قائمہ کمیٹی بحری امور کا اجلاس، گوادر پورٹ اتھارٹی ترمیمی بل مسترد

اسلام آ باد: ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور میں حکومت کو سبکی کاسامنا کرنا پڑا، کمیٹی نے پورٹ قاسم اتھارٹی (ترمیمی) بل 2021،پاکستان نیشنل شپنگ(ترمیمی) بل 2021 اور گوادر پورٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2021 کو کثرت رائے سے مسترد کردیا، ووٹنگ کے دوران بلوں کی حمایت اور مخالفت میں ووٹ برابر ہوگئے جس پر چیئرمین کمیٹی نے اپنا فیصلہ کن ووٹ بلوں کی مخالفت میں دیا، اجلاس کے دوران وزیر بحری امور علی زیدی اور ارکان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جبکہ کمیٹی نے بلوں کو مسترد کرتے ہوئے رائے دی کہ اختیارات وفاقی حکومت کے پاس ہی رہنے چاہئیں اور وزیر اعظم کو منتقل نہیں کرنے چاہیے، اختیارات وزیر اعظم کو منتقل کرنے سے مفادات کاتصادم کا امکان ہوتا ہے اور جب فیصلے وفاقی حکومت(کابینہ) کی جانب سے اجتماعی طور پر کئے جائیں گے تو کرپشن اور مفادات کے تصادم کے کم امکانات ہوں گے۔پیر کو ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے میری ٹائم افیئرز کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران پورٹ قاسم اتھارٹی (ترمیمی) بل 2021،پاکستان نیشنل شپنگ(ترمیمی) بل 2021 اور گوادر پورٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2021پر غور کیا گیا، سیکرٹری میری ٹائم افیئرز نے کمیٹی کو بلوں پر بریفنگ دی، سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے بلوں میں مجوزہ ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ یہ ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہے۔وزارت بحری امور کے حکام نے کمیٹی کو آ گاہ کیا کہ کوئی آئینی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ آئین کا آ رٹیکل 98 وفاقی حکومت کی سفارشات پر ماتحت حکام کو افعال کی ادائیگی کی اجازت دیتا ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی نے کہا کہ اگرارکان کے بلوں پر تحفظات ہیں کہ ان میں ترامیم آئین کے خلاف کی جا رہی ہیں تو وہ واضح کریں اور ان کو تبدیل کیا جائے گا۔وزارت بحری امور کے حکام نے واضح کیا کہ بلوں میں ترامیم خالص طور پر آ پریشنل مقاصد کے لئے کی جا رہی ہیں تاکہ آمدن میں اضافہ کیا جاسکے۔اجلاس کے دوران ارکان نے تجویز دی کہ بلوں پر ووٹنگ کرائی جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے ووٹنگ کرائی تو بلوں کی حمایت میں 8میں سے 4ووٹ پڑے اور4ووٹ مخالفت میں پڑے۔ ووٹنگ برابر ہونے پر چیئرمین کمیٹی نے اپنا فیصلہ کن ووٹ بلوں کی مخالفت میں پڑے جس کے نتیجہ میں تینوں بل کمیٹی نے مسترد کردیئے۔کمیٹی نے رائے دی کہ اس سلسلے میں اختیارات وفاقی حکومت کے پاس رہنے چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں