نئے پاکستان کی بنیاد غریب لوگوں کی زندگیوں پر بننے جا رہی ہے، شازیہ مری

کراچی (انتخاب نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹریز کی مرکزی اطلاعات سیکریٹری ،رکن قومی اسمبلی شازیہ عطا مری نے آج کلفٹن کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہمیں بہت ہی زیادہ تکلیف اور تشویش اس بات پر ہے کہ پاکستان جہاں ویسے ہی بے روزگاری ہے مزید اس نااہل حکومت کے مسلط ہونے کے بعد بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، آج ملک میں دھڑا دھڑ لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کیا جا رہا ہے اس بات پر پاکستان پیپلزپارٹی گہری دکھ، تکلیف اور تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کو سہارا بنا کر جس طریقے سے گیارہ مختلف وفاقی محکموں سے لوگوں کو صرف ایک نوٹس پر گھر بھیجا جا رہا ہے اس پر ہمیں افسوس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان بے روزگار ہونے والے وفاقی ملازمین کے متعلق کیس 2012 میں کیاگیااور 2019 تک کے اس کیس کو سنا گیا، اب 2021 میں اسکا تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ نے سنایا ہے ۔ انہوں بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو 1996 میں سیاسی طور پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور نوکریوں سے فارغ کیا گیا تھا بعد میں انہیں 2010 میں قانونسازی کرکے بحال کیا گیا۔ شازیہ مری نے کہا کہ شاید یہ نالائق حکومت انتظار کر رہی تھی کہ یہ فیصلہ آئے تو پھر وہ دھڑا دھڑ لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کرکے انہیں گھر بھیج دیں، موجودہ نیازی حکومت جھوٹی، بے حس اور نالائق حکومت ہے جنہوں نے لوگوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا جھوٹا وعدہ کیا تھا اور اب لوگوں سے روزگار چھین رہی ہے ۔ ہم سپریم کورٹ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کر کے وفاقی محکموں سے فارغ کیے جانے والے لوگوں پر رحم کرے اور انہیں بحال کیا جائے۔مزید کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے 8 وفاقی ملازمین کو 10 جون کو ایک نوٹس کے ذریعے برطرف کردیا، نااہل حکومت پہلے ہی لوگوں کو اسٹیل ملز، ریڈیو پاکستان دیگر محکموں سے فارغ کرتی آئی ہے اور اب سپریم کورٹ کے آرڈر سے انکو تقویت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس حکومت کو صرف جواز دیا ہے کہ یہ مزید اس طرح سے لوگوں کو نوکریوں سے نکالے، ہمیں سپریم کورٹ سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ ایسا کرے گی، ہم سپریم کورٹ سے گزارش کرتے ہیں کہ خدارا آپ تو یہ نہ کریں جو یہ نالائق حکومت کر رہی ہے اور جس عزت مآب جج نے یہ فیصلہ سنایا وہ دوسرے دن ریٹائرڈ ہوگئے، زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل پاکستان کی عوام کو اتنا تکلیف زدہ فیصلہ سنا کر چلے گئے۔ شازیہ مری نے کہا کہ اس حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کر کے عوام کو بے روزگار کر رہی ہے جس نے آج تک لوگوں کو نوکریاں نہیں دی مگر لوگوں کے گھروں کےچولہے کبھی ملک میں مہنگائی کرکے تو کبھی پٹرول اور بجلی کے نرخ بڑھا کر بجھائے ہیں،شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو لوگوں کو نوکریوں سے برطرف کرنے کے عمل پر شدید دکھ اور تکلیف ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس بات پر اپنی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،انہوں نے کہا کہ کل سوئی سدرن گیس کے 2600 ملازمین کو صرف ایک نوٹس کے ذریعے نوکریوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ سنایا گیا اور مزید دیگر محکموں سے بھی لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کر دیا جائے گا اور حکومت نے یہ جواز بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی پیروی کی ہے جبکہ حکومت کو اس فیصلے پر سپریم کورٹ کے آگے اپیل کرنی چاہیے تھی، جب عمران خان اور دیگر بڑے لوگ کانسٹیٹیوشن ایوینیو ون کی پراپرٹی پر سپریم کورٹ سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں اور اس پر سپریم کورٹ نے ایک کورٹ کا آرڈر بھی منسوخ کیا، وہ بڑے لوگوں کے فلیٹس تھے، جب اس میں کورٹ سے رلیف مل سکتا ہے تو پھر ان برطرف کیے جانے والے ملازمین کو رلیف کیوں نہیں مل سکتا؟
پانی بحران
شازیہ مری نے صوبہ سندھ میں پانی بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت صوبہ سندھ کے اندر پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی بنیادی وجہ ٹی پی اور سی جی لنک کینالز ہیں جن کو پانی بحران کے دوران چلایا جارہا ہے جب تک یہ کینالز کھلے رہیں گے تو لوگوں کو پانی کی قلت کی تکلیف ہوتی رہے گی، ان کینالز کو فوری طور پر بند کیا جائے، صوبوں کے درمیان پانی تقسیم کو برابری کے بنیاد پر1991 کے پانی معاہدہ کے تحت یقینی بنایا جائے۔ یہ چند لوگ ہیں جو اس ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں جنہوں نے کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی نسل اور زبان کے نام پر لوگوں کو آپس میں لڑوایا اور آج یہ لوگ پانی کے معاملے پر لوگوں کو آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں ایسے لوگوں کی سوچ اور ذہنیت پر لعنت بھیجتے ہیں ۔
پی ایم ڈی اے
شازیہ مری نے کہا کہ میرے نزدیک پی ایم ڈی اے ڈویلپمنٹ اتھارٹی نہیں بلکہ پاکستان میڈیا ڈیزاسٹر اتھارٹی ہے یہ ایک اور بدترین میڈیا سینسرشپ کا ذریعہ ہے، اس کے ذریعے ہماری زبانوں، آزادانہ رائے اور سوچ پر قدغن لگایا جا رہا ہے ،ہم یہاں کھل کر بات نہیں کرسکتے، آج ایک صحافی کو اس لیے سزا دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی رائے کا آزادانہ اظہار نہ کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے صحافیوں کو غیر محفوظ کردیا ہے، دہشتگردی کا تو مقابلہ یہ بہادر صحافی کر رہے تھے اور کئی صحافیوں نے بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ بھی کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی آزادی رائے پر پابندی عائد کرنے کے لئے میڈیا ڈزاسٹر اتھارٹی کے قیام کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کو ایک آرڈیننس کے ذریعے مسلط کردیا گیا ہے اور اس پر وفاقی وزیر اطلاعات پے در پے جھوٹ بول رہے ہیں، اور انکی وزارت پروپیگنڈا وزارت کے تحت کام کر رہی ہے، لوگوں کی زبانوں کو خاموش کرنے کے لیے ایک نئی سینسرشپ کو پی ایم ڈی اے کے ذریعے لگادیا گیا ہے اور دوسری جانب دنیا کو صاف امیج دینے کے لئے میڈیا پروٹیکشن کا بھی ڈھونگ رچایا جا رہا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی اس کو مسترد کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں