لاہور کے بعد کراچی اور پشاور میں بھی بخار اور جسم درد کی دوا ناپید
کرا چی،پشاور: ملک بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس کی پانچویں لہر تیزی سے پھیل رہی ہے اور دوسری جانب کورونا کے مریضوں کو دی جانے والی ادویات کی قلت بھی ہو گئی ہے۔ لاہور کے بعد اب کراچی اور پشاور میں بھی بخار اور جسم کا درد دور کرنے میں استعمال ہونے والی دواں کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ کراچی میں دوا غائب ہونے کی خبر نے شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض ادویات میڈیکل اسٹورز پر دستیاب ہی نہیں ہیں جس سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عام بخار اور کورونا سے بچا کی ادویات بھی مارکیٹ سے غائب ہیں جس کے نتیجے میں پریشان حال مریضوں اور ان کے لواحقین کو جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔ ادویات کی عدم دستیابی نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی مشکلات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔جبکہ دوا کے ایک پتے کی قیمت میں 9 روپے اضافہ کردیا گیا ہے۔ ہول سیل فارما ایسو سی ایشن صدر زبیر میمن نے کہا کہ کراچی میں بھی بخار اور درد کی دوا کم ہو گئی ہے جب کہ ایک پتے کی قیمت 16 روپے سے بڑھ کر 25 روپے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی کمپنیاں مہنگا خام مال دے رہی ہیں اور خام مال میں زیادہ لاگت کے سبب دوا ساز کمپنی نے دوا کی تیاری کم کردی ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ روز پنجاب میں عام بخار اور کورونا سے بچا کی دوا مارکیٹ سے غائب ہونے کی وجہ سے مریضوں اور ان کے لواحقین کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جس پر وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ادویات کی قلت کا نوٹس لے لیا۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے حکام کو ادویات کی قلت پیدا کرنے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا بھی حکم دیا تاہم ادھر سیکرٹری صحت پنجاب عمران سکندر بلوچ نے کہا کہ صوبے میں بخار کی دوا کی کوئی قلت نہیں ہے اور اس وقت مجموعی طور پر 6 کروڑ 86 لاکھ گولیوں کا اسٹاک موجود ہے۔


