کینیڈا میں کورونا پابندیوں کیخلاف ہونے والا احتجاج میں 5 ہزار افراد کی شرکت
اوٹاوا: کینیڈا کے دارلحکومت اوٹاوا میں گزشتہ ایک ہفتے سے کورونا پابندیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کا سلسلہ ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیا ہے۔ جب کہ ہزاروں ٹرکوں نے دارلحکومت میں تمام راستے بند کردیے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کورونا ویکیسن کے حوالے سے جاری ہونے والی نئی کراس بارڈر ہدایات کے خلاف اوٹاوا سے شروع ہونے والے مظاہروں نے مختلف شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اور دیگر افراد بھی ان مظاہروں میں شرکت کر رہے ہیں۔اوٹاوا پولیس سربراہ کے مطابق گزشتہ روز دارلحکومت میں 5 ہزار افراد کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا تھا، تاہم اب مظاہرے کا دائرہ کار کیں یڈا کے بڑے شہروں ٹورونٹو، کیوبیک سٹی، فریڈریکٹون اور ونی پیگ تک پھیل گیا ہے اور ہزاروں مظاہرین نے پر امن احتجاج شروع کردیا ہے۔غیرملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہم کورونا سے حوالے سے عاید کی جانے والی پابندیوں سے تنگ ا?چکیہیں، ہم ایک بڑی جیل میں قیدی کی زندگی گزار رہے ہیں۔مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم ویکسین کے نام پر زہر کواپنی رگوں میں اتارنے کے بجائے نارمل زندگی کی طرف واپس لوٹنا چاہتے ہیں۔فریڈم کانوانے کے نام سے شروع ہونے والی یہ تحریک حکومت کی جانب سے کراس بارڈر ٹرک ڈرائیوروں کے لیے کینیڈین ویکسین کی ضروریات کے خلاف شروع کی گئی ہے۔مظاہرین کورونا کے تناظر میں صحت عامہ کے اقدامات اور وزیر اعظم جسٹن ٹروڈ کی حکومت کے خلاف بھی مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے 8 دنوں سے اوٹاوا کے مرکزی حصے کو بند کر رکھا ہے۔


