لیبیا، خاتون وزیر خارجہ کو کام سے روک دیا گیا
طرابلس:لیبیا میں صدارتی کونسل نے خاتون وزیر خارجہ نجلا المنقوش کو کام کرنے سے روک دیا۔ اس اقدام کا مقصد نجلا کے خلاف انتظامی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تحقیقات کرنا ہے۔ دوسری جانب نجلا نے لوکربی معاملے سے متعلق بیان کے حوالے سے خود پر عائد الزامات کی تردید کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدارتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک خاتون وزیر خارجہ کا بیرون ملک سفر ممنوع ہو گا۔نجلا کے ساتھ تحقیقات کے لیے صدارتی کونسل نے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی 14 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔صدارتی کونسل کا یہ فیصلہ وزیر خارجہ نجلا المنقوش کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ نجلا نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک لیبیا کی انٹیلی جنس کے ایک افسر عبدالباسط المقرحی کو حوالے کرنے کے واسطے امریکا کے ساتھ تعاون پر تیار ہے۔ اس بات کا شبہہ ہے کہ المقرحی 1988 میں اسکاٹ لینڈ کے قصبے لوکربی پر گرنے والے طیارے کو دھماکے سے اڑانے میں شریک تھا۔ نجلا کے اس بیان پر لیبیا میں وسیع پیمانے پر مذمتی رد و عمل سامنے آ رہے ہیں۔ ان پر ملک کے مفاد کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔


