ٹرمپ اور یوکرینی صدر کے درمیان ہاتھا پائی

تحریر: انورساجد ۔۔

ایسے لگ رہا تھا کہ ایک کوکینی ہے دوسرا ہیروئنی اور دونوں ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے والے ہیں۔ یہ تھے روئے زمین کی سب سے بڑی جماعت امریکہ کے صدر ڈونالڈو ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ذیلنسکی۔ اگرچہ میرے پاس کوئی ریکارڈ نہیں کہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں یا یہ پہلا واقعہ ہے۔ تلخ جملوں کے تبادلہ کے بعد ایک مرتبہ ٹرمپ نے یوکرینی صدر کو ہاتھ بھی لگایا لیکن ذیلنسکی نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ حالانکہ جب یوکرینی صدر وائٹ ہاؤس پہنچے تو ٹرمپ نے دروازے پر جا کر ان کا خیرمقدم کیا لیکن جب ملاقات شروع ہوئی تو حالات کشیدہ تھے۔ ٹرمپ نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا اچانک یوکرینی صدر کو کوسنا شروع کردیا اور کہا تم تیسری عالمی جنگ کے سٹہ کھیل رہے ہو اور تم کو امریکہ کی مہربانیوں کاکوئی پاس نہیں ہے۔ یوکرینی صدر ڈرا نہیں اور یہی کمال کی بات ہے۔ انہوں نے اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی لیکن ٹرمپ نے ایسا کرنے نہیں دیا۔ اس موقع پر جب نائب صدر وینس نے زور دے کر کہا کہ آپ جنگ ختم کردیں تو مسٹر ذیلنسکی نے کہا کہ مسٹر چیخو مت اس پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چیخ نہیں رہے بات کررہے ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ آپ صدر امریکہ کی توہین کررہے ہیں۔ کافی بحث و مباحثہ کے بعد یوکرینی صدر اٹھ کر چلے گئے۔ شاید ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہوگا کہ جاؤ دفع ہوجاؤ۔ پروگرام کے مطابق ایک معاہدہ پر دستخط ہونے تھے جس میں یوکرین کو اپنے تمام معدنی وسائل تاوان جنگ کے طور پر امریکہ کے حوالے کرنا تھے۔ جب ذیلنسکی نے کہا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو ہم بہت مشکل حالات میں تھے اور تنہا تھے اس پر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہماری امداد اور اسلحہ نہ ہوتا تو آپ دو ہفتہ بھی جنگ نہیں لڑ سکتے تھے۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ امریکہ یوکرین کی سلامتی کی ضمانت دے۔ ٹرمپ نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ کی نہیں یورپ کی ذمہ داری ہے۔
ٹرمپ اور یوکرینی صدر کی ملاقات کو کس کے حکم پر لائیو دکھایا گیا یہ معلوم نہیں ۔ میرے خیال میں اس سے امریکی صدر کی سبکی ہوئی اور بہت کمتر درجہ کے رہنما کو ان کے برابر آنے کا موقع ملا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سب سے بڑی طاقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والے کمزور لوگ بھی موجود ہیں۔ اگرچہ اس واقعہ کے بعد یورپ کے بیشتر ممالک نے ذیلنسکی سے اظہار یکجہتی کیا لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ یورپی یونین میں امریکہ کا مقابلہ کرنے کا دم خم نہیں ہے۔ ابتدائی انکار کے باوجود یوکرینی صدر مجبور ہوگا کہ وہ روس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کرے۔ گویا ادھرجنگ بندی ہوئی ادھر ولادیمر ذیلنسکی کا بوریا بستر گول ہوگیا۔ امریکہ نے ملاقات کے آخر میں یہ بھی کہا کہ اگر یوکرینی صدر جنگ پر آمادہ ہوگئے تو وہ دوبارہ وائٹ ہاؤس آسکتے ہیں اور غالب امکان یہی ہے کہ وہ بے عزتی کے باوجود اسے آنا پڑے گا۔ ادھر روسی حکومت نے یوکرینی صدر کو آڑھے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ مسٹر ذیلنسکی امریکی صدر کے سامنے گستاخی کے مرتکب ہوئے ہیں اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک کوکینی سے یہی توقع کی جاسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ذیلنسکی کوکین استعمال کرتے ہوں لیکن صدر ٹرمپ ہر طرح کا نشہ چھوڑ چکے ہیں۔ وہ جوانی میں پلے بوائے کا کام کرتے رہے ہیں اور بلا کے مے نوش بھی رہے ہیں۔ لیکن کافی عرصہ پہلے وہ ہر طرح کی منشیات کے استعمال سے اپنی جان چھڑا چکے ہیں۔ البتہ ان کا انداز باڈی لینگویج طرز مخاطب مخالفین پر لعن طعن کرنے کے انداز سے ایسے لگتاہے کہ وہ نشے میں ہیں۔ صدر ٹرمپ بہت مختلف انسان ہیں وہ روایتی آداب اور سفارت کاری کو بھی درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔ اس مرتبہ تو بہت مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔ میرے ذہن میں آیا کہ اگر ہمارے وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر کے سامنے بیٹھے ہوتے اور ٹرمپ ان پر چڑھائی کرتے تو وہ کیا جواب دیتے۔ زیادہ سے زیادہ جی سر اور نہیں سر کہتے اور ہاتھ باندھے بیٹھے رہتے۔ ملاقات کے بعد کہتے کہ اللہ کا شکر ہے کہ جان بچ گئی۔ بڑی طاقتوں کی باتیں وہ ہی جانیں لیکن ٹرمپ نے آتے ہی بے شمار محاذ کھول دیئے ہیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے یورپی اتحادیوں اور اپنے دو بڑے ہمسائیوں کینیڈا اور میکسیکو کو بھی ناراض کردیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ یوکرین کی مخالفت کی وجہ سے پوٹن کا ساتھ پائیں اورانہیں چین سے دور کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ لیکن اسے چین کا جو چیلنج درپیش ہے وہ اس طرح سے اس کا مقابلہ نہےں کرسکتے۔ انہوںنے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو بھی بلا کر ڈانٹ ڈپٹ کی تھی اور کینیڈا کو امریکہ میں ضم کرنے کے بدلے میں انہیں کوریز کے عہدے کی پیشکش کی تھی۔ ٹروڈو نے گزشتہ روز سوچا ہوگا کہ کاش وہ بھی ذیلنسکی کی طرح صدر ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تو دنیا میں ان کی عزت بڑھ جاتی۔ پاکستانی لوگ دعاکریں کہ انکی قیادت کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ نہ ہو۔
صدر ٹرمپ نہ جانے کیوں بھپرے ہوئے ہاتھی کی طرح سب کو روندتے جارہے ہیں۔ انہیں یہ بھی یاد آیا ہے کہ صدر بائیڈن انخلاءکے وقت سات ارب ڈالر کا اسلحہ اور گاڑیاں افغانستان چھوڑ گئے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان ہمارا یہ اسلحہ واپس کرے جبکہ ٹرمپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بیشتر اسلحہ تو بک چکا ہے اور باقی یار لوگ اسے ٹھکانہ لگاچکے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ صدربائیڈن کو کابل کا بٹگرام ایئربیس خالی نہیں کرنا چاہئے تھے۔ عین ممکن ہے کہ کچھ عرصہ بعد امریکی صدرافغان حکومت سے باضابطہ طور پر یہ مطالبہ کریں کہ اسلحہ واپس کرو یا اسکے بدلے میں افغانستان کی معدنی دولت ہمارے حوالے کرو۔ ایسا مطالبہ کرکے صدر ٹرمپ دراصل چین کا راستہ روکنا چاہتے ہیں جو افغانستان پہنچ کر افغانستان کے معدنی اورقدرتی وسائل کوڈیولپ کررہا ہے۔ البتہ طالبان رہنماؤں کو اگر ٹرمپ واشنگٹن بلائیں تو وہاں جائیں گے نہیں تاکہ کوئی ناگفتہ بہ صورتحال پیدا نہ ہوجائے۔ اگرچہ ٹرمپ نے صدر ذیلنسکی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تیسری عالمی جنگ کو دعوت دے رہے ہیں لیکن خود اپنے اقدامات سے بھی دنیا کا امن و استحکام شدید خطرے سے دوچار ہے۔ چین سے مسلسل دشمنی محاذ آرائی، تائیوان کی حمایت اور ساؤتھ چائنا سی مسئلہ پر چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے جو کارروائیاں کررہے ہیں وہ بھی بہت خطرناک ہیں۔ چین اورامریکہ کے درمیان معاشی مسابقت کا کوئی ایسا نتیجہ نہیں نکلے گا کہ کسی کی جیت اورکسی کی ہار ہوجائے۔ صدر ٹرمپ کے غیر روایتی رویہ اور تندو تیز لہجے کو امریکی ڈیپ اسٹیٹ زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرے گی اور امریکہ کے اندر اس پر دباؤ بڑھائے گی تاکہ وہ بدمست ہاتھی نہ بن جائیں۔ اسرائیل کی بے جا حمایت کرکے بھی ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے حالات کو شدید ترین انسانی المیہ کی طرف لے جارہے ہیں۔ انکی حریصانہ نظرغزہ کی ساحلی پٹی پر ہے جہاں انکے داماد مشرق وسطیٰ کا پہلا ” ریویرا “ بنانے کے خواہش مند ہیں۔
اکوڑہ خٹک کے شہرہ آفاق دینی مدرسہ دارالعلوم حقانیہ میں ایک خودکش حملہ کے ذریعے مولانا سمیع الحق کے فرزند اور جامعہ کے مہتمم مولانا حامدالحق فوت ہوئے ہیں۔ یہ بہت ہی المناک واقعہ ہے اور بدترین دہشت گردی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ مکافات عمل بھی ہے کیونکہ یہی ادارہ ہے جس نے جہاد کی ایسی روایت کو فروغ دیا کہ جس نے پورے خطے کو تہہ و بالا کردیا۔ اسی ادارے میں نام نہاد افغان جہاد کے دوران سینکڑوں خود کش حملہ آور تیار ہوئے اور ہزاروں نوجوانوں نے پہلے سوویت یونین کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور بعد ازاں وہ پاکستان کے اندر دہشت پھیلانے لگے۔
جامعہ حقانیہ 1947 میں جید عالم دین مولانا عبدالحق حقانی نے قائم کیا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی تک اسے دینی تدریس کا ذریعہ بنائے رکھا۔ تاہم 1980 کی دہائی میں جب سوویت یونین کی افواج افغانستان میں آئیں تو امریکہ کی نظر اس ادارے پر پڑی۔ امریکہ نے ضیاءالحق کے تعاون سے اس مدرسہ کے ہزاروں طالبان کو ٹریننگ دے کر جہاد کے لئے بھیجا ۔ نہ صرف یہ بلکہ ضیاءالحق اور سی آئی اے نے دنیا بھر سے جوجہادی بلائے انکا پہلا مرکز یہی مدرسہ تھا۔ یہ تومعلوم نہیں کہ امریکہ نے جو کھربوں ڈالر افغان جنگ میں جھونکے ان میں سے کتنے اس ادارے کے حصے میں آئے۔ آئے ضرور ہوں گے، مغربی میڈیا نے مولانا عبدالحق کے فرزند مولانا سمیع الحق کو طالبان کا ”باپ یا گاڈ فادر“ قرار دیا تھا۔ وہ پہلے متحدہ جے یو آئی میں شامل تھے تاہم مغرب کی آشیر باد زیادہ ملی تو وہ اپنا دھڑا الگ کرکے اسکے سربراہ بنے، یعنی جمعیت علماءاسلام (س) ۔کوئی وقت تھا کہ نوشہرہ میں واقعہ یہ دارالعلوم دنیا کا سب سے بڑا بورڈنگ ہاؤس تھا جہاں کئی ہزار طلباءکی رہائش اور کھانے کا مفت انتظام موجود تھا۔ جہاد ختم ہونے کے بعد جب افغانستان شدید خانہ جنگی کا شکار ہوا تو امریکہ نے افغانستان کو ایک پولیٹکل فورس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لئے 1995 میں بے نظیر جیسی لیڈر کے ذریعے ”طالبان “ فورس بنائی گئی۔ طالبان کی تشکیل کی ذمہ داری بے نظیر کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے اپنائی۔ چنانچہ طالبان کا پہلا جتھہ کوئٹہ سے قندھار کے لئے روانہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے کابل پر قبضہ کرلیا۔ طالبان ٹی ٹی پی امریکہ کے خلاف جنگ نائن الیون کے بعد پاکستان کا امریکی اتحادی بننا ایک لمبی کہانی ہے جس پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ لیکن 2007ءمیں جب محترمہ بے نظیر کمپنی باغ راولپنڈی میں شہید ہوئیں تو روسی انٹیلی جینس ایجنسی نے ایک رپورٹ جاری کی جس میںکہا گیا تھا کہ اس مشترکہ حملے میں دارالعلوم حقانیہ کے طالبان بھی شامل تھے۔ جبکہ دو حملہ آور پوشیدہ ہیں۔ مغرب نے اپنی ضرورت کے لئے اس مدرسہ کی امداد کی لیکن پھر خود اسے خود کش بمبار تیارکرنے کی فیکٹری قرار دیا۔ افغانستان میں طالبان کے گزشتہ قبضہ میں القاعدہ نے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن حالیہ قبضے کے بعد وہاں داعش سرگرم ہے۔ القاعدہ کمزور ہوگئی ہے جبکہ داعش کافی مضبوط ہے۔ خود طالبان کے اندر بھی اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ قندھار اور حقانی گروپ کے درمیان عنقریب خطرناک صورتحال شروع ہونے والی ہے جس کے انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ خود طالبان کے گاڈ فادر مولانا سمیع الحق کو بھی چند سال پہلے راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن میں نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا تھا ان کے قتل کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہوسکیں۔ اسی طرح دارالعلوم حقانیہ اور ان کے صاحبزادے کی موت کے اسباب و عوامل کا بھی پتہ نہیں چلے گا کیونکہ اس میں خطہ کے طاقتور عناصر شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں