متحدہ اپوزیشن نے تمام بلز سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی
اسلام آباد:متحدہ اپوزیشن نے الیکشن ترمیمی بل سمیت دیگر بلوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کو بلڈوز کیا گیا ہے، اس ماحول میں قانون سازی نہیں ہوسکتی،ای وی ایم کا بل پاس کرکے الیکشن پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن خود ای وی ایم سے مطمئن نہیں،مشترکہ اجلاس کے اپنے رولز ہوتے ہیں نارمل سیشن کے الگ، میں نے پوری کوشش کی کہ اسپیکر کو رولز بتاؤں، جوائنٹ سیشن سے کسی بل کو منظور کروانے کیلئے 221 ووٹ کا ہونا ضروری ہے، مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جیت نہیں ہوئی، کلبھوشن کو این آر او، الیکشن ترمیمی بل سمیت دیگربل کو ہر فورم پر چیلنج کریں گے۔ان خیالات کا اظہار اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زر داری، جے یو آئی کے رہنما اسعد محمود اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما امیر حیدر خان ہوتی و دیگرنے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے واک آؤٹ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سابق صدر آصف علی زرداری نے حکومت کو موجودہ بلز کی منظوری پر خبر دار کردیا آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ بیج حکومت لگا رہی ہے پھل کوئی اور کھائے گا۔ تفصیلات کے مطابق مشترکہ اجلاس کی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ جتنا زور حکومت اس بیج کی آبیاری میں لگارہی ہے، اس کا پھل یہ لوگ نہیں بلکہ کوئی اور کھائے گا۔اپوزیشن نے آئینی ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لئے کمیٹی بنا دی،کمیٹی میں پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک، کامران مرتضیٰ اور ن لیگ کے عطا تارڑ شامل ہوں گے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے بلوں کی منظوری کے بعد اپوزیشن نے حکومت کیخلاف کمر کس لی،سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف عدم اعتماد پر غور کا اعلان کر دیا۔


