مقتدرہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ التواء میں نہ ڈالے
کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم عمران خان نے بلوچ عوام کو یقین دلایا تھا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ بہت جلد حل کر لیا جائے گا۔انہی دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کی یقین دہانی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔لیکن زبانی کرائی جانے والی دونوں یقین دہانیاں ہوا میں تحلیل ہو گئیں، کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ لگتا ہے معاملہ ایک بار پھر التواء میں ڈال دیا گیا ہے یا بعض نئی ترجیحات سامنے آنے کی بناء پر ایسا کیا گیا ہے۔سبب کوئی بھی ہو، اس رویہ کی تائید نہیں کی جا سکتی۔واضح رہے جن خاندانوں کے نوجوان ان کی آنکھوں سے اوجھل ہیں، ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہ ہونا درست نہیں،والدین اور بہن بھائیوں کی ذہنی پریشانی دور کی جانی چاہیئے۔اہلِ خانہ کوجتنی جلدی اس کرب سے نجات دلائی جائے اتنا ہی احسن اقدم ہوگا۔ انہیں ہر وقت یہی ڈر رہتا ہے کہ کسی لمحے انہیں اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاش کسی ویرانے میں مل سکتی ہے۔ایسے مناظر ایک سے زائد بار دیکھے گئے ہیں۔وزیر اعظم نے یہ مسئلہ چند ہفتوں میں حل کئے جانے کی نوید سنائی تھی مگر مہینے گزر چکے ہیں۔ وہی پرانی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔یہ درست ہے کہ خطے میں رونماہونے والے بعض اہم واقعات میں حکومت الجھ گئی ہے لیکن پریشاں حال والدین اور بہن بھائیوں کے لئے اہم ترین خبر ان کے پیاروں کی زندہ و سلامت باز یابی ہے۔اگر انہیں بتا دیاجائے کہ اچانک گم ہوجانے والے کہاں ہیں؟ کس کی تحویل میں ہیں؟ تب بھی انہیں ایک حد تک تسلی ہو جائے گی کہ آج نہیں تو کسی قریبی کل کو وہ اپنے پیاروں کو دیکھ سکیں گے، ان سے ملاقات کر سکیں گے۔ اور اگر وہ بدقسمتی سے اس جہان میں نہیں ہیں تب بھی ان کے لئے دعائے مغفرت کرکے انہیں قلبی سکون مل سکتا ہے۔بے سکونی ختم ہو سکتی ہے۔ اس سمت میں مکمل خاموشی درست نہیں۔وزیر اعظم ایک ذمہ دار عہدے پر فائز ہیں، ان کی زبان سے اداہونے والے جملے کسی عام شخص کی گفتگو نہیں کہ بھلا دی جائے، نہ ہی یہ مسئلہ غیر اہم ہے کہ ادھر سے آنکھیں بند کر لی جائیں۔یہ رویہ بداعتمادی پیدا کرتاہے۔اور بداعتمادی پہلے سے موجود رنجشوں میں اضافہ اور ماحول کومزید پراگندہ کرنے میں ایک عامل کے طور پر کام کرتی ہے۔بد اعتمادی کودور کرنے کی ضرورت ہے۔سیانے کہتے ہیں وقت پر لگایا گیا ایک ٹانکا نو(9)ٹانکے لگانے کی زحمت سے بچا لیتا ہے۔ مسئلہ حل کرنے کا اعلان کرکے خاموش ہو جانا اَللہ کو بھی سخت ناپسند ہے۔سورۃ الصف آیت2اور 3 میں ایمان والوں کو مخاطب کرکے سوال کیا گیا ہے:”تم ایسی بات کیوں کہتے ہو؟جس پر عمل نہیں کرتے!“، ”اَللہ کویہ رویہ سخت ناپسند ہے کہ تم ایک بات کہو اور پھر اس پر عمل نہ کرو!“۔ہر ایمان والا اپنی اصلاح کر لے۔وزیر اعظم اپنا مقصد ”ریاست مدینہ“ کا قیام بتاتے ہیں۔اس تناظر میں ان کے قول وفعل میں فاصلہ یا تضاد نہیں ہونا چاہیئے۔یہ رویہ قرآن کی مذکورہ آیات کی روشنی میں پرکھا جائے تو اَللہ کو سخت ناپسند ہے، یعنی ایسارویہ اختیار کرنے کی صورت میں اَللہ کی طرف سے سزا بھی دی جا سکتی ہے۔جیسی ہم سے پہلی اقوام کو دی گئی تھی۔یا 1945 سے مسلم ممالک کو مسلسل سزا مل رہی ہے۔لیبیاء، عراق، شام اور یمن اس کی تکلیف دہ مثالیں ہیں۔پاکستان نے بھی بھاری قیمت چکائی ہے۔حق تلفی انتہائی نچلی سطح پر افراد کریں یا اجتماعی طور پر حکومتوں سے سرزد ہو، سخت نقصان دہ ہے۔اَللہ نے یتیم کو اس کے وراثتی حق سے محروم کرنے والے رشتہ داروں کو نمازی ہونے کے باوجود جہنمی قرار دیا ہے۔ پورے دین کا انکار کرنے والا کہا ہے۔سورۃ الماعون کوپڑھا جائے۔اس کی روشنی میں اپنی اصلاح کی جائے۔ریاست مدینہ میں قرآنی تعلیمات پرعمل انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہے۔ ریاست وعدہ خلافی کریی تو اجتماعی سزاملتی ہے یاد رہے کہ اجتماعی سزا ہمیشہ عبرت ناک ہوتی ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان بھی عالمی برادری کا ایک رکن ہے، کوئی الگ تھلگ جزیرہ نہیں، وعدوں کی پاسداری اور اعتماد کی بحالی کی یہاں بھی اتنی ہی اہمیت اور اثر انگیزی ہے جتنی کہ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں دیکھی جاتی ہے۔مسنگ پرسنز کا مسئلہ ایک حساس اور تکلیف دہ مسئلہ ہے۔ اسے ابتک حل ہوجانا چاہیئے تھا۔تاخیر سے مزید بگاڑ پیدا ہوا، رنجشیں بڑھیں، حکومت مخالف جذبات کو تقویت ملی۔سردار اختر مینگل نے پی ٹی آئی اتحاد سے علیحدگی کی وجوہات قومی اسمبلی میں بیان کی ہیں، انہوں علیحدہ ہونے سے پہلے حکومت کو اس ضمن میں کافی وقت دیا تھا۔ انہیں الگ ہوئے بھی خاص وقت بیت گیا ہے۔اگر اسلام آباد سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتا تو بہت پہلے ہو چکا ہوتا۔ وزیر اعظم عمران خان جانتے ہیں کہ اصل رکاوٹ کیا ہے اور کہاں ہے؟سوال یہ نہیں کہ رکاوٹ چھوٹی ہے یا بڑی ہے؟،ہلکی ہے یا بھاری ہے، سوال یہ ہے کہ اسے حل ہونا چاہیئے یا نہیں؟ اگر حل ہونا عوامی اور حکومتی مفاد میں ہے تو تاخیر کیوں روارکھی جارہی ہے؟یاد رہے وقت کی اپنی اہمیت ہے،بلاوجہ تاخیر برتی جائے توفائدہ کسی کا نہیں، نقصان سب کا ہے۔سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عام آدمی کو یہ منفی پیغام ملتا ہے:”پاکستان میں سول حکومت بے اختیار ہے، اہم فیصلے کہیں اور کئے جاتے ہیں“۔یہ تأثر جمہوری روایات کے منافی ہے۔مملکت کے نام پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔ انتخابی عمل بھی مشکوک قراردیاجاتا ہے۔2013میں اس معاملے کو بڑے پیمانے پر اٹھایا گیا،اسلام آباد لاک ڈاؤن کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لئے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیاگیا، 40قانون شکن واقعات کی نشاندہی ہوئی،ایک ووٹر نے 70 بار ووٹ ڈالا، الیکشن کمیشن ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا، ریکارڈکی جگہ ردی اخبارات نکلے۔ کسی کو سزا نہیں دی گئی، وہی دھاندلی زدہ نتائج کی پیداوار حکومت مسلط رہی۔2018کے انتخابی نتائج بتانے والا کمپیوٹرائزڈ سسٹم ٹھپ ہو گیا۔سچ یہ ہے کہ عام آدمی تنگ آ چکا ہے، یہ تماشہ بندہونا چاہیئے۔ سب سے پہلے ترجیح یا کوشش ہونی چاہیئے کہ غلط فہمی پیدا کرنے اور عدم اعتمادی کو بڑھانے والی بنیادی شکایات دور کی جائیں، اس تأثرکا خاتمہ کیا
جائے۔تاکہ کدورتیں، نفرتیں بد اعتمادی جنم نہ لے سکے۔سب کو یقین ہو جو کہا جارہا ہے اس پر عمل کیا جائے گا۔ مسنگ پرسنز کی دیرینہ شکایت کو حل کرنے میں خود پی ٹی آئی کا بھی مفاد پنہاں ہے۔ایک جانب بلوچ عوام کو ذہنی سکون نصیب ہوگا، دوسری جانب پی ٹی آئی کی نیک نامی اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔جائز کام میں ٹال مٹول درست نہیں۔پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی، تلخیاں بڑھانا نقصان دہ عمل ہے، تلخیاں کم کرنے کی حکمت عملی اپنائی جائے۔


