مچھ، کانکنی ایک پر خطر جان لیوا کاروبا، سہولیات نہ ہونے سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے

مچھ:مچھ معدنی کوئلے کی کانکنی ایک پرخطر اور جان لیوا کاروبار بن چکا ہے مچھ و گردنواح میں قائم درجنوں کول کمپنیاں فرسودہ اور قدیم طرز کانکنی کی وجہ سے ابتک سیکڑوں انسانی جانوں کو نگل گئی مائنز منیجر سے لے کر مستری ریسکیو تک ہزاروں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کراپنے خاندانوں کے افراد و منظور نظر افراد کو تعنیات کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مائنز حادثات روز کا معمول بن گیا ہے معدنی کوئلے کی کانکنی بارے مروجہ قوانین کی دھجیاں آڑا کر پیسہ کمایا جارہا ہے بلوچستان میں کوسٹ کے مقام پر تربیتی ادارہ بھی قائم ہے لیکن مچھ کول کمپنیز ان تمام قوانین کو پس پشت رکھ کر غیر تربیت یافتہ اور اپنے خاندان کے تمام افراد کو روزگار کے نام پر تعنیات کیا جاتا ہے جو تربیت اور نان ٹیکنیکل ہونے کی وجہ سے مربوط انتظامات کرنے سے قاصر رہ کر روایتی اندازوں پر انحصار کرتے ہیں جس کا خمیازہ محنت کشوں کو اپنی جان کی قربانی دے کر بھگتنا پڑتا ہے جبکہ حادثات کی صورت میں غریب مزدوروں کو اپنی مددآپ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے جہاں پر کمپنی کی جانب سے مزدوروں کے رہائش کا انتظام کیا گیا ہیصاف پینے کا پانی اور بنیادی صحت کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے اور نہ ہی کمپنیز کی قائم کردہ ڈسپنسریز میں عملہ وادویات دستیاب ہیں اور اور نہ ہی کسی بھی ایک کول کمپنی نے مزدوروں کو مائنز ایکٹ کیمطابق ای او بی آئی میں رجسٹرڈ کیا ہیچیف انسپکٹر مائنز بلوچستان سے اپیل ہے کہ وہ مقامی مائنز انسپکٹر مچھ کے تواسط سے ان غیر تربیت یافتہ افراد کی نشاندہی کرکے ان کیخلاف کاروائی کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں