ناراض اراکین سے اپیل ہے کہ ٹوپی ڈرامہ بند کریں، کم عرصہ رہ گیا ہے، عبدالکریم نوشیروانی

کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے نائب صدر وسابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی،بے روزگاری عروج پر ہے،بلوچستان میں 4ماہ سے دھنگا مشتری شروع ہوچکاہے ترقیاتی کام ٹھپ ہوکر رہ گئے سائلین مایوسی سے دوچار ہیں،ناراض ارکان اپنے جاری ٹوپی ڈرامے کو بند کریں وفاقی حکومت صورتحال کی بہتری کیلئے ثالثی کاکرداراداکرے،عوام آئندہ انتخابات میں عوام سے مخلص اور ایماندار لوگوں کومنتخب کرے جو ان کے دکھ درد کااحساس رکھتے ہوں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ میرعبدالکریم نوشیروانی نے کہاکہ کب تک بلوچستان میں ٹوپی ڈرامہ چلے گا خدا را میں اپیل کرتا ہوں اپنے ناراض ارکان سے کہ ٹوپی ڈرامہ بند کریں کم عرصہ رہ گیا ہے اس میں صبر وتحمل کی ضرورت ہے یہ سیاست کا محور ہے خود بھی جیو اور دوسرے کو بھی جینے دو اس ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری،دہشتگردی عروج پر ہے چار مہینے سے بلوچستان میں دھنگا مشتری شروع ہوچکا ہے صوبے کے اندر جو ترقیاتی کام تھے وہ بند ہوچکے ہیں سول سیکرٹریٹ میں دور دراز سے لوگ آکر اپنے مسائل حل کرنے کیلئے آتے ہیں اور سیکرٹریٹ پر تالے دیکھ کر عوام مایوس ہوکر واپس چلے جاتے ہیں جبکہ بلوچستان میں بے روزگاری انتہاء تک پہنچ چکا ہے اور قابو سے باہر ہے اس کیلئے ملک کے اداروں اور مرکز ی حکومت کو سوچنا چاہیے صوبے کے عوام پر کیوں اتنا ظلم کا بازار گر رکھا ہے وفاق کو چاہیے کہ بلوچستان میں اپنی ثالثی کا کردار ادا کریں اگر صورتحال بے قابو اور صحیح ٹریک پرکوئی تیار نہیں ہے تو اس کا واحد ایک ہی راستہ ہے کہ بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا جائے اور بلوچستان میں کوئی غیر سیاسی گورنر کو بلوچستان حوالہ کردیا جائے جو پورے بلوچستان کو ایکول انداز سے چلائیں 2023کے الیکشن تک گورنر راج نافذہو جب دو لڑتے ہیں تو تیسرا جیت جاتا ہے اب اس صورتحال میں 2023کا الیکشن میں اپیل کرتا ہوں کہ ملک کو وفادار اور سیاسی لوگ جن کے دلوں میں عوام اور صوبے کا درد ہوں ان کو آگے لائے جائیں اور نان کیڈر کے سیاستدانوں کو روکنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں