ہم اپنی اراضیات پر کسی کو مداخلت کرنے نہیں دینگے، زمینداروں کی پریس کانفرنس

خضدار(نامہ نگار)زمیندار حافظ عبدالعزیز کرد اپنے دیگر زمیندار ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان ایک قبائلی معاشرہ ہے بالخصوص خضدار میں میں جتنی بھی اراضیات آباد وغیر آباد ہیں یہ سب قبائل کی ملکیت ہے۔ خان آف قلات نے 1945 میں زمینداروں کا حق بھی تسلیم کیا پاکستان بنتے وقت موضع شاہی باغ کے علاوہ باقی تمام اراضیات قبائل کے ہیں خضدار میں پہلی دفعہ 1971 میں سیٹلمنٹ کے بعد دوبارہ 1981-82 میں نام نہاد سیٹلمنٹ کے ذریعے قبائلی اراضیات حکومت کے رکارڈ میں درج کیا گیا اور آج ضلع انتظامیہ ہماری ملکیت پر قبضہ کرنے کے لئے کوشش میں لگی ہوئے ہیں مختلف ادوار میں ضلعی انتظامیہ نے ہماری اراضیات پر بغیر کسی ادائیگی کے سڑک بنوانا چاہا تو زمیندار حاجی خدابخش نتھوانی نے مجبوراً عدالت کا رخ کیا قاضی جھالاوان نے 2009 میں زمینداروں کے حق میں فیصلہ سنایا تھا اس فیصلہ پر مجلس شوریٰ نے بھی اتفاق کیا زائد المیعاد ہونے کی وجہ سے بلوچستان ہائی کورٹ نے اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ذمہ داریاں کی سخت سرزنش کی بعد ازاں جوڈیشل مجسٹریٹ خضدار نے اجرا کارروائی کے ذریعے زمیندار کے نام انتقال کا حکم جاری کیا بعد ازاں مختلف اشخاص پر سیٹلمنٹ تحصلیدار 2 کی جانب سے انتقال جاری ہونے کے ساتھ اراضیات فروخت ہوتے رہے مگر 2020 میں ڈپٹی کمشنر نے کلرک برادری کو اسی زمین کو دلانے پر اکساتے رہے ہیں کلرک برادری کو، الگ زمین الاٹ کی گئی تھی بجائے موضع شیخ کے موضع سنی میں لیویز فورس مداخلت کی کوشش کی ان خیالات کا اظہار زمیندار حافظ عبدالعزیز کرد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا پریس کانفرنس میں زمیندار حاجی خدا بخش نتھوانی،مولوی عبدالکریم مینگل، جاوید عزیز کرد، محمد حسین شیخ مینگل، نصیر احمد قلندرانی، بلال عزیز کرد ودیگر موجود تھے زمینداروں نے کہا کہ ہم اپنی اراضیات پر ہرگز کسی کو مداخلت کرنے نہیں دینگے اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوئی ناخوشگوار واقع پیش آیا تو اسکی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر ہوگی

اپنا تبصرہ بھیجیں