عبیداللہ کاسی کو کچلاک میں سپرد خاک کردیا گیا
کوئٹہ،(سٹاف رپورٹر) عبیداللہ کاسی کو اسلئ ابائی علاقے کچلاک میں سپرد خاک کردیا گیا اے این پی کی مرکزی کمیٹی کے رکن ملک عبید اللہ کاسی کی تشدد زدہ لاشیں برآمد،40روز قبل کلی کتیر سے اغواء کیا گیا تھا۔ملک عبید اللہ کاسی کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ ہاتھ باندھے ہوئے تھے لاش کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ضروری کاروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی گئی قتل کیخلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے کیا گیامظاہرین نے منان چوک کو ٹائرجلا اور رکاوٹیں لگاکربلاک کردیا۔مشتعل مظاہرین نے منان چوک عالمو چوک پرٹائرجلاکرہرقسم کی ٹریفک آمدورفت کیلئے بندکردی جنازے کے موقع پر شرکا سے اے این پی کے صوبائی صدرصوبائی پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو پشتون خوا میپ کے رہنمارضامحمدرضاپیپلز پارٹی کے رہنمابسم اللہ خان کاکڑانجنئیر زمرک خان اچکزئی پشتون خوامیپ کے رہنماؤں خوشحال خان کاکڑیوسف خان کاکڑنیشنل لائرزفورم کے چئیر مین ارباب غلام ایڈوکیٹ ضلعی صدرجمال الدین رشتیاودیگرسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں قبائلی عمائدین نے ملک عبید اللہ کاسی کی شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک عبیداللہ ایک شریف النفس سفیدپوش شہری کاسی قبیلے کے معززفردعوامی نیشنل پارٹی کیذمہ داررہنمااوررکن مرکزی کمیٹی تھے اغواجیسی ناسورکیخلاف حکومت ریاست نے فیصلہ کن اقدامات نہ اٹھائیتوان جیسے افسوس ناک واقعات کاتدارک ممکن نہیں رہیگامقررین نیکہا کہ اغواکاری قبضہ گیری ڈرگ مافیا کے خلاف ہماری سوسائٹی نے بھی مل کران مافیازکے خلاف آواز اٹھاناہوگااوران سے سوشل بائیکاٹ کرتے ہوئے انہیں قابل نفرت بناناہوگا۔عوامی نیشنل پارٹی نے مرکزی کمیٹی ممبر ملک عبیداللہ کاسی کی شہادت کے خلاف آج صوبے بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال اور تین روزہ سوگ کااعلان کردیا۔ گزشتہ روز اے این پی باچاخان مرکز سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پارٹی کے رکن مرکزی کمیٹی شہید ملک عبید اللہ کاسی کے واقعہ کے خلاف آج بروز جمعہ صوبہ بھر میں شٹر ڈان ہڑتال اور تین روزہ سوگ کااعلان کردیا گیا۔کاسی قومی اتحاد کے چیئرمین ارباب ناصر حیدرکاسی کی قیادت میں جمعرات کو کاسی قومی اتحاد کے کارکنوں نے ملک عبیداللہ کاسی کے قتل کے خلاف ائیر پورٹ روڈ کو عالمو چوک کے قریب ٹائر جلاکر ہرقسم کی آمدورفت کیلئے بند کردیاجس کے باعث سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنیں لگ گئیں۔


