خوش فہمی میں مبتلا لوگ

زبیر بلوچ
ایک طرف جہاں عالمگیر کورونا وبا نے پوری دنیا میں تباہی کے آثار دیکھانا شروع کردیا ہے وہیں جدید ریاستوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے بڑی بڑی معیشتوں کا دھڑن تختہ کر دیا ہے، سماجی و سیاسی زندگی کو دنیا بھر میں منجمد بنا کر رکھ دیا،کھیل کے تمام ذرائع کو بند کرکے رکھ دیا ہے، مکہ مدینہ جیسے جگہیں کرنوں بعد مجبوری کی حالت میں ویران ہیں، کروڑوں لوگ اپنی نوکریاں کھو رہے ہیں، سٹاک مارکیٹ نیچے گر رہی ہے، کئی ملکوں کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، کئی ممالک مزید قرضوں میں ڈوبے جا رہے ہیں سپرپاور ملکوں کو اپنی براجمان طاقت کیلئے ڈر اور خوف پیدا ہونے لگی ہے، دنیا بھر کے ڈاکٹرز سر جوڑ کر ایک طرف ویکسین کی تیاری اور دوسری طرف انسانوں کی زندگیاں بچانے کیلئے کوشش میں لگے ہیں لیکن ابھی تک ناکامی سے دوچار ہیں، عالمی صحت اور اقوام متحدہ جنگِ عظیم دوئم کے بعد دنیا میں سب سے بڑے بھیانک انگیز اور خطرناک وقت کا سامنا کر رہے ہیں، امریکا اٹلی اسپین فرانس اور ایران جیسے ملکوں میں لوگوں کو دفنانے کیلئے اجتماعی قبریں کھودی جا رہی ہیں، دنیا بھر کے مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد ہو چکی ہے، امریکا اور اٹلی جیسے ممالک میں اسپتالوں میں لاشوں کو رکھنے کا جگہ نہیں تو لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں کو اپنا جگر چیر کر سڑکوں پر چھوڑ رہے ہیں یورپی یونین جیسے مضبوط و مربوط اتحاد اپنے وجود کو خطرہ میں محسوس کر رہی ہیں، ملائشیا جیسے ممالک میں سرکار بھوک کی تڑپ پر گھروں سے نکلنے والوں کو گولیوں سے چلنی کیا جا رہا ہے، معیشت کا حال کچھ بھی ہو دنیا کے تقریباً تمام ممالک مکمل لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، کروڑوں لوگوں کی بھوک سے مرنے کا اندیشہ ہے، دنیا بھر میں جو لوگ جہاں رہ گئے ہیں وہیں پھنس گئے ہیں، طیاروں کی پروازیں بند ہوچکی ہیں کروڑوں لوگوں کی بے گھر ہونے کا عندیہ سامنے آ رہا ہے، ہوٹل، ریسٹورنٹ اور مینوفیکچرنگ مکمل منجمد پڑ گئے ہیں، بڑی بڑی بزنس،فیکٹری،میڈیا ہاؤس،صنعتی ادارے، کنسٹریشن، پروجیکٹس اور کاروبار کولیپس کرنے جا رہے ہیں،امریکا جیسے ممالک وینٹی لیٹرز اور ٹیسٹنگ کٹس کیلئے جیسی بنیادی طبی سہولیات کیلئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، دنیا کا سیاحت جام ہوکر رہ گیا ہے، دنیا بھر کے تمام اسکول کالجز اور یونیورسٹیز بند پڑی ہیں عالمی ادارہ اپنی وجود کیلئے پریشان ہے، دنیا بھر کی حکومتیں خطرے میں آ چکی ہیں، تیل کی قیمتیں نیچے گرتی جا رہی ہیں مختصرا ہم کہہ سکتے ہیں عالمی دنیا ایک ایسی انوکھی حالات سے نبردآزما ہے جہاں سائنسدان، سیاستدان، معیشت دان، فلاسفرز، ماہر نفسیات، دانشور، ماہرین اور معلم سمیت کسی بھی سیاسی و سائنسی ادارے کے پاس اس کا جواب نہیں کہ کیا جائے تو کیا کیا جائے؟ جس کے بعد کچھ نے مکمل لاک ڈاؤن تو کچھ سوچ و بچار میں جبکہ کچھ ممالک دوسروں کو دیکھ کر وہی سب کچھ کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ لیکن تادمِ تحریر اب تک نا دنیا کے کسی سیاستدان کے پاس جواب ہے نا کسی سائنسدان کے پاس، ویکسین تیار کرنے کیلئے کربوں ڈالر کر خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک صرف کچھ دعوی کے علاوہ کوئی واضح اور جامد ویکسین کی تیاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
اس وقت تک دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق عالمی معیشت سے عالمگیر وباء کورونا وائرس کے باعث 347 ارب ڈالر کی نقصان کا اندیشہ ہے، آئی ایم ایف جو دنیا کی معیشت کا حب سمجھا جاتا ہے کے ترجمان نے کہا تھا کہ سخت مشکلات آ پہنچی ہیں، دنیا بھر سے اپیلیں آرہی ہیں تقریباً دنیا بھر سے بشمول پاکستان 80 سے زائداکثر ممالک نے کورونا کا مقابلہ کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی طرف ہاتھ پھیلائے ہیں، لیکن آئی ایم ایف سے قرض لینے کی صورت میں ادارے کے بہت سے شرائط کو بھی ماننا پڑتا ہے لیکن اس دوران قریب ممالک قرض کیلئے کسی بھی شرائط کو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں، کیونکہ ایسی معاشی تباہ کن وباء کا سامنا کرنے کیلئے سوچ سے زیادہ پیسہ لگانا ہوتا ہے جو ہر ملک کے پاس نہیں ہے۔ امریکا اور جاپان جیسے ممالک نے اس وائرس سے نمٹنے کیلئے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات جبکہ طبی عملہ کو ضرورت کے مطابق طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ایک ایک ٹریلن ڈالر کا بجٹ پاس کیا ہے جبکہ دیگر ترقی پذیر ممالک چاہ کر بھی ایسی خطیر رقم مختص نہیں کر پائیں گے۔ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر معاشی اداروں کے بیانات کو نظر میں رکھا جائے تو 2007 کی گریٹ ریسیشن کے بعد موجودہ معاشی بحران دنیا کا سب سے بڑا معاشی بحران ہونے جا رہا ہے گمان یہ ہے کہ ترقی پذیر اور غریب ممالک اس دوران قرضوں کے بیچ ایسے پھنس جائیں گے جن کو پھر سے ان کی ادائیگی میں دہائیاں لگیں گی۔ دنیا کے دگرگوں حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ جیسے مظبوط و مربوط معاشی ممالک میں لوگ اشیاء اور خوردونوش کی خاطر مافیاز کی طرف ہاتھ پھیلا رہے ہیں، برطانیہ کے شمالی علاقے میں لوگ ضروری اشیاء سے محروم ہیں جنہیں سرکار اچھی طرح مدد کرنے سے مکمل طور پر قاصر جس کے بعد مافیاز لوگوں کو اپنی طرف لانے کیلئے کھانا تقسیم کر رہے ہیں، مافیاز کا مقصد لوگوں کو اپنی طرف رائج کرنا ہے لیکن عام لوگ بھوک و افلاس کی وجہ سے جانے پر مجبور ہیں۔
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح حکومتی نالائقی اور بدترین منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے کورونا وائرس پاکستان میں بھی مکمل طور پر اپنے پنجے گاڑ چکا ہے، پاکستان کے چاروں صوبوں میں کورونا کے مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ کچھ دنوں سے مقامی سطح پر کیسز کی شرح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے تازہ رپورٹ کے مطابق کورونا کے متاثرین میں 62 فیصد مقامی سطح کے ہیں مطلب اب یہ وائرس بڑی تیزی کے ساتھ مقامی سطح پر پھیل رہا ہے جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اب وائرس عام لوگوں میں اپنی جڑیں بنا رہا ہے اس چودہ دنوں کے لاک ڈاؤن میں حکومت اور اداروں کو بہترین کارکردگی دکھانی چاہیے تھی۔ اس میں مکمل طور پر ناکام نظر آئے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ حکومت وقت اور صاحبِ اختیار اس خوش فہمی اور خوش گمانی میں رہے اور وہ اس پورے دو ہفتے کے دوران وہ اس بات پر پھولے نہ سمارہے ہیں کہ پاکستان میں کورونا اس طرح نہیں پھیلا ہے جس طرح دنیا کے دیگر ممالک میں پھیل چکا ہے، یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ آیا کورونا وائرس کے کیسز کی تشخیص کس طرح کی جا سکتی ہے جبکہ پاکستان میں کورونا ٹیسٹنگ کا نظام شائد دنیا کا بدترین نظام ہے، بلوچستان کی ہی مثال لیتے ہیں جہاں 32 اضلاح میں صرف ایک کوئٹہ میں ٹیسٹنگ سسٹم موجود ہے اور وہ بھی ایک بہت ہی چھوٹے پیمانے پر قائم ہے۔ صوبائی حکومت کا ترجمان آئے دن آکر خوشی سے کہہ دیتے ہیں کہ صوبے میں کیسز کم ہیں جبکہ جتنے ہیں زیادہ تر کا تعلق کوئٹہ سے ہے اب بندھا عقل سے کام لیں تو سمجھ جائے گا کہ جہاں ٹیسٹ ہوگا ہی نہیں لوگ کیسے پہچانیں گے کہ کورونا کے کتنے مریض ہیں، یہ باتیں میں ہی نہیں بلکہ عدالت نے بھی کی تھی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں پربرہمی کا اظہار کیا تھا۔ جس طرح نالائقی سے پاکستان میں کورونا وائرس کو پھیلا یاگیا اب اسی نالائقی اور غیر سنجیدگی و غیر سیاسی طور پر کورونا وائرس کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ عمران خان اپنی کابینہ کے ساتھ بجائے کورونا کو روکنے کے سندھ کو فتح کرنے نکلے ہیں، چونکہ اب تک اگر حقیقی پیمانے پر جائزہ لیا جائے تو کورونا کو روکنے کیلئے باقیوں سے سب سے زیادہ بہترین کام سندھ حکومت نے انجام دیا ہے۔ پوری وفاقی حکومت نے اپنے دو ہفتے سندھ فتح کرنے کیلئے گزار دیے اور خوشیاں مناتی رہی کہ کورونا کیسز لاکھوں میں نہیں ہیں لیکن پچھلے دو تین دنوں سے جس طرح مقامی سطح پر پھیل رہا ہے یہ جلد ان کے غرور کو خاک میں ملائے گا۔
یہی رویہ ہمیں امریکا میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں ابتدائی دنوں میں کورونا کے خلاف بروقت کارروائی کرنے کی بجائے کیسز کو کم سمجھ کر نظرانداز کیا گیا اٹلی کو بھی اسی خوش گمانی نے اس حالت میں ڈال دیا ہے، پاکستانی سیاستدانوں کی غیر سنجیدہ حرکتوں کو دیکھ کر کوئی بھی شخص یہ ذہن نشین کر سکتا ہے کہ کورونا بہت ہی جلد پاکستان میں انتہائی بڑے پیمانے پر پھیل جائے گا اور پھر حالت امریکا سے بھی بدتر ہونگے۔ جس کا اندیشہ کئی عالمی ادارے پہلے سے ہی دے چکے ہیں۔ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے باوجود اجتماعات ہو رہے ہیں بلکہ سب سے بڑے اجتماع تو وزیر اعظم کے اپنے کارکنان چندہ دینے کے نام پر کر لیتے ہیں، جہاں ہزاروں افراد کی قطاریں لگا دی جاتی ہیں۔ حالات کا مقابلہ کرنے کی ناکامی واضح طور پر دیکھائی دے رہی ہے، مساجدوں میں باجماعت نماز کی ادائیگیاں بدستور جاری ہیں، لاک ڈاؤن کے باوجود ملک بھر کے کئی شہروں میں لوگوں نے دکانیں کھول دی ہیں، تاجروں نے صاف طور کہہ دیا ہے کہ وہ مزید حکومتی لاک ڈاؤن کو برداشت نہیں کر پائیں گے، لوگوں کا رش اب بھی جاری ہے جو ان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اب بچ گئی ہے خوش فہمی جس میں وہ مزید کچھ دن رہ سکتے ہیں، لیکن جب اسپتالوں میں مریضوں کی جگہ کم پڑ جائے معیشت تباہ ہو جائے تمام ادارے ملکر بھی کچھ نہ کر پائیں تب اس ملک کے غیر سنجیدہ حکمران ہوش کے ناخن لینگے۔
٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں