چمن بارڈر پر گڈز ٹرانسپورٹ کی آمدو رفت میں درپیش مسائل کے حل کیلئے نیا میکنزم تیار
اسلام آباد:پاکستان نے افغانستان کے ساتھ چمن بارڈر پر گڈز ٹرانسپورٹ کی آمدو رفت میں درپیش مسائل کے حل کیلئے نیا میکنزم تیار کر لیا،دونوں ممالک کی وزارت تجارت کے در میان چمن پوائنٹ پر ٹرکوں کی چیکنگ کے حوالے سے ترجیحی لسٹ پر عمل درآمد کیا جائے گا،بارڈر کے دونوں طرف سبزیوں، فروٹس اور جلد خراب ہونے والے سامان کی چیکنگ کیلئے الگ کاؤنٹر کے قیام سمیت میکنزم کے متعدد نکات پر اتفاق کر لیا گیا،گزشتہ ہفتے سیکرٹری کامرس کے دورہ کابل کے دوران میکنزم پر بات چیت کی گئی۔تفصیلات کے مطابق افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کا براہ راست اثر پاکستان اور افغانستان کے در میان تجارت پر پڑا ہے،طالبان حکومت کے انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع ہیں ان حالات میں افغانستان کی ایکسپورٹ کا زیادہ تر انحصار پاکستان پر ہے،افغانستان سے پھلوں اور خشک میوہ جات کی بڑی مارکیٹ بھی پاکستان ہے اس لیے چمن بارڈر پر گزشتہ سال گڈز ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت کے مقابلے میں رواں سال رورزانہ کی بنیاد پر ٹرکوں کی آمدو رفت میں کئی گنااضافہ ہو گیا ہے،طالبان حکومت کی آمد کے بعد مدد بار چمن بارڈر کئی دنوں تک کیلئے بند کیا گیا،ایک بار پاکستان نے بھی بارڈر کو بند کیا،طالبان حکومت نے پاکستان کی جانب سے ٹرکوں کی سخت چیکنگ کو بنیادبنا کر گزشتہ ماہ ڈیڑھ ہفتے کیلئے بارڈبند رکھا تھا،دونوں ممالک کی وزارت تجارت کے در میان چمن بارڈرپر ٹرکوں کی آمد کو ریگولائز کرنے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے میکرنزم پر اتفاق کیا گیا ہے،گزشتہ ہفتے افغانستان اور پاکستان کے در میان ایک دن میں 9سو سے زائد ٹرکوں کی آمدو رفت ہوئی ہے جو اب تک کا ریکارڈ ہے،وزات تجارت کے ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں نئے میکنزم کے تحت بارڈر پر مزید آسانیاں فراہم کی جائیں گی،جس سے گڈز کی آمدو رفت میں سہولت پیدا ہوگی او رقت کی بھی بچت ہوگی،یاد رہے پاکستان سنٹرل ایشن ممالک،ترکی اور روس تک گڈز کی فری مومنٹ کے ایک منصوبے پرکام کر رہا ہے اس کیلئے بھی چمن بارڈر کی مکمل فعالیت ضروری ہے۔


