خضدار کی سب تحصیل سارونہ کا علاقہ کوڑیانگ علم سے محرومی کی تصویر
تحریر: عارف مینگل
ڈسٹرکٹ خضدار کی سب تحصیل سارونہ کا علاقہ کوڑیانگ جو تقریباً پندرہ کے قریب دیہات پر مشتمل ہے، آج بھی ترقی کی بنیادی ضرورت یعنی تعلیم سے محروم ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں جدید دور کی سہولتیں تو دور، علم کی ابتدائی روشنی بھی ابھی تک نہیں پہنچی۔ پورے علاقے میں ایک بھی اسکول موجود نہیں۔ اسکولوں کی عدم موجودگی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہاں کے معصوم بچے قلم اور کتاب کی بجائے بھیڑ بکریاں چرانے پر مجبور ہیں۔ ان بچوں نے نہ کبھی اسکول کی گھنٹی کی آواز سنی ہے، نہ کبھی تختی یا کتاب ہاتھ میں تھامی ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ استاد کیا ہوتا ہے، جماعت کا ماحول کیسا ہوتا ہے، یا تعلیم انسان کی زندگی میں کیسا انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ جہاں دوسرے علاقوں کے بچے خوابوں کی تعبیریں پڑھتے ہیں، وہاں کوڑیانگ کے بچے زندگی کی بنیادی سہولت یعنی تعلیم کے تصور سے ہی ناواقف ہیں۔ یہ محرومی نہ صرف ان بچوں کا مستقبل تاریک کر رہی ہے، بلکہ پورے علاقے کو ترقی کی دوڑ سے بہت پیچھے دھکیل رہی ہے۔ کوڑیانگ کے عوام آج بھی اسی امید میں ہیں کہ شاید کوئی ان کی بے بسی کی آواز سنے، کوئی ادارہ، کوئی حکومت ان کی حالت زار پر رحم کھائے اور یہاں تعلیم کی روشنی بکھیرنے کے لئے اقدامات کرے۔ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو یہاں کی آنے والی نسلیں بھی اسی جہالت کے اندھیرے میں بھٹکتی رہیں گی تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔کوڑیانگ کے ان محروم بچوں کو بھی اس حق سے آشنا کیا جائے، تاکہ وہ بھی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں اور اپنے علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔


