امریکہ میں بعداز جنگ بحث شروع
کوئی مانے یا نہ مانے 15سے31اگست 2021کے دوران جو قیامت پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس پر گزری اس نے امریکی مقتدرہ کوجسمانی اور ذہنی طور پر بری طرح جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ایوان بالا سے گلی کوچوں تک سنجیدہ سوال پوچھے جا رہے ہیں۔جو دانشور امریکہ کو دنیاکی لا فانی سپر پاور سمجھے ہوئے تھے ان پر سکتہ طاری ہے، اپنے کرب کا اظہار کرنے کے لئے انہیں مناسب الفاظ نہیں مل رہے۔دنیا جانتی ہے کہ برطانیہ اپنی آنکھیں اور دماغ کی کھڑکیاں بند کرکے جس طرح امریکہ کے پیچھے چل رہا تھا اسے برطانوی شہری بھی پسند نہیں کرتے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانوی دورے کے مناظر ساری قلعی کھول دیں گے۔عالمی سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کے ذہن میں برطانوی اخبارمیں شائع ہونے والا کارٹون محفوظ ہوگا جس میں برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو کتے کی شبیہ میں امریکی صدر کے پیچھے چلتے ہوئے دکھایاگیا تھا،رسی امریکی صدر نے تھام رکھی تھی۔ممکن ہے اسے کارٹونسٹ اوراخبار انتظامیہ کے جذبات کہہ کریہ سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ امریکہ بہت جلد اس شکست کا بدلہ لینے کے لئے دنیا کے کسی اور حصے پر حملہ آور ہوگا۔ مگر برطانوی حکومت امریکہ کے بارے میں آج جوکچھ کہہ رہی ہے اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں۔برطانیہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیاہے:
”ہم امریکہ کو عالمی سپر پاور نہیں مانتے،اس کی حیثیت ایک طاقت سے زیادہ نہیں“۔
سقوطِ کابل سے پہلے برطانیہ نے کبھی امریکہ کے بارے میں ایسے ریمارکس نہیں دیئے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے کہاہے:”اب افغانستان نہیں آئیں گے۔وہ یہ نہ کہتے تب بھی دنیا یقین کئے بیٹھی ہے امریکی مقتدرہ زمینی حقائق کے پیش نظراپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرے گی۔امریکہ نے اس جنگ میں بہت کچھ کھویا ہے جبکہ پایا کچھ بھی نہیں۔امریکی افواج کے افغانستان میں چھوڑے ہوئے اسلحے کے انبار آج افغان طالبان کے تصرف میں ہیں،ان کی مالیت90ارب ڈالر کے لگ بھگ بتائی جارہی ہے۔بہت بڑی رقم اور سرمایہ کاری تھی جوڈوب گئی۔ بلکہ اب امریکہ مخالف استعمال ہوگی۔ٹیکنالوجی کا بھرم بھی جاتارہا۔اس ہاری ہوئی جنگ کے حوالے سے کہاجارہا ہے اخراجات300ملین(30کروڑ)ڈالر یومیہ تھے۔اس رقم کو پہلے 365اور پھر20سے ضرب دے کر مجموعی رقم تین ہزار ڈالر ہو گی۔ اتنے بھاری مالی نقصان کے علاوہ امریکی برتری کے غبارے سے بھی ساری ہوا”شوں“ کرکے نکل گئی ہے۔آئندہ کوئی امریکی صدر کسی ملک کو ”پتھر کے زمانے“ میں پہنچانے کی دھمکی نہیں دے سکے گا۔ویت نام سے بھاگنے کے مناظر جن لوگوں نے دیکھے تھے ان کی اکثریت آج زندہ نہیں،لیکن آج کی نوجوان نسل کابل سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے فرار کو آئندہ 30،40سال فراموش نہیں کرے گی۔کل تک پاکستان کو تحکمانہ لہجے میں کہا جاتا تھا:۔۔۔۔”Do more!“،۔۔۔آج اسی سے امریکی اور برطانوی حکومتیں اپنے شہریوں کے محفوظ انخلاء کی التجائیں کرتی دیکھی گئیں۔درحقیقت یہ شکست اس گھٹیا سوچ کو ہوئی ہے جوپر امن دنیا کو بارودی قوت سے راکھ کا ڈھیر بنانے اور وہاں سے وسائل کی لوٹ مار کے ذریعے اپنی تجوریاں بھرنے تک محدود ہے۔ساری دنیا کو لوٹنے کے بعد بھی اسذہنیت کی تشفی نہیں ہوتی۔ایک ملک کو تباہ کرتے ہی دوسرے ملک پر بمباری شروع کر سی جاتی ہے تاکہ لٹنے والا منظم ہوکر اپنا دفاع نہ کر سکیں۔ افغان عوام نے اپنی دھرتی کو غاصبوں کے ناپاک بوٹوں سے آزاد کرا لیا ہے۔اس عظیم فتح کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔سماجی اور معاشی انصاف کے لئے جدوجہد کرنے والی سوچ کو توانائی ملے گی۔تاریک راہوں میں مارے گئے ان گنت شہداء کی مضطرب روحوں کو سکون،راحت اور مسرت میسر آئے گی۔ظلم ڈھانے والوں کی روحیں شرمسار ہوں گی۔یہ رسم عوام کوملنے والی ہر فتح کے موقع پر دہرائی جائے گی۔ظالم ایسے مواقع پر اسی طرح شرمندہ نظر آئیں گے جیسے آج امریکی مقتدرہ اور اس کے اتحادی نظر آرہے ہیں۔ازل سے ظلم اور نانصافی کی جنگ جاری ہے، ابد تک جاری رہے گی۔اس لئے دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی مدد کی جائے۔ مظلوم کے جذبہ کوسلام پیش کیاجائے۔ساحر لدھیانوی نے درست کہا تھا:”جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے“۔ لیکن تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ جب جنگ چھڑ جائے تو اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔سامراجی ذہنیت کو شکست دینا ضروری ہے،ورنہ اس کا غرور اسے ظلم کی ترغیب دیناجاری رکھتا ہے۔ظلم کرنے پر اکساتا ہے۔1945کی ایٹمی بمباری کا نشہ کابل ایئر پورٹ پر موت کو سامنے دیکھ کر اترا۔اپنے فوجیوں کے چہروں پر خوف کے سائے دیکھ کرامریکی عوام کو براہ راست علم ہواکہ دوسروں پر بم برسا کر قتل کرنے والے اندر سے کتنے خوفزدہ ہیں۔ پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکی دینا اورکمزور حکومتوں سے فون پر یہ سوال پوچھنا کہ تم ہمارے دوست ہو یا دشمن؟بہت آسان ہے۔لیکن سر پر منڈلاتے موت کے سائے دیکھ کو اپنے ہوش و حواس قائم رکھنااس سے مختلف تجربہ ہے۔تاریخ میں درج ہے کہ ساری دنیا کو فتح کرنے کی خواہش لے کر اسکندر اعظم یونان کے جزیرے ایتھنز سے فوج لے کر نکلامگر بلوچستان عبورکئے بغیر ہی اپنے بیمار فوجیوں کے ہمراہ لوٹ گیاتھا۔مشکلات کا علم جنگ کے میدان میں ہوتا ہے۔قدرتی ماحول بھی اجنبی حملہ آوروں کو قبول نہیں کرتا۔ٹریننگ کے دوران لڑی جانے والی جنگ،جنگ نہیں ایک جنگی مشق ہوتی ہے۔ تربیتی جنگ اور حقیقی جنگ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔اس فرق کا اندازہ میدان میں اترے بغیر نہیں لگایا جا سکتا۔دشمن کی طاقت کا اندازہ لگانے میں چوک ہو جائے تو بازی پلٹ جاتی ہے۔امریکی مقتدرہ سے بھی اس بار کوئی دیدہ یا نادیدہ چوک ہوئی ہے۔اس کا علم ہونے میں 20سال لگے۔اور علم ہوتے ہی اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے،آنکھوں کے آگے اندھیراچھاگیا۔ پھر وہی کچھ ہواجو دنیا سمیت امریکی عوام نے کابل ایئر پورٹ پر اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا۔امریکی گلی کوچوں میں جاری بحث اسی اچانک انکشاف کے نتیجے میں دیکھی جانے والی بوکھلاہٹ کانتیجہ ہے۔اسے منطقی انجام تک پہنچنے دیجئے،سب کو پتہ چل جائے گا غلطی کیا تھی؟آئندہ امریکی مقتدرہ اس غلطی سے بچنے کی کوشش کرے گی۔دنیا امریکہ کا صاف ستھرا امن پسند چہرہ دیکھ سکے گی۔”جیو اور جینے دو“کا نعرہ امریکی زبان سے سن سکے گی۔


