کیچ، چادرو چاردیواری کے تقدس کا خیال نہ رکھتے ہوئے پولیس نے ایک معصوم کی جان لی ہے، ظریف رند

کیچ(انتخاب نیوز)پولیس نے ایک بار پھر اپنے روایتی کردار کو دہراتے ہوئے، آج بلیدہ ضلع کیچ میں ہمارے گھر پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکیا، خواتین و بچوں پر اندھادند گولیاں برسائیں جس میں میرا دس سالہ بھتیجا رامز خلیل پولیس کی گولیوں سیجاں بحق ہو گیا ہے جبکہ 8 سالہ رایان خلیل گولی لگنے سے زخمی ہوااورمیرے بڑے بھائی خلیل رند کوگرفتار کرکے لے گئی ہے۔یہ حملہ پولیس نے آج صبح فجر کے وقت کیا ہے۔ جب گھر پہ تمام افراد سو رہے تھے۔ گھر کی چادر و چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے پولیس نے بغیر ایف آئی آر، بغیر وارننگ، بغیر اطلاع، یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ہم سوال کرنا چاہتے ہیں اس ملک کے رکھوالوں سے، اسکے اداروں سے، اسکی حکومت سے، اعلیٰ عدلیہ سے اور زمہ دار حلقوں سے کہ یہ کونسا آئین کونسا قانون کونسے اقدار ہیں کہ جن کے ذریعے ملک کے شہریوں پر اس طرح کے بہیمانہ حملے ہوں اور عوام کی زندگیوں کوجہنم بنایا جائے؟ بہرحال پولیس کے اس عمل پر ہم چپ نہیں بیٹھیں گے، اسکا جواب ضروردیں گے۔ آئے روز لاشیں اٹھانے اور دفنانے سے ہم تھک چکے ہیں۔ جاں بحق رامز خلیل کی میت کو ہم کسی صورت نہیں دفنائیں گے۔ اپنے کمسن بچے کی میت کو لیکر ہم پہلے تربت شہید فدا چوک پر دھرنا دینگے، بعد ازاں میت کو لیکر کوئٹہ اور پھر اسلام آباد کی جانب مارچ کرینگے۔ اگر سیکیورٹی ادارے ہم پر گولیاں برسائیں گے تو پھر یہ کارنامہ اب وہ شہر کے چوک و چوراہوں پر سرانجام دیں۔ مزید رات کی تاریکی میں بے بس مارے جانے سے ہم انکار کرتے ہیں۔ میں گزارش کرتا ہوں؛ سیاسی و سماجی کارکنان سے، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء، اساتذہ، صحافی و لکھاری، محنت کشوں کی انجمنوں اور تمام ذمہ دار مکاتب فکر سے کہ وہ ان غیر انسانی رویوں کے خلاف ہمارے ساتھ ہم آواز ہوں اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے ہماری مدد کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں