بلوچ قومی تحریک کے سرخیل سردار عطاء اللہ خان مینگل رحلت کر گئے

کراچی (نمائندہ انتخاب)بزرگ بلوچ رہنماء اور بلوچ قومی تحریک کے سرخیل سردار عطاء اللہ خان مینگل کراچی میں انتقال کر گئے وہ چند روز قبل علالت کے باعث مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملے ان کی عمر 90سال سے زائد تھی۔سردار عطاء اللہ خان مینگل نے بلوچ قائد کی حیثیت سے 6دہائیوں سے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔انہوں نے 1958ء اور1978کے مسلح مزاہمتوں میں حصہ لیا۔سردار عطاء اللہ خان مینگل 1972ء میں بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے انہوں نے1956ء،1962،1970کے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔

سردار عطاءاللہ خان مینگل بلوچ قوم کی تاریخ کے چند عظم لیجنڈری کرداروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے 20 ویں صدی میں بلوچ تشخص اور قومی حقوق کے لئے ناقابل فراموش جدوجہد کی۔ انہوں نے جدوجہد کے لئے کبھی مزاحمت اور کبھی پارلیمانی سیاست کا ذریعہ استعمال کیا۔ وہ صوبہ کے پہلے منتخب وزیراعلیٰ بھی رہے لیکن ان کی حکومت 15 فروری 1972 میں ختم کردی گئی جو صرف 9 ماہ قائم رہی۔
سردار عطاءاللہ خان1928کو مینگل قبیلہ کے سربراہ سردار رسول بخش کے ہاں جنم لیا۔ ابتدائی تعلیم ہائی اسکول بیلہ سے حاصل کی۔ والد کی ریاست قلات سے بدری کے بعد جب وہ سن بلوغت کو پہنچے تو خضدار کے مقام پر ان کی دستار بندی کی گئی۔ انہوں نے 1956 میں پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1958 کو مارشل لاءنافذ ہوا تو مینگل قبائل نے پہاڑوں میں جا کر مزاحمت کی جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ اس دوران ایوب خان کی حکومت نے انہیں سرداری سے معزول کرکے ان کے قریبی عزیز خان کرم خان کو قبیلہ کا نیا سردار مقرر کردیا لیکن چند ماہ کے دوران انہیں قتل کردیا گیا۔ دو سال جیل میں رہنے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ 1962 کو انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور رکن منتخب ہوگئے، سردار صاحب نے 1959 میں لیاری کی آبادی کا انخلاءکرکے وفاقی دارالحکومت بنانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف تحریک چلائی۔ 1970 میں جب یحییٰ خان نے سیاسی جماعتوں پر پابندی ہٹائی تو وہ نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوگئے۔ صوبہ بلوچستان کے قیام کے لئے یحییٰ خان سے مذاکراتی ٹیم میں وہ شامل تھے۔ 1970 کے انتخابات میں وہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1972 میں وہ بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ بن گئے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے 15 فروری 1973 کو ان کی حکومت برطرف کردی تو انہوں نے ایک عوامی رابطہ مہم شروع کردی جس پر انہےں گرفتار کرلیا گیا۔ ردعمل میں لوگ پہاڑوں پر چلے گئے اور ایک مسلح تحریک شروع ہوگئی۔ بھٹو حکومت نے حیدر آباد سازش کیس قائم کرکے سردار مینگل اور این اے پی کی پوری قیادت کے خلاف غداری کا کیس چلایا تاہم 1977 کو مارشل لاءکے نفآز کے ساتھ ہی یہ مقدمہ ختم کردیا گیا ۔ سردار صاحب کو حکومت نے دل کے آپریشن کے لئے امریکہ بھیجا۔ واپسی کے کچھ عرصہ بعد وہ لندن چلے گئے جہاں انہوں نے ممتاز بھٹو، حفیظ پیر زادہ اور افضل بنگش سے مل کر سندھی بلوچ پشتون فرنٹ بنایا جس نے کنفیڈرل نظام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے لندن میں بلوچ پاپولر فرنٹ بھی بنایا۔ 1996 کو وہ واپس آگئے اور بی این پی کی بنیاد رکھی۔ 1997 کے انتخابات میں یہ جماعت سنگل لارجسٹ پارٹی بن گئی۔ سردار اختر مینگل وزیراعلیٰ منتخب ہوئے لیکن 1998ءمیں انہیں استعفیٰ پر مجبور کیا گیا۔ سردار صاحب کا فی عرصہ سے پیرانہ سالی کی وجہ سے صاحب فراش تھے۔
سردار عطاءاللہ مینگل کو بلوچ قوم میں انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ان کا شمار نواب مری، میر بزنجو اور نواب اکبر بگٹی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جنہوں نے اپنے کردار اور کارناموں کی وجہ سے لیجنڈری حیثیت حاصل کی۔ سردار صاحب نے دو مرتبہ حکومت ضرور بنائی لیکن عمومی طور پر وہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ وہ بلوچستان کے باقی سرداروں سے مختلف تھے۔
ان کا وسیع مطالعہ تھا اور ان کی پوری زندگی بلوچ قوم کے لئے وقف تھی۔ سردار عطاءاللہ مینگل نے بلوچستان کی سیاست اور دیگر معاملات پر وسیع اثرات ڈالے۔ ریاست کی نظر میں وہ ایک سرکش رہنما تھے جنہوں نے مرکز کے آمرانہ اقدامات کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ وہ بلوچستان کی مکمل خود مختاری پر یقین رکھتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں