہر فتنے،تعصب ونفرت اور فرقہ واریت ولسانیت کو رکھوانے کیلئے مل جل کر مخلصانہ جدوجہد کرنا چاہیے اسلامی قوانین کے خلاف کسی قانون کو قبول نہیں کیا جائیگا عدل وانصاف کا اسلامی حکومت وقت کی اہم ضرور ت ومسائل کا حل ہے اسرائیل ظلم، ذلت، خونخواری اور انسانیت کی پامالی کی آخری انتہا کو پہنچ گیاہے۔ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں مسجد اقصی کی بیحرمتی اور فلسطینیوں کا قتل عام رکوایا جائے۔ پوری دنیا کے مسلم عوام قبلہ اول کی بازیابی، مسجد اقصی کے تحفظ اور فلسطین کی آزادی کے لیے یک جان اور یک آواز ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور قبلہ اول ملت اسلامیہ کی رگ جاں ہے۔ ملی یکجہتی کونسل اپنے قیام کے اول روز سے اتحا د امت اور درد مشترک قدر مشترک کے اصول پر یقین رکھتی ہے۔ کشمیر، فلسطین، افغانستان، شام، روہنگیا، یمن کے مسائل عالم اسلام کے اتحاد کے ذریعے ہی حل ہوں گے۔ امریکہ یورپ اور اسلام دشمن صہیونی طاقتیں تو مسلمانوں کو کمزور اور غلام بنا کر ہی رکھنا چاہتی ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے کہ افغانستان میں ہر طرح کی بیرونی مداخلت بند ہو جائے۔ افغان قیادت اور افغان عوام کو ہی اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق مل جانا چاہیے۔ طویل مدت کی خانہ جنگی اور بیرونی قوتوں کے خلاف مزاحمت نے افغان عوام اور قیادت کو یہ مقام دے دیاہے کہ وہ اپنے مسائل اب خود مل کر حل کرسکتے ہیں۔ بیرونی ہاتھ اور تعاون کے اپنے مفادات ہوتے ہیں یہی بد نیتی مسائل حل نہیں ہونے دیتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں