پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں پارٹی سرخرو ہوئی، فواد چوہدری
اسلام آباد:وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ایک ایک روپے کا حساب الیکشن کمیشن میں دیا ہے،فارن فنڈنگ کیس ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا،رپورٹ ہم پبلک نہیں کر سکتے، الیکشن کمیشن خود کر دے،الیکشن کمیشن پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی بھی ایک ساتھ عوام کے سامنے رکھے، نواز شریف اور(ن)لیگ کے اکاؤنٹس سمیت پیپلز پارٹی کے بھی اکاؤنٹس کا موازنہ ہونا چاہیے،جے یو آئی اور ٹی ایل پی کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی ہی نہیں ہو رہی،الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ رپورٹ کا مواد میڈیا پر نہ جائے، اگر جائے تو درست جانا چاہئے،فیک نیوز کا ذمہ دار کون ہوگا۔منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریک انصاف سرخرور ہوئی، یہ معاملہ بھی ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ (ن)لیگ اور پیپلز پارٹی کی فنڈنگ کا موازنہ بھی لوگوں کے سامنے آنا چاہیے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس کا اکاؤنٹنگ اور فنڈنگ کا تفصیلی نظام موجود ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ بہت سی دوسری جماعتوں میں تو فنڈنگ کے معاملات وڈیروں اور کاروباری لوگوں سے چلتے ہیں۔ انہوں ن یکہاکہ نواز شریف نے (ن)لیگ کا اکاؤنٹ بھی منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کیا، (ن)لیگ کے اکاؤنٹ میں آٹھ کروڑ روپے ڈلوائے گئے اور پھر اس اکاؤنٹ سے پیسے نکلوائے گئے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ پی ٹی آئی واحد جماعت جس کا قانونی اور تفصیلی فنڈنگ کا نظام موجود ہے، دنیا بھر سے تحریک انصاف کے کارکنان پارٹی کو فنڈنگ دیتے ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے جب شوکت خانم ہسپتال بنایا تو پہلی میٹنگ میں تمام ڈاکٹروں نے کہا کہ مفت علاج ممکن نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ شوکت خانم ہسپتال ستر فیصد مریضوں کا مفت علاج کرتا ہے، شوکت خانم کو عمران خان کے نام پر اربوں روپے کا عطیہ پوری دنیا سے ملتا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ پارٹی کی سطح پر یہی اعتماد وزیراعظم کی ذات پر کیا جاتا ہے، امریکہ، لندن اور پاکستان میں تحریک انصاف کا کارکن اپنی بساط کے مطابق پارٹی کو فنڈنگ کرتے ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ چیف اکاؤنٹنٹ سراج اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے طویل عرصے سے یہ معاملہ سنبھالا ہوا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پی ٹی آئی کو چھوٹی چھوٹی رقوم بھی فنڈنگ میں آتی ہیں، الیکشن کمیشن میں جو رپورٹ پیش ہوئی وہ ہماری حکومت بننے سے پہلے کی رپورٹ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ (ن)لیگ کے دور کی حکومت سکروٹنی کمیٹی پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے لئے الیکشن کمیشن میں بنیاد بنایا۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے 26 میں سے 8 اکاؤنٹ غیر فعال ہیں، 18 اکاؤنٹس میں سے پی ٹی آئی کے 8 اکاؤنٹس فعال ہیں، ان میں ٹرانزیکشن بھی ہو رہی ہیں،فارن فنڈنگ کی حد تک کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ کچھ ٹی وی چینلز نے 31 کروڑ روپے کا نکتہ اٹھایا کہ ایک ارب 61 کروڑ روپے کی فنڈنگ میں سے 31 کروڑ روپے کے فنڈز کا بتایا نہیں گیا، پی ٹی آئی کے چھ اکاؤنٹس ہیں، ان میں سے آٹھ ڈیکلیئرڈ ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ 10 اکاؤنٹس میں سے چھ اکاؤنٹس پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس نہیں، انہیں سبسڈری اکاؤنٹس کے طور پر ڈیل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی کا ویلفیئر ونگ کا اپنا اکاؤنٹ ہے، وہ علیحدہ ادارے کے طور پر درج ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ چار اکاؤنٹس سے پی ٹی آئی نے لاتعلقی کا ظہار کیا ہے، ان میں بھی چھوٹی چھوٹی ٹرانزیکشن ہوئی ہیں، ایک ٹرانزیکشن 16 کروڑ روپے اور ایک ٹرانزیکشن 15 کروڑ روپے کی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ 16 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن اس لئے ڈبل ا کاؤنٹ ہوئی کہ ایک اکاؤنٹ میں پیسے سینٹرل اکاؤنٹ میں آئے اور وہاں سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ رپورٹ میں 16 کروڑ روپے کی رقم کو دو بار جمع کیا گیا۔ چوہدری فواد حسین نے کہاکہ 15 کروڑ روپے کی ایک اور ٹرانزیکشن سینٹر سے صوبوں کو ہوئی جو پی ٹی آئی کی سبسڈری تھی، اس رقم کو بھی دو بار جمع کیا گیا، پی ٹی آئی نے ایک ایک روپے کا حساب الیکشن کمیشن میں دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن پیپلز پارٹی اور(ن)لیگ کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی بھی ایک ساتھ عوام کے سامنے رکھے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ جے یو آئی اور ٹی ایل پی کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی ہی نہیں ہو رہی۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ نواز شریف اور (ن)لیگ کے اکاؤنٹس سمیت پیپلز پارٹی کے بھی اکاؤنٹس کا موازنہ ہونا چاہئے۔وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کابینہ بریفنگ میں صحافیوں کے سوالات پر جواب دیتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے صفحہ نمبر 84 میں کہا گیا ہے کہ 26 اکاؤنٹس ہیں، 56 اکاؤنٹس کا الیکشن کمیشن نے کہیں ذکر نہیں کیا، میڈیا میں جس نے خبر دی، اسے تصدیق کرلینی چاہیے تھی، رپورٹ ہم پبلک نہیں کر سکتے، الیکشن کمیشن رپورٹ خود پبلک کر دے۔انہوں نے کہاکہ فیک نیوز سے مسائل جنم لیتے ہیں، اگر کسی نے خبر دی کہ 54 یا 56 اکاؤنٹس ہیں، تو اس رپورٹ میں ان اکاؤنٹس کا کہیں ذکر نہیں، فیک نیوز کا ذمہ دار کون ہوگا، الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ رپورٹ کا مواد میڈیا پر نہ جائے، اگر جائے تو درست جانا چاہئے، انہوں نے کہاکہ ایسے لگ رہا ہے کہ بڑے ٹی وی چینلز کی ایڈیٹوریل پالیسی ن لیگ طے کر رہی ہے، حیرانگی ہوتی ہے کہ میڈیا تنظیمیں اس پر کیوں خاموش ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ آڈیو ٹیپس سے میڈیا کی آزادی کو خطرہ ہے اس پر کچھ لوگوں کی گگی بند گئی ہے، انہوں نے بات کرنا ہی مناسب نہیں سمجھا، امید ہے میڈیا کی ورکرز تنظیمیں ورکرز کی بات کریں گی۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پی ٹی آئی نے سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پبلک نہ کرنے کی استدعا نہیں کی، پی ٹی آئی نے استدعا کی تھی کہ تینوں پارٹیوں کی رپورٹس اکٹھی پبلک کی جائیں، ہم چاہتے ہیں کہ تینوں جماعتوں کی سکروٹنی رپورٹ اکٹھی عوام کے سامنے آئیں۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ پی ٹی آئی کے پاس تمام ڈونرز کی تفصیل موجود ہے، 40 ہزار لوگوں کا ریکارڈ ہے جنہوں نے پی ٹی آئی کو عطیات دیئے۔ فواد چوہدری نے کہاکہ کسی دوسری جماعت کے پاس اتنا تفصیلی ریکارڈ موجود نہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن تمام پارٹیوں کی رپورٹس سامنے لائے۔ انہوں نے کہاکہ بڑی اصلاحات کا حامی ہوں، پی ایم ڈی اے بھی اسی لئے لانا چاہ رہا تھاانہوں نے کہاکہ میڈیا کی اونر شپ علیحدہ ہونی چاہئے، ایڈیٹوریل پالیسی ورکنگ جرنلسٹس کے پاس ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ جب تک ورکنگ جرنلسٹس کو یہ ذمہ داری سونپی نہیں جائے گی مسائل رہیں گے، میڈیا ورکرز کے لئے جس طریقے سے بات ہونی چاہئے وہ نہیں ہوئی جو بہت بڑی بدقسمتی ہے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ماہرین کے مطابق مسلم لیگ (ن)کے 9 اکانٹس ایسے ہیں جو الیکشن کمیشن کو نہیں بتائے گئے، ان میں کروڑوں کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے، پیپلز پارٹی نے 2013 میں 9 اکانٹس، 2014 میں 11 اور 2015 میں 10 اکانٹس چھپائے۔دوسری جانب وفاقی کابینہ نے ملزم عبدالقادر احسان کو برطانیہ کے حوالے کرنے اور نادر ممتاز کو چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ تعینات کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔


