شعبہ ماہی گیری کی صنعت کو لیبر کا درجہ دیا جائے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری فشریز آدم قادر بخش نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شعبہ ماہی گیری کی صنعت کو لیبر کا درجہ دیا جائے اور ماہی گیرکالونی کیلئے فوری طور پر اراضی فراہم کی جائے اور بلوچستان کی سمندری حدود میں غیرقانونی طریقے سے مچھلی کا شکار کرنے والے ٹرالرز مافیاکے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو پارٹی رہنماو ں ستار بلوچ، منظور راہی بلوچ، فاروق بلوچ،سنگت قادر،انیل غوری اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحل بالخصوص ضلع گوادر لسبیلہ کی سمندری حدود میں مہلک جالوں سے لیس ٹرالرز بارہ ناٹیکل میل کی جانب سے سرعام خلاف ورزی کررہے ہیں بلوچستان کے ساحلی علاقے سمندری حیات کیلئے زرخیز سمندر ہیں ان علاقوں میں ٹرالنگ کے ذریعے مچھلی کی نسل کشی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ماہی گیر نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ فشریز کی عدم توجہی کی وجہ سے محکمہ فشریز کی تمام پٹرولنگ بوٹس اور گن بوٹ ناکارہ ہوچکی ہیں محکمہ فشریز دو مہینے سے پٹرولنگ نہیں کررہی ہے حکومت بلوچستان اور محکمہ فشریز نے سمندر ٹرالرز مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ د یا ہے جس کی نیشنل پارٹی مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے بلند و بانگ دعووں کے باوجودسمندر میں سینکڑوں ٹرالرز غیرقانونی شکار کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ضلع گوادر کی تمام خالی اساتذہ اسامیوں کو پر کرے اور ضلع بھر کے تمام اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کو مرمت کیا جائے جہاں کلاس روم کی کمی ہے وہاں نئے کلاس رومز تعمیر کئے جائیں،ضلع گوادر کے ڈاکٹرز کی خالی اسامیوں پرڈاکٹرز کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ ماہی گیری کی صنعت کو لیبر کا درجہ دیا جائے اور ماہی گیرکالونی کیلئے اراضی فراہم کی جائے،پی پی ایچ آئی کے تمام ملازمین کو محکمہ صحت مستقل کرے۔انہوں نے کہا کہ پسنی فش ہاربر کو ڈرینج کیا جائے سوڈڈیم متاثرین کے 50فیصد معاوضے کو ادا کیا جائے اور حالیہ طوفانی بارشوں سے گوادراور پسنی کے متاثرین کی فوری امداد کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں