چین یا امریکہ؟پاکستان نے اپنی ترجیح کا اعلان کر دیا

مبصرین کی ایک محدود تعداد کے سوا اکثریت بہت پہلے جان گئی تھی کہ پاکستان نے امریکہ کی بجائے چین کو اپنی پہلی ترجیح مان لیاہے اور اس فیصلے کے بعد خاموشی سے اس نے اتنا فاصلہ طے کر لیا ہے کہ واپس جانا تو ممکنات میں نہیں رہا، البتہ امریکہکو سوچنا ہے کہ نئی صورت حال میں اس نے پاکستان کے ساتھ کیسے روابط رکھنے ہیں۔پاکستان جہاں ہے اور جس حال میں ہے،مطمئن ہے کہ اس کا حال اور مستقبل چین سے، سکون سے گزرجائے گا۔ آئندہ نسلیں بھوک، بیماری، جہالت اور بیروزگاری کا شکار نہیں ہوں گی۔پاکستان نے سمجھ لیا ہے کہ اپنے تمام قدرتی وسائل کو بروئے کار لائے بغیر ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھنا ممکن نہیں۔ ترقی اور خوشحالی کے لئے امن اوراستحکام لازمی شرط ہے۔یہ بھی پاکستان کے علم ہے کہ جو ملک دفاعی لحاظ سے کمزور ہو اسے عسکری طور پر طاقت ور ملک، کسی نہ کسی بہانے، تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ عراق، شام، لیبیاء اور افغانستان سمیت متعددخلیجی ریاستوں کی تباہی ہماری دونسلوں نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھی ہے۔افریقی اورلاطینی امریکہ کے ممالک کی تباہی اس سے کچھ عرصہ پہلے کی کہانی ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو ممالک نے دنیا بھر میں جو ظلم و بربریت کی داستانیں رقم کیں، دنیا بھر کے سینئر سٹیزن اس کی تفصیلات و جزئیات سے واقف ہیں۔پاکستان بھی اپنی معاشی پسماندگی کے ذمہ داروں سے شناسا ہے۔لیکن یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ان کی پشت پر ان کی سرپرستی کرنے والے ممالک مکمل ڈھٹائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔تاہم اس کے یہ معنی بھی نہیں لئے جاسکتے کہ پاکستان جلد یا بدیر تھک ہار کر،ماضی کی طرح امریکہ کو گود میں جا بیٹھے گا۔ پاکستان نہایت خاموشی سے گزشتہ چار پانچ دہائیوں کے دوران ان مجبوریوں سے بتدریج باہر نکل آیا ہے،اس نے زندہ رہنے کے نئے ڈھنگ سیکھ لئے ہیں۔یہ سب کچھ اتنی آہستگی سے رونما ہوا کہ پاکستانی سیاست کی صف اول کے ماہرین بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ پاکستان واقعی امریکہ کے بغیر زندہ رہنے کے قابل ہو چکا ہے۔حتیٰ کہ امریکہ کو پاکستانی مسائل کی بنیاد کہنے والے تجزیہ کار بھی یہ مشورے دے رہے ہیں کہ امریکہ سے قطع تعلق مناسب نہیں۔وہ امریکی صدر کی اس ٹیلی فون کو بھی بھول بیٹھے ہیں:۔۔۔۔”ہمارے دوست ہویا دشمن؟“۔۔۔۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ امریکہ نے اس سوال پر کوئی تفصیلی گفتگو نہیں کی تھی، یہ سوال پوچھنے کے لئے اپنے کسی ذمہ دار ریاستی نمائندے کو نہیں بھیجا تھا۔اور پاکستان نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کا مشرقی ہمسایہ امریکی جنگ میں فرنٹ مین بننے کوبری طرح بیتاب ہے،یہ جگہ اپنے لئے مناسب سمجھی۔ بصورت دیگر امریکی طیارے اس کی فضائی حدود پا کرکے افغانستان پہنچتے، اور پاکستان کو دہرے عذاب سے دوچار ہونا پڑتا۔اس فیصلے پر اس وقت کی حکومت کو سخت تنقید سننے کو ملی،مگر آج دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان نے مشکل وقت پرانتہائی کم وقت میں درست فیصلہ کیا تھا۔پاکستانی سیاست دان چار پانچ دہائیوں حکمرانی کا طویل تجربہ رکھنے کے باوجوداس حکمت عملی کی گہرائی اور وسعت کا اندازہ نہیں لگا سکے تھے۔سچ تو یہ ہے کہ وہ آج ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد بھی 2001کے پاکستانی جواب کی حکمت نہیں سمجھ سکے۔ذہنی اور فکری اعتبار سے آج بھی 90کی دہائی میں زندہ ہیں۔ وہ یہ ماننے کو سرے سے تیار ہی نہیں خطے کا منظر یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔نیٹو چکے جنرل سیکرٹری امریکہ کو سمجھا رہے ہیں کہ نیٹو کا منشور غور سے پڑھے، نیٹو اتحادی یوکرائن کے مسئلے پر امریکہ کا ساتھ دینے کے پابند نہیں۔ امریکہ جو فیصلہ کرے اچھی طرح سوچ سمجھ کر کرے، بعد میں ہمیں کوئی الزام نہ دے۔واضح رہے،ایسا برا وقت امریکہ نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔امریکی تھنک ٹینکس کو بھی نیٹو سیکرٹری جنرل کا یہ بیان عجیب لگ رہا ہوگا۔اس سے چند ہفتے پہلے فرانس نے اسی قسم کی شکایت کی تھی اور کہا تھا کہ ہمیں بتائے بغیر آپ نے آوٹریلیاکوایٹمی آبدوز فرام کرنے کا فیصلہم میا معاہدہ کیسے کرلیا؟آج خطے کی سیاست پر امریکہ اپنا اثرو رسوخ کھو چکا ہے۔31اگست کو کابل سے انخلاء کے بعد امریکہ کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ دنیا کے رویہ میں یہ تبدیلی کیونکر آگئی ہے؟حالانکہ امریکہ افغان عوام کے اربوں ڈالر مختلف حیلوں بہانے سے منجمد کئے بیٹھا ہے۔جبکہ افغان حکومت کو سردی کے موسم میں اپنے عوام کی غذائی اور ادویات کی ضروریات کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ حتیٰ کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے بھی رقم موجود نہیں۔ بعض ملکوں سے سفارت کاروں کا ملازمت چھوڑ کر جانے اطلاعات بھی میڈیا پر چلتی رہی ہیں، طاہرہے کہ امریکہ پوری صورت حال سے باخبر ہے۔حیرت اس بات پر ہے کہ امریکی تھنک ٹینکس 20سالہ جنگ میں افغان طالبان (اور افغان عوام) کے حوصلے پست نہ کر سکنے کے باوجود اثاثے روک کر کچھ پانے کی امید لگائے ہوئے ہیں۔انہیں ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ افغان طالبان اور عوام روکھی سوکھی کھا کر زندہ رہنے کا ہنر جانتے ہیں، امریکی عوام اور فوجیوں کی طرح پرتعیش کھانوں کے عادی نہیں۔اشرف غنی اور حامد کرزئی جیسے چند افغان جو ڈالروں پر اپنی عزت اور وقار کا سودا کر لیتے ہیں، ان کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی ہے اور وہ ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ عوام کو جیسے ہی اقتدار ملتا ہے پہلی فلائٹ سے ڈالروں سمیت بھاگ جاتے ہیں۔امریکی تھنک ٹینکس ابھی تک یہ چھوٹی سی سچائی بھی نہیں سمجھ پائے کہ جو شخص اپنی قوم سے غداری کرتا ہے وہ غیر ملکیوں کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟ویت نام کی شکست کے بعد کابل انخلاء تک 7دہائیوں کے دوران یہ بات تو سمجھی جا سکتی تھی۔مگر کمزور اقوام کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے والوں کے پاس ایسی فضول باتیں سوچنے کا وقت نہیں ہوتا۔پہلے عراق کو اپنا فرنٹ میں بنا کر 8سال تک ایران سے جنگ لڑاتے ہیں، پھر اسے کویت پر چڑھائی کا ٹاسک دے کرکویت سمیت دیگر عرب ممالک کو لوٹا پھر اپنے وفادار صدام حسین کو اپنے ہاتھوں پھانسی دی اور یہی سلوک لیبیاء کے حکمران کرنل قذافی کے ساتھ کیا جسے خواتین کی حفاظت میں رہنے کا شوق تھا۔جب حکمران دنیا کے لالچی اور حریص حکمرانوں کے لئے خود کو آسان چارہ بنا لیں تو تاریخ کی کتب میں مؤرخ کے قلم سے اسی قسم کے مناظر لکھے جاتے ہیں۔یہ حقیقت یاد رہے کہ آج تک شہنشاہ ایران سمیت کسی غدار کو اپنے ملک میں دفن ہونا نصیب نہیں ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں