سانحہ مری،اپوزیشن اور حکومتی اتحادیوں نے حکومت کو ذمہ دار قرار دیدیا،جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد،لاہور،کراچی،مری :اپوزیشن جماعتوں اور حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ(ق) نے سانحہ مری کا ذمہ دار حکومت، انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی ناہلی کو قرار دیکر جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔اپوزیشن رہنماؤں شہباز شریف،بلاول بھٹو زرداری،مریم نواز،مولانا فضل الرحمان،حمزہ شہباز شریف،شاہد خاقان عباسی و دیگر نے کہا ہے کہ مری واقعہ انتظامی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا دردناک واقعہ ہے،یہ ہلاکتیں نہیں، شہریوں کے قتل کے مترداف ہے،،حکومت کو کوسنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ مردہ ضمیر حکومت بہت پہلے مر چکی ہے،حکومتوں کا کام صرف سیاح گننا نہیں بلکہ ان کے لیے پیشگی انتظامات اور حفاظتی اقدامات کرنا ہے،قدرت کی جانب سے دئے گئے موسم میں چند لمحوں کی خوشی کو بھی حکومت کے ناقص انتظامات نے غارت کر دیا،عدالتی تحقیقات میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم کو بھی پیش کیا جائے، جو بھی مجرم ہو اسے عبرتناک سزا دی جائے،اس بات کی تحقیقات کی جائے کہ اس سانحہ میں غفلت کا مرتکب کون ہوا، اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے، وزیراعظم اپنی حکومت کو طول دینے کے چکر میں ہیں، انہیں عوام سے کوئی غرض نہیں۔تفصیلات کے مطابق مری میں برفباری میں پھنسے 21سیاح شدید سردی سے ٹھٹھر کر جاں بحق ہوگئے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مری اور گلیات میں اموات پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مری واقعہ انتظامی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا دردناک واقعہ ہے، یہ حکومت کی انتظامی صلاحیت کا عالم ہے، یہ ہلاکتیں نہیں، شہریوں کے قتل کے مترداف ہے، شہریوں کو بچانے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے کی کوشش کیوں نہ ہوئی؟ حکومت ایک ہزار گاڑیوں کے انتظام کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی، سیاح اتنی بڑی تعداد میں جا رہے تھے تو حکومت کو کیوں پتہ نہ چلا؟ انتظامیہ کہاں سوئی ہوئی تھی؟ پیشگی انتظامات کیوں نہ کئے گئے؟۔شہباز شریف نے کہا کہ جو حکومت رش میں پھنسے شہریوں کو نہیں بچاسکتی وہ مہنگائی کی دلدل سے عوام کو کیسے نکال سکتی ہے؟ حکومت ایک ہزار گاڑیوں کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی، ملک کے بڑے اور سنگین مسائل سے کیسے نمٹ سکتی ہے؟ عمران نیازی میں تو اخلاقی جرات نہیں، کم ازکم اس سنگین مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار وزیروں کو ہی برخاست کیا جائے، اس خون ناحق پر کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرایا جائے، سیاحت میں اضافے کا حکومتی پراپیگنڈہ سفاکی اور سنگ دلی کی انتہا ہے، حکومت مری اور گلیات میں ٹریفک انتظامات کرنے کے قابل بھی نہیں۔مسلم لیگ (ن)کی نائب صدرمریم نواز نے کہا کہ مری میں بے یارو مددگار برف میں دھنسے رہنے والے پورے کے پورے خاندانوں کی موت کے دردناک واقعہ نے دل ہلا کے رکھ دیا ہے،حکومت کو کوسنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ مردہ ضمیر حکومت بہت پہلے مر چکی ہے،اللہ تعالی مرحومین اور انکے لواحقین اور پاکستان پر اپناخصوصی رحم فرمائے،حکومتوں کا کام صرف سیاح گننا نہیں بلکہ ان کے لیے پیشگی انتظامات اور حفاظتی اقدامات کرنا ہے۔ شہباز شریف کے بوٹوں اور خدمت کا مذاق اْڑانے والا اپنے محل میں بیٹھا اپنی گرتی ہوئی حکومت بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے،یہ اموات برفباری سے نہیں، حکومتی غفلت سے ہوئی ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مری میں سرد موسم سے سیاحوں کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مری میں افسوس ناک سانحے پر پورا ملک سوگوار ہے، بہتر ہوتا کہ مری میں سیاحوں کو سنگین صورت حال سے آگاہ کیا جاتا تاکہ ایسا سانحہ رونما نہ ہوتا،انتظامیہ سیاحوں کی فی الفور مدد کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سانحہ مری پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مری میں سیاحت کے لئے آنے والے خاندانوں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ افسوس ناک ہے،متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں،مرحومین کے لئے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کرتا ہوں،قدرت کی جانب سے دئے گئے موسم میں چند لمحوں کی خوشی کو بھی حکومت کے ناقص انتظامات نے غارت کر دیا،مری کے عوام اپنی مدد آپ کے تحت سیاحوں کی مدد کریں،حکمرانوں نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔مسلم لیگ ن کے نائب صدر اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ برف میں پھنسنے کے باعث مری میں ابھی تک 20سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سوگوار خاندانوں کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی انہیں صبر جمیل عطا فرمائے، رات کو لوگ سردی سے ٹھٹھر کر مرتے رہے اور پنجاب حکومت اور انتظامیہ نیند کے مزے لوٹتی رہی۔ حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایک لاکھ سے زائد گاڑیوں کو مری میں داخلے کی اجازت ہی کیوں دی گئی؟ اگر حکومت گاڑیوں کا داخلہ روکنے میں ناکام رہی تو پھر پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو ہی کر لیا جاتا، کیا وزیراعلی کا ہیلی کاپٹر عوام کی جانیں بچانے کے لئے استعمال نہیں ہو سکتا تھا؟مسلم لیگ ن کے نائب صدر نے کہا ہے کہ پوری انتظامی مشینری کو انسانی جانیں بچانے پر کیوں نہیں لگایا گیا، رات جب ہلاکتوں کی خبریں آنا شروع ہو گئیں تب بھی نااہل حکومت کے کان پر جوں نہ رینگی، حکومت کی سنگ دلی، بے حسی اور نااہلی کے باعث یہ انسانی سانحہ ہوا ہے۔ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت غفلت میں سوئی رہی جس کی وجہ سے 21معصوم شہری جاں بحق ہو گئے، اس کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں،عدالتی تحقیقات میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم عمران خان کو بھی پیش کیا جائے، جو بھی مجرم ہو اسے عبرتناک سزا دی جائے، انہوں نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جائے کہ اس سانحہ میں غفلت کا مرتکب کون ہوا، اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیے، مری میں 4ہزار گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہے، وہاں لاکھوں گاڑیاں کیسے داخل ہو گئیں۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ نواز دور میں ہی شاہراؤں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے تھے جس سے اس بات کا پتہ لگایا جا سکتا تھا کہ کتنی گاڑیاں جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر پاک فوج کے اقدامات کو سراہتا ہوں، جبکہ دوسری طرف اے سی مری اور ڈی سی راولپنڈی سمیت اعلیٰ حکام لاپتہ ہیں اور موقع پر موجود ہی نہیں، وہاں پر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پھنسی ہوئی گاڑیوں میں سے لوگوں کو نکال رہے ہیں جبکہ انتظامیہ مکمل طور پر فیل ہو چکی ہے۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو شرم آنی چاہیے وہ ریسکیو آپریشن پر مبارکبادیں دے رہے ہیں، اگر یہ واقعہ ان کے بچوں کے ساتھ پیش آتا تو وہ مبارکبادیں نہ دیتے، اس وقت میری ساری ہمدردیاں جاں بحق ہونے والے خاندانوں کے ساتھ ہیں، ہم اس واقعہ کو پنجاب اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی درخواست کی کہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف جب تک عدالتی فیصلہ نہیں آ جاتا اس وقت تک اس بات کو نہ چھپایا جائے اور حقائق عوام کے سامنے لاتے رہیں۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کئی دنوں سے لگاتار پیشنگوئی کر رہا تھا کہ مری، گلیات سمیت ملحقہ علاقوں میں شدید برف باری ہو گی، اس کیلئے تیاریاں ابھی سے کرلی جائیں، لیکن نہ تو وزیراعلیٰ پنجاب نے اس طرف توجہ دی اور نہ ہی مری سے چند فٹ کے فاصلے پر ڈمی وزیراعلیٰ کو چلانے والے وزیراعظم عمران خان نے کوئی توجہ دی، جس کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ رونما ہوا اور اکیس سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں پریس کانفرنس سے خطاب نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن حکومت کی بے حسی پر مجبور ہو کر حکومت کی توجہ دلانے کیلئے میڈیا سے گفتگو کر رہا ہوں، ہم نے برفباری میں پھنسے ہوئے لوگوں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر جاری کیں، مری، گلیات کے عوام نے حسب سابق اپنی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے برفباری میں پھنسے ہوئے لوگوں کو گاڑیوں سے نکالا، اپنے گھروں میں لے گئے اور ان کی مدد کی لیکن ابھی تک مری، گلیات، باڑیاں اور ایبٹ آباد میں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں جہاں پر نہ تو انتظامیہ پہنچ پائی ہے اور نہ ہی میڈیا کی دسترس، اس لئے کوئی اندازہ نہیں کہ وہاں پر لوگوں کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا اور کتنی ہلاکتیں ہوئیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کو طول دینے کے چکر میں ہیں، انہیں عوام سے کوئی غرض نہیں، وہ تو کہتے ہیں کہ مہنگائی کوئی مسئلہ نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسانوں کو یوریا کھاد تک دستیاب نہیں ہے، ہر شعبہ زندگی زوال پذیر ہے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ابھی تک امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی جا سکیں، کمشنر ایبٹ آباد سمیت انتظامیہ غائب ہے، لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں، لوگوں کے پاس نہ کھانے کو ہے اور نہ ہی پینے کو پانی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ باڑیاں سمیت کئی علاقوں میں چار دن سے بجلی غائب ہے،گلیات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بڑے بڑے درخت لوگوں کے گھروں پر گر چکے ہیں، امدادی کارروائیاں نہیں کی جا رہیں، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان خواب غفلت کا شکار ہیں جبکہ لوگ مر رہے ہیں اور حکومت عوام کو مشکلات سے نکالنے کیلئے تیار نہیں۔سابق وزیرداخلہ سینیٹر رحمان ملک نے مری میں سیاحوں کی اموات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ مری میں سیاحوں کی اموات پر پوری قوم صدمے سے دوچار ہے، مری میں موجودہ صورتحال مقامی انتظامیہ کی ناکامی ہے، مقامی انتظامیہ ٹریفک کنٹرول کرنے کا مناسب پلان ترتیب دینے میں ناکام رہی، رحمان ملک نے کہا پھنسے ہوئے سیاحوں کو بچانے کے لیے فوج کو بروقت کیوں نہیں بلایا گیا؟، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ناکامی کے ذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔ سیکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے مری میں سیاحوں کے اموات پر اظہار افسوس اور سیاحوں کو پیش آنے والی مشکلات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مری میں برفباری نے نالائق حکومت کو بے نقاب کردیا ہے، پنجاب کے نااہل وزیر آعلی سے مری بھی سنبھالا نہیں جا رہا ہے، برف باری کے دوران ملک بھر سے لوگ تفریح کیلئے مری آتے ہیں، مری کوئی ناگا پربت نہیں ہے کہ حکومت بے بسی کا مظاہرہ کر رہی ہے، حکومت کی نالائقی کی وجہہ سے سیاحوں کی اموات ہوئی ہیں۔دوسری جانب حکومتی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) نے سانحہ مری کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین، سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی نے مری میں پھنسے ہوئے سیاحوں کی ہلاکت پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں،مسلم لیگی قائدین نے کہا کہ یہ بڑا المیہ ہے کہ برفباری انجوائے کرنے والے افراد شدید برفباری اور ٹریفک کی بدترین صورتحال کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہئے اور اگر انتظامیہ کی جانب سے کوئی غفلت سامنے آتی ہے تو اس پر تادیبی کارروائی کر کے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ مری کا رخ کر رہے ہیں انتظامیہ کو پتہ ہونا چاہئے تھا کہ وہاں حفاظتی اور ٹریفک کے انتظامات کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک بیس سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے اور ہر پاکستانی کیلئے رنج و غم کا باعث ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مری اور گلیات میں محصور سیاحوں اور پھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکالنے کیلئے کوششیں تیز تر کی جائیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے پاک فوج، ایف سی اور ریسکیو 1122 کی کوششوں کو سراہتے ہوئے دعا کی کہ وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کو جلد از جلد اپنے گھروں پر پہنچنا چاہئے کیونکہ ابھی تک بڑی تعداد میں لوگ مری اور ملحقہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں