سیوریج کے پانی سے تیار کردہ سبزیاں انسانی صحت کیلئے نقصان دے ہیں،بلوچستان ہائی کو رٹ

کوئٹہ :سیوریج کے زہریلے پانی سے مضر صحت سبزیوں کی کاشت کے تدارک کے لیے بلوچستان ہائی کو رٹ کے حالیہ وگزشتہ فیصلوں اور احکامات پر عمل درآمد کے لیے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی ابراہیم بلوچ کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کوئٹہ خالد مراد, ایگزیکٹو انجینئر (ایریگیشن) انجینئر ندیم احمد, ایس پی (لیگل) اے آئی جی پولیس آفس کوئٹہ حمیداللہ دستی، ڈائریکٹر آپریشنز بی ایف اے آصف خان اور ایکسین واسا آفتاب جہاں نے شرکت کی۔ اجلاس میں کوئٹہ شہر میں نالوں کے پانی سے سبزیوں کی کاشت کے مکمل تدارک اور اس مقصد کے حصول کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل بی ایف اے ابراہیم بلوچ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ سیوریج کے پانی سے تیار کردہ سبزیاں نہ صرف انسانی صحت بلکہ جانوروں کے لیے بھی نقصان دے ہیں، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مضر صحت سبزیوں کی کاشت کے خلاف متعدد بار کارروائیاں کی جاچکی ہیں، ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں اب تک مضر صحت سبزیوں کی تقریباً 11 سو ایکڑ زیر کاشت و تیار فصلیں تلف کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایف اے کی کارروائیوں کی بدولت مختلف مقامات پر ٹیوب ویلز نصب کردیئے گئے ہیں تاہم نالوں کے پانی کو سبزیاں کاشت کرنے کے لیے اب بھی استعمال کیا جا رہا ہے جس کے مکمل تدارک اور اس ضمن میں بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے خصوصی میکینزم ترتیب دیا جا رہا ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔قبل ازیں ڈائریکٹر آپریشنز بی ایف اے آصف خان نے اجلاس کو 29 دسمبر 2020 اور 14 ستمبر 2021 کے عدالتی فیصلوں کے اہم نکات اور سبزیوں کی کاشت کی روک تھام سے متعلق عدالت عالیہ کے احکامات مثلاً گندے پانی سے تیارکردہ سبزیوں کے انسانی صحت و جانوروں پر ممکنہ منفی اثرات، فصلوں کی کاشت کے لیے سیوریج کے پانی میں صاف پانی کی آمیزش سے متعلق معاہدے کی قانونی حیثیت اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب سمیت مختلف امور کے بارے میں تفصیلاً آگاہ کیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گندے پانی سے سبزیوں کی کاشت کے خلاف آئندہ تمام متعلقہ ادارے مل کر ایک مربوط حکمت عملی کے تحت مزید موثر انداز میں کام کریں گے، اس سلسلے میں نہ صرف زہریلے پانی سے کاشت و تیار کردہ فصلیں تلف کی جائیں گے بلکہ ضلعی انتظامیہ کی مدد سے حقیقی ذمہ داران کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں