غیر قانونی طور پر تعینات وائس چانسلر کو برطرف کیا جائے، اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان

اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے ترجمان نے معزز گورنر اور چانسلر جامعہ بلوچستان کی طرف سے جامعہ بلوچستان کے رجسٹرار کو جامعہ بلوچستان کے1996 کے ایکٹ اور میرٹ کے برعکس متعیّن ڈین کو ہٹانے اور انکی جگہ پرمیرٹ کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر نصیب الله سیماب کو متعیّن کرنے کے احکامات کو خوش آئند اقدام قرار دیا ۔واضح رہے کہ جامعہ بلوچستان کےسابقہ وائس چانسلر نے سابقہ گورنر و چانسلر جامعہ بلوچستان کو مختلف فیکلٹی کے ڈینز کے لئے 1996 کے ایکٹ اور میرٹ کے برعکس نام بھیجے تھے جسکی تعنیاتی سابقہ وائس چانسلر نے میرٹ کے برعکس کی اور سابقہ گورنر نے موجودہ وائس چانسلر کی تعنیاتی بھی میرٹ کے برعکس مارچ 2020 میں کی، اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان نے سابق گورنر کی طرف سے موجودہ وائس چانسلر کی غیر قانونی تعنیاتی اور مختلف فیکلٹی میں غیر قانونی طور پر تعنیات ڈینز کو معزز عدالت عالیہ میں چیلنج کیا لیکن غیر قانونی طور پر تعنیات وائس چانسلر نے اب تک عدالت عالیہ میں جواب ہی جمع نہیں کیا کیونکہ غیر قانونی طور پر متعیّن وائس چانسلر کے پاس جواب ہی نہیں ہے، بیان میں معزز گورنر کے میرٹ کے حق میں اس اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ موجودہ غیر قانونی طور پر متعیّن وائس چانسلر کی تعنیاتی کوبھی برطرف کیا جائے اور جامعہ بلوچستان کے تمام معاملات میں میرٹ پر چلانے کے احکامات 1996 کے ایکٹ کے مطابق صادر فرمائیں. اے ایس اے کے ترجمان نے کہا کہ کہ جامعہ بلوچستان کو اس وقت یرغمال بنایا گیا ہے جہاں انتظامیہ کا حال یہ ہے کہ اس وقت مختلف عدالتوں میں جامعہ بلوچستان کی بدانتظامی کےخلاف درجن بھر سے زائد کیسز چل رہے ہیں جن میں اساتذہ، ملازمین اور آفیسران کی تعیناتی، یونیورسٹی کالونی میں میرٹ کے خلاف الاٹمنٹس، استاذہ کے کے عہدوں پر ٹیسٹ، پروموشنز، اور دیگرانگنت بدانتظامیاں. اور ساتھ ساتھ غیر قانونی طور پر تعیناتیوں کو بھی منسوخ کیا جائے.اورمتعیّن ڈینز کو بھی 1996 کے ایکٹ کے تحت میرٹ کے مطابق پروفیسرز کو ڈینز متعیّن کیا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں