ایران کی خلا میں راکٹ بھیجنے کی تیاری

تہران:جوہری پروگرام کے ایک ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایک خلائی راکٹ کا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جوہری عدم پھیلا سے متعلق جیمز مارٹن تحقیقی مرکز کے ایک ماہر جیفری لوئس جو ایران کے جوہری پروگرام پر بھی تحقیق کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت سخت گیر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی جانب سے ایک بار پھر سے فضا پر توجہ مرکوز کرنے کا نتیجہ ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا نے امام خمینی ایئر بیس پر اس حوالے سے کسی بھی سرگرمی کا اعتراف نہیں کیا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے بھی اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی طرح خلائی تجربات کا جائزہ لینے والی امریکی فوج نے بھی اس سلسلے میں تبصرہ نہیں کیا۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے علاقے سمنان میں صحرا میں واقع ایئر بیس پر کچھ سرگرمی انجام دی جا رہی ہے۔ یہ اڈا تہران کے جنوب مشرق میں تقریبا 240 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔تصاویر میں ایک سفید پل کے برابر میں سپورٹ کار نظر آ رہی ہے۔ یہ سپورٹ کار عموما لانچنگ پیڈ پر راکٹ کے ساتھ ہوتی ہے۔ اسی طرح تصاویر میں وہاں ایک ہائیڈرولک کرین بھی دکھائی دے رہی ہے۔جیفری لوئس کے مطابق یہ ایک حد تک راکٹ چلائے جانے سے قبل کی روایتی سرگرمی ہے۔امریکا کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے سیٹلائٹ بھیجنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کو چیلنج کرنا ہے۔ یہ قرار داد ایران سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے کسی بھی بیلسٹک میزائل سے متعلق سرگرمی انجام نہ دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں