ناراض بلوچوں کیساتھ مذاکرات قبائلی طریقے سے ہوسکتے ہیں،نواب رئیسانی

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر) چیف آف ساروان سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے کہاہے کہ بڑے سیاسی جماعتوں کا یہی شکایت ہے کہ موجودہ صوبائی وفاقی حکومت دھاندلی کے ذریعے آئے ییں لیکن اسٹیبلشمنٹ نے ان کو برسر اقتدار لا کرسلیکٹ یا الیکٹ کرکے منصب اقتدار پر بیٹھا یا ھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ہمیں ملکی حالات ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں ایک قسم کی خانہ جنگی ہے سندھ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کریکر کے دھماکے ہوتے ہیں کریکر کو تو ہم پٹاخوں کو کہتے ہیں مگر وہاں اور قسم کے دھماکے ہوتے ہیں، صوبہ پشتونخوا ساوتھ وزیر ستان نارتھ وزیر ستان میں بھی ہمیں حالت ٹھیک نہیں لگتے آج ضرور ت اس بات کی ہے کہ اس فیڈریشن کو کچھ نہ ہو کیونکہ خدا نخواستہ اگر اس فیڈریشن کو کوئی کچھ نقصان پہنچتا ھے یا اللہ نہ کرے ایک خانہ جنگی کا سماں ہوتا ہے تو پھر اس سے بہتر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ،سیاسی جماعتیں اس طرف توجہ دیں کہ اس فیڈریشن کو کس طرح بچانا ہے۔ اتنے عرصے میں پاکستان کے 73,74سال ہوگئے ہیں ہم سنتے ہیں آرہے ہیں کہ پاکستان کو خطرہ ہے پاکستان اسلام کا قلع ہے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے اسلام اللہ تعالیٰ کا دین ہے اللہ تعالیٰ خود اس کے محافظ ہے ہمیں فیڈریشن کوتو اندرونی باہر کے ہمسائیوں کے حالات بھی آپ دیکھے بقول ہمسائیوں کے اسٹیبلشمنٹ وہاں مداخلت کر رہی ہے، افغان عوام اور وہاں کیا حکام بھی یہی کہ رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، جبکہ یہی باتیں ملٹی میڈیا پر بھی ہم سن رہے ہیں،کہ ان کے معاملات میں کھلی مداخلت ہورہی ہے۔ کسی ہمسایہ کے معاملات میں ہمیں مداخلت نہیں کرنی چاہئے، ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرے ہمیں اپنی رائے وہاں پر مسلط نہیں کرنی چاہئے یہ کوئی بھی پسند نہیں کریگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی فیڈریشن کے حالات ٹھیک ہو ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ فیڈریشن کو بہت سے خطرات لاحق ہے۔ناراض بلوچوں کیساتھ مذاکرات بارے نواب محمداسلم خان رئیسانی نے کہاکہ عمران خان سے یہ بات سنی ہے کہ وہ ناراض بلوچوں کیساتھ مذاکرا ت کرینگے اس کا مقصد وہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے مذاکرات کرینگے ہم دیکھنا یہ چاہئیں گے کہ کون کس کے ذریعے مذاکرات کرینگے ہم سمجھتے کہ ناراض بلوچوں کیساتھ مذاکرات کا مسئلہ قبائلی طریقے اور روایات کے ذریعے ہوسکتے ہیں۔نواب شازین بگٹی کے وزیر اعظم کے مشیر بننے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہماری دعا ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوجائیں، 2023کے انتخابات میں وزیر اعلیٰ کے دوڑ میں شامل تھا نہ کسی کو کہاں کہ ہمیں وزیر اعلیٰ بنائیں،میرا کسی سے رابطہ نہیں ہوا ہے مگر ہمارے دوستوں نے ہمیں وزارت اعلیٰ کے دوڑ میں شامل کیا ہے، ظاہر ہے ہر شخص کو یہ شوق ہوگا کہ وہ وزیر اعلیٰ بنے میر ا شوق ی ہے کہ سب سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کو یہ باور کرایا جائے وفاق پاکستان فیڈریشن پاکستان میں قوموں کے تاریخی حقوق تسلیم نہیں کئے جائینگے تو ملکی وصوبائی معامالت ابتری کی طرف جائیگی۔ اس طرح معاملات ہمیں ٹھیک ہونے کو نظر نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جن سیاسی جماعتوں کا الزام ہے کہ انتخابات میں مداخلت ہورہی ہے میں گواہی دیتا ہوں گیارہ پولنگ اسٹیشن کے میرے ریزلٹ بچے ہوئے تھے ہمارا راستہ بند کیا تھا اسسٹنٹ کمشنر نے اپنے آپ کو دفتر بند کیا لیویز کے سپاہیوں کو حوالات میں بھی بند کیا ہمارے لوگوں پتہ نہیں کس طرح 45پولنگ اسٹیشنز کے تصاویر کینچ کر ہمارے پاس کانک پہنچائے،انتخابات کامتاثر میں بھی ہوں آپ سب صحافی برادری پورے بلوچستان کے عوام کو پتہ ہے ہمارے ساتھ اسٹیبلشمنٹ نے کیا کیا؟ میں آزاد ہوں اسمبلی کارکن ہوں میں اس طرح پی ڈی ایم کے ساتھ کہ پی ڈی ایم سول سپر میسی کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔اور ظاہر ہے میں بھی سیاستدان ہوں میں بھی سول سپر میسی کیلئے سیاست کر رہاہوں میں نے اپنا استعفیٰ مشر مولانا فضل الرحمان کو بھیجا تھا کہ قوم کو میری پیغام ہے کہ اپنے صفحوں میں دوست نما دشمنوں سے ڈریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں