بلوچستان میں انسداد پولیو قطرے نہ پلانے والے افراد کی تعداد میں 57 فیصد کمی آئی ہے، ربابہ بلیدی

کوئٹہ: پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں انسداد پولیو قطرے نہ پلانے والے افراد کی تعداد میں 57 فیصد کمی آئی ہے صوبے سے پولیو وائرس دم توڑنے لگا گزشتہ ایک سال کے دوران بلوچستان میں پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کسی انوائرمنٹل سائٹ سے پولیو وائرس رپورٹ ہوا ، موثر اقدامات کی بدولت پولیو کے خاتمے کے اہداف کے قریب پہنچ گئے ہیں پولیو کا خاتمہ عالمی کمنٹمنٹ کے تحت ہماری قانونی زمہ داری ہے جلد ہی بلوچستان سمیت پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کی نوید دیں گے یہ بات انہوں نے بلوچستان کے 15 اضلاع میں آج سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہی، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں پولیو کا آخری کیس 27 جنوری 2021 کو قلعہ عبداللہ میں رپورٹ ہوا تھا اس کے بعد الحمد اللہ پورے سال بلوچستان کے کسی بھی علاقے سے کوئی کیس سامنے آیا نہ پولیو کے وائرس ملے، اسی طرح بہتر اور مدلل حکمت عملی کے باعث بلوچستان میں رفیوزل میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے جنوری 2021 میں انکاری افراد کی تعداد 14 ہزار تھی جو کہ دسمبر 2021 میں آٹھ ہزار رہ گئی اس طرح رفیوزل کی شرح 57 فیصد کم ہوئی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پولیو ٹیمیوں کو سیکورٹی کی فراہمی کے لئے ضلعی انتظامیہ کو فول پروف انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے والدین سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپبے بچوں کو مستقل معذوری سے بچانے کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے علماء کرام خطیب حضرات میڈیا اور تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں محکمہ صحت کی ٹیمیوں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے نزدیک ہیں اور مل جل کر جلد ہی پورے ملک سے اس موذی مرض کا خاتمہ کردیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں