انڈونیشیی صدر نے رمضان کے بعد اجتماعات پر پابندی عائد کر دی

جکارتہ:انڈونیشیا کے صدر نے رمضان کے بعد مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کا مقصد کورونا وائرس کی وبا کے پھیلا کو روکنا ہے۔تاہم ماہرین نے کہاہے کہ حکومت نے یہ قدم اٹھانے میں بہت دیر کر دی۔میڈیارپورٹس کے مطابق خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عید سے پہلے دس لاکھ کے قریب افراد نے جکارتہ سے اپنے آبائی علاقوں کے لیے سفر کیا ہے۔ ملک میں رمضان راوں ہفتے ہی شروع ہو رہا ہے۔انڈونیشیا میں دنیا کی سب سے بڑی مسلمان آبادی ہے۔ وہاں عام طور پر یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ لوگ عید پر اپنے اہلِ خانہ اور اپنے گھروں کی جانب نہیں لوٹیں گے۔انڈونیشیا میں رمضان کے بعد عید پر ہلال بہ ہلال نامی ایک خاص نوعیت کی تقریب ہوتی ہے جس میں لوگ ایک دوسرے سے معافی طلب کرتے ہیں۔عام طور پر عید کی نماز کے بڑے اجتماعات میں لوگ نئے کپڑے پہن کر مسجدوں میں نماز ادا کرتے ہیں۔ اس موقع پر فٹ بال کے میدانوں میں پارکنگ اور مسجدوں کے باہر بھی عید پڑھی جاتی ہے۔ماہرین صحت نے خبردار کیا کہ اگر دور دراز کے علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے مناسب اقدامات نہ کیے گئے اور ٹیسٹ نہ کیے گئے تو تباہی ہو سکتی ہے۔


