بلوچستان کے عوام عزت کے پیاسے ہیں، نواز شریف نے جو ہمارے ساتھ کیا امید ہے پی پی نہیں کریگی، نواب زہری
کوئٹہ:سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری اور جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچستان کے لوگ عزت کے پیاسے ہیں امید ہے کہ نوازشریف نے جو ہمارے ساتھ کیا پیپلزپارٹی وہ نہیں کریگی،نوازشریف نے 22ارکان کو چند ارکان اسمبلی کیلئے قربان کرکے حکومت قوم پرستوں کو دیدی،آج میں دوبارہ اپنے والد کی پرانی پارٹی میں شامل ہورہاہوں سریاب جو غزہ کی پٹی کے نام سے مشہور تھا لوگ آجا نہیں سکتے تھے آج ہم یہاں بیٹھ کر جلسہ کررہے ہیں،دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے آج سے بلاول بھٹو زرداری اور نواب ثناء اللہ زہری وارث ہیں،بلوچستان کو پیپلستان بنا کر صوبے کے کونے کونے میں جئے بھٹو کے نعرے بلند کرینگے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری روزی خان کاکڑ، مرکزی رہنماء حاجی میر علی مدد جتک،سیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی،سحر گل خان خلجی،شریف خان خلجی ودیگر بھی موجود تھے۔اس موقع پر چیف آف جھالاوان سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب ثنااللہ زہری، سابق گورنر بلوچستان سابق وفاقی وزیرجنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ، کے ہمراہ سابق صوبائی وزیرکرنل ریٹائرڈ یونس چنگیزی، سابق صوبائی وزیرنواب محمد خان شاہوانی،سابق صوبائی وزیر آغا عرفان کریم احمد زئی، سابق مشیر وزیراعلی بلوچستان کشور احمد جتک،سابق ضلعی ناظم نصیرآبادسردار چنگیز ساسولی،سردار عمران بنگلزئی،میر عبدالرحمان زہری سابق چیئرمین خضدار،نواب شیرباز نوشیروانی،میر عرفان کرد،میر غازی خان پندرانی، سید عباس شاہ سمیت کئی اہم قبائلی وسیاسی رہنماؤں نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کااعلان کیا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواب ثناء اللہ زہری نے بلاول بھٹو زرداری کو کوئٹہ آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور آج بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم نے مسلم لیگ(ن) کو کیوں خیر آباد کہہ دیاتھا جنرل عبدالقادر بلوچ بیٹھے ہیں جنہوں نے نوازشریف کو ہمارے گھر لائے،ہم نے نوازشریف کو کہا کہ ڈکٹیٹرز نے ہمارے ساتھ زیادتی کی پھانسی دی گئی لیکن ہمیں لاشیں نہیں دی ہم شکر گزار ہیں ان بلوچ اور سندھیوں کے خاص کر ذوالفقار علی بھٹو کے جنہوں نے میرے ماموں اور عزیزوں کے لاشوں کو باعزت طریقے سے ہمیں پہنچایا،ہمیں پنجاب سے کچھ نہیں چاہیے ہمیں صرف عزت چاہیے نوازشریف نے کہاکہ ہم انشاء اللہ آپ کو عزت دیں گے لیکن آپ نے دیکھا کہ میرے بیٹوں کے قاتلوں کے کہنے پر نوازشریف نے ہمیں بے عزت کیا ہم نے پھانسی کے پھندے کو چوما انگریزوں کے دور سے لیکر ہم اپنی عزت کی خاطر سر کٹاتے آئے ہیں لیکن عزت پر کوئی سودا نہیں کیا ہم نے آئی جی آئی کے بعد نوازشریف کوآگے کیا اور غلام اسحاق کے ذریعے سازش کی اور بی بی شہید کی حکومت ختم کرائی اس کے بعدہم نے نوازشریف کو دوبارہ وزیراعظم بنایا اور سب سے پہلے نوازشریف کا شکار غلام اسحاق بنا نوازشریف میں کوئی وفا نہیں،میں مسلم لیگ(ن) کا صدر بنا ہم نے پارٹی فعال کیا تو پھر میں جنرل قادر سے پوچھا کہ جیت ہم رہے ہیں لیکن سننے میں آرہاہے کہ نوازشریف قوم پرستوں کو حکومت دے رہے ہیں تو انہوں نے کہاکہ اگر میری پارٹی جیتی ہے تو میں پاگل ہوں کہ ہم کسی اور کو حکومت دیں گے۔بلوچستان گواہ ہے کہ تیسری نمبر کی پارٹی کو نوازشریف نے 9ممبران پر 22ارکان اسمبلی کو قربان کرتے ہوئے حکومت دی پھر اتحادی حکومت اختلافات کاشکار ہوئے نیشنل پارٹی اور پشتونخوامیپ میں اختلافات کے باعث ڈھائی سالہ معاہدے پرعملدرآمد کرناپڑی اگر نوازشریف کا بس چلتا تو وہ پھر مری معاہدے پرعملدرآمد نہیں کرتا ہمیں عزت چاہیے بلاول بھٹو زرداری صاحب آپ سے توقع ہے کہ نوازشریف نے جو کیا وہ آپ نہیں کرینگے۔میں بھی شہداء کووارث ہوں اور بلاول بھی شہیدوں کا وارث ہے اس لئے ہم نے اس پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہمیں کچھ نہیں چاہیے ہم ایک ورکر کی حیثیت سے کام کروں گااور مسلم لیگ(ن) کیلئے جتنا کام کیااس سے بڑھ کرکام کرونگا کیونکہ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی پارٹی ہے۔میں پیپلزپارٹی میں خون پیسہ ایک کرکے آگے لیکر جاؤں گا۔آئندہ الیکشن میں پاکستان پیپلزپارٹی کو اسی طرح کامیاب کرائیں گے ہماری خواہش ہے کہ مستقبل کا وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری ہوں۔انہوں نے کہاکہ آج مجھے خوشی ہے کہ میں اپنے والد کی پرانی پارٹی میں دوبارہ شامل ہورہاہوں جس کا گواہ صابر بلوچ ہے، کشمیر کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو اور بلاول بھٹو زرداری کے سلوگن کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے،بلوچستان میں جتنے را فنڈڈ عناصر نے جتنے لوگوں کو شہید کیا بلاول بھٹو زرداری اور نواب ثناء اللہ زہری ان لوگوں کے وارث ہیں ہم نے پہلے بھی ہم نے را فنڈڈ لوگوں کا خاتمہ کیا آئندہ بھی کرینگے۔سریاب کو پہلے غزہ کی پٹی کانام دیاگیاتھا وہ کریڈیٹ مجھے جاتاہے کہ آج ہم یہاں جلسہ کررہے ہیں۔بلوچستان آج سے پیپلستان بنے گا بلوچستان کے کونے کونے میں جئے بھٹو کے نعرے بلند ہونگے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری سے ہمارا پرانا رشتہ ہے بلوچستان کے لوگ روایات کے امین اور مہمان نواز ہے ہم آپ کے آباؤاجداد کااحسان کبھی نہیں بھلاسکتے آج کا جلسہ ایک جھلک ہے کورونا وائرس کی وباء کومدنظررکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے تحت بلوچستان کے 34اضلاع سے 10کارکنوں کو مدعو کیاہے۔بلوچستان میں مختلف اقوام آباد ہیں مغرب ومشرق،شمال اور جنوب کی سیاسی صورتحال ایک دوسرے سے مختلف ہیں بلوچستان کا کوئٹہ شہر پاکستان ہے اگرپیپلزپارٹی آنے والے الیکشن میں صحیح معنوں میں پلاننگ کرے تو 12سیٹوں سے زیادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ہماری سیاست بلوچستان کی شخصیات کے اردگرد گھومتی ہے ہم مسلم لیگ(ن) کو بلوچستان میں دفن کرچکے ہیں بلوچستان میں صرف پی ٹی آئی کا قاسم سوری ہے ان کے الیکشن جیتنے پر بھی سنگین نقطے اٹھائے جارہے ہیں میں پاکستان پیپلزپارٹی کومبارکباد دیتاہوں نواب ثناء اللہ زہری اور نواب محمد خان شاہوانی سمیت بلوچ،پشتون ہزارہ اور درجنوں قدر آور شخصیات نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے پیپلزپارٹی بلوچستان کی احساس محرومی اور پسماندگی کاخاتمہ کریگی۔


