سانحہ ہوشاپ، لواحقین کامطالبات تسلیم نہ ہونے پر میتوں سمیت دھرناکل اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ، سانحہ ہوشاپ کے شہداء جو کہ گزشتہ 5دنوں سے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی اور اس میں انہوں نے اپنے مطالبات پیش کئے جو کہ یہ ہیں
1ایف سی کو فوری طور پر عوامی مقامات، سکولوں، کالجوں، مساجدسے ہٹایا جائے
2علاقے سے تمام ایف سی کی چیک پوسٹوں کوفوری طور پر ختم کر کے پولیس اور لیویز تعینات کی جائے
3شہداء ہوشاپ کے ماورائے عدالت آئی جی ایف سی ساؤتھ کیخلاف مقدمات درج کئے جائیں
4شہداء ہوشاپ کے لواحقین کو ہراساں کرنا بند کیا جائے اور انکے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
5ڈی سی کیچ کو حقائق چھپانے اور ملزموں کو تحفظ فراہم کرنے کے جرم میں فور طور پر معطل کیا جائے
6شہداء ہوشاپ کے لواحقین کو جبری نقل مکانی کرانے سے نجات دلائی جائے اور آبائی گاؤں میں رہنے کی اجازت دی جائے
7ہائیکورٹ میں ان مقدمات کیخلاف اپیشل کابینہ قائم کر کے مکمل تحقیقات کی جائے
بعدا زاں میڈیا کے سوالات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے اپنے مطالبات ہیں ہم پر کسی کا سیاسی دباؤ نہیں ہے یہ ہمارے اپنے ہی مطالبات ہیں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی حکومتی جماعت کانمائندہ ہمارے پاس مذاکرات کیلئے نہیں آیااور اس دھرنے کو کوئی سنجیدہ نہیں لے رہاسب غیر ذمہ دار ہیں وزیرداخلہ نے بھی جو کہا وہ غیر سنجیدگی سے کہاہے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم کل یہاں سے اسلام آباد کیلئے نکلیں گے ابھی تک ہمارے کسی مطالبے پرانہوں نے عمل درآمد نہیں کیااور انہوں نے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیانہ ہی کوئی ہم سے ملنے آیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات کی ہے تو ہم کل ہی اپنے میتوں کے ساتھ اسلام آباد کیلئے روانہ ہو نگے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کی پشت پناہی نہیں ہے ہمارے پیچھے کسی کا ہاتھ نہیں ہم خود اپنی مرضی سے یہاں بیٹھے ہیں تمام سیاسی پارٹیاں ہمارے ساتھ آکر ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں


