جعفر آباد، آبی بحران شدید،ٹینکر مافیا کی من مانے نرخ،عوام پریشان

جعفرآباد:ڈیرہ اللہ یار میں آبی بحران بدستور جاری شہر کے گنجان آبادی کے محلوں کے مکین گزشتہ تین ماہ سے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں سماجی رہنما عبدالمجید بادینی اپنی مدد آپ کے تحت مختلف محلوں میں ٹینکرز کے ذریعے پانی سپلائی کر رہے ہیں جون میں پیدا ہونے والا آبی بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے محکمہ پی ایچ آئی آبی بحران پر قابو پانے اور شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے حکام نے بے بس ہو کر ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں واٹرسپلائی کے تالابوں میں پانی کا ذخیرہ کم ہو کر باقی چند دن کا رہ گیا ہے جبکہ نہریں بھی خشک ہوگئی ہیں پٹ فیڈر کینال سے اندورن کے کمانڈ ایریا کو پانی کی عدم فراہمی کے باعث ڈیرہ اللہ یار میں آبی بحران دن بدن شدید ہوتا جارہا ہے شہید مراد کالونی، مستوئی محلہ،بلوچ کالونی، عمرانی کالونی، جتوئی کالونی، گولہ کالونی، کھرل کالونی، چھلگری کالونی، کھوسہ کالونی، لاشاری کالونی، چاچڑ کالونی سمیت گنجان آبادی کے محلوں میں تین ماہ سے پانی کی سپلائی بند ہے صاحب حیثیت افراد پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فی ٹینکر تین ہزار روپے میں خرید رہے ہیں جبکہ عام غریب شہری قلت آب کے باعث بلکتے رہتے ہیں دن بھر خواتین اور بچے گیلن اور خالی برتن اٹھائے پانی کے حصول کے لیے سرگرداں پھر رہے ہیں شہر میں قلت آب سے سنگین ہوتی صورتحال کی وجہ سے سماجی رہنما عبدالمجید بادینی اپنی مدد آپ کے تحت شہید مراد کالونی میں روزانہ ایک سے دو ٹینکر پانی فراہم کرتے ہیں جس سے چند گلیوں کے مکین اپنے روزمرہ کے برتن ہی بھر لیتے ہیں شہریوں اور سماجی تنظیموں کے مسلسل احتجاج کے باوجود پی ایچ ای حکام آبی بحران پر قابو پانے اور شہریوں کو پانی کی فراہمی میں سنجیدہ اقدام نہیں اٹھا رہے سنگین صورتحال کے باوجود ایکسین پی ایچ ای دفتر سے بھی غائب ہیں شہریوں آصف فیروز لاشاری، توقیر شاہ، حیدر علی و دیگر کا کہنا ہے کہ آبی بحران پر فوری قابو نہ پایا گیا تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے پی ایچ ای حکام کی عدم دلچسپی اور غیر سنجیدگی کی وجہ سے بحران شدید ہوتا جارہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آبی بحران پر قابو پاکر شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں