ایس بی کے کے وائس چانسلر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مستعفی ہوں، بی ایس او پجار
سردار بہادر خان وومین یونیورسٹی کے وائس چانسلر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فوری مستعفی ہو ۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کے بلوچستان کے سابقہ گورنر جسٹسں ریٹائرڈ امان اللہ یاسین زئی نے گزشتہ روز اپنے ایک انٹرویو میں وومین یونیورسٹی میں رونما ہونے والے واقع میں وائس چانسلر و ڈپٹی اسپیکر کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے اور اس راز سے پردہ اٹھایا ہے کے کہی درخواستیں موصول ہوئی کے لڑکیاں ہراساں کی گئی ہے لیکن ان تمام کو بے بنیاد اور غلط ثابت کر کے جرم میں شامل وائس چانسلر نے رد کردیا ۔ اس سے قبل بلوچستان یونیورسٹی میں بھی بچیوں کو ہراساں کیا گیا اور ناصرف ان بچیوں کی بلکے پورے بلوچستان کو بے عزت کردیا گیا اور موجودہ حکومت نے ان افراد کو بھی سزا کے بجائے واپس انہی کرسیوں پر بیٹھا دیا تاکے وہ مزید ٹویٹر سرکار کو خوش کرسکے ۔
ترجمان نے کہا کے ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت پہلے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں لڑکیوں کے اسکولوں کو بند کیا گیا اور دھمکی دی گی کے اگر کوئی بچی اسکول گئی اسے قتل یا پھر تیزاب پھینک دیا جائے گا ان میں پنجگور اور مستونگ سر فہرست تھے اور گزشتہ 2 ، تین سالوں سے کوئٹہ ا2ر خاص کر یونیورسٹیوں پہ یہ سازش کے تحت حملہ آور ہو گئے ہیں جس میں طالبات کو ہراساں کیا جارہا ہے اور انہیں مجبور کیا جارہا ہے کے یا وہ غلط راستہ اختیار کرئے یا پھر اپنی پڑھائی چھوڑ دے ۔ اساتذہ کا مقام سب سے اونچا ہے لیکن بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بعد وومین یونیورسٹی ( Sbk ) کے وائس چانسلر نے سب کا سر شرم سے جھکا دیا لیکن ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کے اب اس وائس چانسلر کو قطع طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا ۔
ترجمان نے مطالبہ کیا کے فوری طور پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری اور وائس چانسلر وومین یونیورسٹی کو گرفتار کیا جائے اور تحقیقات کرکے باقی تمام ملوث افراد کے خلاف بھی کاروائی کرئے ۔


