بلوچستان میں نہتے بلوچوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے جاری کردہ ایک بیان میں تربت کے علاقے گومازی میں دوران فوجی آپریشن کیگد بلوچ کی قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔ سیکورٹی فورسز نے بلوچستان میں اپنا قانون لاگو کر دیا ہے جو پاکستان کے کسی بھی ادارے کے ماتحت نہیں ہے۔ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کو مکمل طور پر چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے عمل میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان میں کاروبار سے لیکر عام معمول کی نوعیت کے فیصلے بھی سیکورٹی فورسز کے ادارے کرتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے اپنا ایک الگ قانون بنایا ہے جس کو ہر چیز کرنے کی مکمل آزادی ہے جس کی وجہ سے مکران سمیت بلوچستان کے کونے کونے میں عام لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ گومازی میں کیگد بلوچ کا قتل اسی کھلی چھوٹ کا سلسلہ ہے جو سیکورٹی فورسز کو دی گئی ہے۔ جبکہ ایک طرف حکومت کی طرف سے بلوچستان میں ناراض بلوچوں سے مذاکرات کرنے کی بات ہو رہی ہے جبکہ دوسری جانب بلوچ روایات اور ننگ و ناموس کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے پہلے بھی پنجگور، آواران، مشکے اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سیکورٹی فورسز نے بلوچ خواتین کو اجتماعی سزا کے طور پر ٹارگٹ کیا ہے۔ حکومت پاکستان فیصلہ کریں کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں یا بلوچستان میں مزید خونزیری کرنا چاہتے ہیں۔بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی جاری سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں سے ایسا نہیں لگتا کہ ریاست بلوچستان میں کسی بھی مسئلے کا حل چاہتی ہے۔
ترجمان نے بیان کے آخر میں پاکستان کے تمام اعلیٰ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری سیکورٹی فورسز کے جرائم کو روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائیں ورنہ بلوچستان میں اس کے سنگین حالات پنپ سکتے ہیں۔ کیا پاکستان میں ایک بھی ایسا اعلیٰ ادارہ نہیں جو سیکورٹی فورسز کو ان سنگین انسانی حقوق کی پامالیو ں جوابدہ کریں۔ بلوچستان میں جاری ان جرائم پر ملک کے عدالت اور ججز کی خاموشی ایک سوالیہ نشان جبکہ فورسز کے اہلکاروں کو مزید انسانی حقوق کو پامال کرنے کی راہ دیکھا رہی ہے۔ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے اعلیٰ اداروں سے بلوچستان میں ان جیسے جرائم کو روکنے کی اپیل کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں