کابل، برطانوی سفارتخانے کی خالی عمارت سے بعض افغانوں کی دستاویزات ملنے کا انکشاف
لندن :برطانوی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ جب برطانوی سفارت خانے کے عملے نے کابل میں اپنے سفارتخانے کی عمارت خالی کی تو اس سے پہلے حساس مواد کو تباہ کرنے کی ’ہر ممکن کوشش‘ کی گئی تھی۔برطانوی دفتر خارجہ کا یہ بیان برطانوی اخبار ٹائمز کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس کے مطابق برطانیہ کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کی تفصیلات خالی کی جانے والی سفارت خانے کی عمارت میں ’زمین پر بکھری ہوئی‘ پائی گئی تھیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اس خبر میں جن تین خاندانوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کی حفاظت میں مدد کی گئی ہے۔دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ ’کابل میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے عملے نے تیزی سے کام کیا تھا‘۔برطانیہ نے 13 اگست کو، جب طالبان جنگجو افغانستان کابل کے قریب پہنچ گئے تھے، اپنے سفارت خانے کو ہوائی اڈے کے قریب ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا تھا۔دفتر خارجہ پہلے ہی برطانوی شہریوں کو کہہ رہا تھا کہ وہ افغانستان چھوڑ کر چلے جائیں اور مئی میں اعلان کردہ پالیسی کے تحت سابق افغان عملے اور ان کے خاندانوں کو برطانیہ منتقل کرنے کا عمل بھی جاری تھا۔


