پاکستان کی 37 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی

کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی میں وویمن پارلیمنٹرین فورم کی چیئرپرسن ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی 37 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے مگر صوبہ بلوچستان میں یہ شرح لگ بھگ 50 فیصد ہے پاکستان غذائی سروے کے مطابق ملک میں ایک تہائی سے زیادہ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں، 29 فی صد کے قریب وزن کی کمی جب کہ 17 فی صد سے زائد کمزور ہیں۔ ان بچوں میں بڑی تعداد صوبہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے بلوچستان میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی نگہداشت کے لئے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر قائم کئے جاررہے ہیں یہ بات انہوں نے تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال اوستہ محمد میں ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے قائم این ایس سی کی فعالیت کے موقع پر اپنے جاری کردہ ایک پیغام میں کیا، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ پاکستان سے غذائی اشیا کی برآمدات میں نہ صرف کمی واقع ہو رہی ہے بلکہ زرعی ملک ہونے کے باوجود اس کی اس شعبے میں درآمدات بڑھ رہی ہے جو واقعتاً خطرے کی بات ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 37 فی صد گھرانوں کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور وسائل کی کمی ہے پاکستان میں غذائیت کی کمی موثر تشخیص اور طبی غذائیت کے انتظام میں ناکامی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غذائی دیکھ بھال پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں ان میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ اکثر مریضوں کے اسپتال میں داخلے کے وقت یہ معلوم نہیں کیا جاتا کہ آیا مریض کو غذائیت کی کمی کا مسئلہ تو نہیں۔ ایسی صورت میں دو تہائی مریض اسپتال میں موجودگی کے دوران ہی غذائیت کی کمی کا مزید شکار ہوجاتے ہیں اگر مریضوں میں غذائی کمی بڑھ جائے تو انہیں زیادہ عرصے تک طبی نگہداشت کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور مریض کو مرض سے شفایاب ہونے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور وہ زیادہ خطرناک پیچیدگیوں کا شکار ہوسکتا ہے اس کی اہم وجہ ملک کے اسپتالوں میں تربیت یافتہ ماہرِ غذائیت (نیوٹریشنسٹس) اور ڈائٹیشینز کی کمی ہے جس کے باعث ہر ڈاکٹر کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ہر مریض کے داخلے کے وقت اس کی غذائی کمی کو جانچیں کیوں کہ اسپتالوں میں اس سے متعلقہ اسٹاف کی شدید کمی ہے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی نگہداشت کے لئے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن مراکز کا قیام ایک غیر معمولی پیش رفت ہے جس کے لئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے پاکستان میں نما ئندے ڈاکٹر پالیتھا ماہیپلہ اور ڈبلیو ایچ او کوئٹہ سب آفس کی کاوشیں لائق ستائش ہیں انہوں نے کہا کہ اوستہ محمد میں نیوٹریشن اسٹبلائزیشن سینٹر کے قیام سے جعفر آباد کے دیہی علاقوں کے عوام کو فائدہ ہوگا اور غذائی قلت کے شکار بچوں کی بہتر نگہداشت اور طبی معاونت ممکن ہوسکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں