طالبان صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں

سقوط کابل کے چند دنوں ہی بعد طالبان نے پنج شیر وادی پرہلہ بول دیا حالانکہ ابھی تک انہوں نے حکومت سازی کا عمل بھی مکمل نہیں کیا ہے۔ پنج شیر پر حملہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان ایک وسیع البنیاد حکومت بنانے اور تمام گروہوں کو اس میں نمائندگی دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ افغانستان ایک کثیر القومی ریاست ہے جب تک آباد ی کے تمام طبقات کو مطمئن نہیں کیا جاتا اس شورش زدہ ملک میں امن قائم کرنا ممکن نہیں ہے۔ طالبان کو چاہئے تھا کہ وہ پہلے حکومت سازی کا عمل مکمل کرتے، اس میں تمام گروہوں کی نمائندگی کو یقینی بناتے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد پنج شیر پر حملہ کی نوبت نہ آتی بلکہ مخالفین بھی مطمئن ہوجاتے اور ایک دیرپا امن کی بنیاد پڑ جاتی۔ افغانستان 1980 کی دہائی سے شدید خون ریزی کی آماجگاہ ہے، شدید جنگ و جدل غیر ملکی افواج کی آمد خانہ جنگی اور امریکی حملہ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک، لاکھوں زخمی اور بے گھر ہوئے ہیں، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ طالبان اقتدار پر قبضہ کے بعد ایسے اقدامات کریں کہ یہ ملک مزید خانہ جنگی کا شکار نہ ہوجائے کیونکہ یہ اب مزید انسانی المیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اچانک امریکی انخلاء، اشرف غنی کے فرار اور حکومت کے خاتمہ سے پورے ملک میں اشیائے ضروریہ اور ادویات کی شدید قلت ہے، اس صورتحال کو سنبھالنے کے لئے صبر و تحمل اور سنجیدگی کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ نے پہلے ہی عالمی امداد کی اپیل کی ہے، طالبان کو چاہئے کہ وہ ایسا ماحول پیدا کریں کہ عالمی اداروں کا اعتبار قائم ہوجائے، اسی طرح پڑوسی ممالک اور خاص طور پر ملک کے اندر اپنے عوام کے اعتماد کی خاص ضرورت ہے جبکہ اس کے برعکس طالبان جلد بازی میں ہیں اور وہ ایک مخصوص طرز کی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ و ہ پہلے بتا چکے ہیں کہ وہ غیر جمہوری اور مطلق العنان قسم کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جس کی بنیاد عوام کی آراء اور مشاورت کے بغیر ہوگی۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ طالبان فاتح ضرور ہیں لیکن وہ مکمل اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ ملک کی نصف آبادی دیگر اقوام اور نسلی گروہوں پر مشتمل ہے۔ اگر انہیں نظر انداز کردیا جائے تو اس کا اتنا ردعمل ہوگا اور یقینی طور پر لوگ اپنے بنیادی حقوق کے لئے مزاحمت پر مجبور ہوں گے، پتہ نہیں کہ طالبان کو پنج شیر فتح کرنے کی کیا جلدی ہے۔ یہ وقت تو اعتماد سازی کا ہے، اختلافات کو ہوا دینے کا نہیں ہے۔ طالبان کو چاہئے کہ اپنے جنگ زدہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں، اسی طرح عالمی اداروں کا فریضہ ہے وہ اپنی زیادتیوں کا ازالہ کریں اور دل کھول کر اس ملک کی اقتصادی مدد کریں تاکہ اس ملک کی معیشت چلے اور یہاں کے عوام نقل مکانی کرکے دوسرے ممالک جانے کی سوچ ترک کردیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں