سیاست ایک بار پھر عدالتی کمرے میں
پاکستان کو قدرت نے قیمتی وسائل سے نوازنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔سارا سال بہنے والے دریا عطا کئے، چار موسم بھی اپنی جگہ ایک بڑی نعمت سمجھے جاتے ہیں۔صرف ریکوڈک کے سونے کے ذخائردنیا میں پانچویں نمبر پر مانے جاتے ہیں۔سیندک کا سونا، چاندی،کاپر اور دیگر قیمتی دھاتیں ہم کھا پی گئے، کسی کو علم نہیں یہ کتنی مالیت کی تھیں۔واضح رہے جو پیسہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں ہوا، وہ مفاد پرستوں کی جیب میں گیا۔بلوچستان کے سیاسی رہنماقدرتی وسائل میں صرف سوئی گیس کی بات کرتے ہیں اوراس معاملے پر اعداد و شمار پیش نہیں کئے جاتے، شاعرانہ پیرائے میں کہا جاتا ہے ”سوئی گیس سے پاکستان کے تمام کارخانے چلے اور گھروں کے چولھے جلے مگر سوئی کے رہنے والے آج بھی گیس سے محروم ہیں۔ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ کا معاہدہ اگرایک پنجابی نژاد”بلوچ“چیف جسٹس آف پاکستان کی ”نیک نیتی“ کے باعث عدالت کے نوٹس میں نہ آتا، تو شاید بلوچ (اورپاکستان کے) عوام کو بھی یہ علم نہ ہوسکتا کہ یہ قیمتی وسائل کہاں جارہے ہیں؟ کتنی جیبوں اور کتنی تجوریوں میں جارہے تھے؟اس بارے تاحال لچھ نہیں بتایا گیا، ابھی غیر ملکی کمپنی نے پاکستان(اور بلوچستان) کی گردن دبوچ رکھی ہے۔بلوچ عوام کو سابق وزرائے اعلیٰ کی زبانی صرف یہ بتایا جاتا تھا کہ انہیں ”2پرسنٹ“ کا ایک پرچہ تھما دیا جاتا ہے،98 فیصد کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ 2010میں 18ویں ترمیم کے بعد معدنی وسائل صوبے کی ملکیت قرار دیئے گئے ہیں۔لگتا ہے سابق وزرائے اعلیٰ سے زیادہ باخبر میڈیاہے۔اسے معلوم ہے کہ 1993میں کئے گئے معاہدے کے مطابق پاکستان کو25فیصد ملتا تھا۔عام آدمی کس کی بات کو سچ مانے؟سابق وزیر اعلیٰ کی؟ یا میڈیاکی؟اس بحث میں یپہ پہلو بھی سامنے رہے کہ جن دنوں غیر ملکی کمپنی کے ساتھ مذکورہ معاہدہ کیا گیا تھا اس وقت عالمی عدالت نے بلوچستان حکومت پر 4ارب ڈالراور وفاق پر6 ارب ڈالر جرمانہ نہیں کیا تھا۔پاکستان اور بلوچستان کی حکومتیں عالمی عدالت کے فیصلے کی بناء پر دباؤ میں نہیں تھیں۔آج عالمی عدالت بلوچستان اور وفاق پر مذکورہ جرمانہ عائد کر چکی ہے، پاکستان قانونی لحاظ سے ہارا ہوا فریق ہے، بارگیننگ کے اعتبار سے کمزور ہے۔معاشی طور پر پاکستان کی حالت یہ ہے کہ پرانے قرض کی اقساط ادا کرنے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس 6ارب ڈالر قرضہ کی درخواست لئے کھڑا ہے اور اسے عالمی مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط ماننے کے بعد ساڑھے تین سال میں صرف 3ارب ڈالر ملے ہیں۔عالمی برادری میں پاکستان کی کتنی توقیر ہے اسے جاننے کے لئے یہ کافی ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسلامی ممالک کی اپنی ہی بلائی گئی کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکے تھے،قرض بھی کھڑے کھڑے واپس کرنا پڑا تھا۔آئی ایم ایف دیوالیہ قرار دیتا ہے مگر سیاسی عزت کا خیال رکھتاہے۔دوست ممالک (اسلامی ہونے کے باوجود) ناراض ہو جائیں توسیاسی طور پر بھی بیچ چوراہے ننگا کر دیتے ہیں۔ملائیشیا جانے سے روکنا قابل ذکر مثال ہے۔ان کے بارے میں شاعر نے بجا طور پر درست کہا ہے:
بھاگ ان بردہ فرشوں سے کہاں کے بھائی؟
بیچ ہی ڈالیں اگر یوسف سا برادر پائیں!
جسے عزت چاہیئے، اپنی معیشت کاخیال رکھے،اسے بگڑنے نہ دے۔دوسروں سے 22مرتبہ قرض لے کر بجٹ بنانااپنے عوام کو عالمی مالیاتی اداروں کا غلام بنانے کے مترادف ہے۔آئی ایم ایف وہی سلوک کر رہا جو کوئی بھی آقا اپنے غلاموں کے ساتھ روا رکھتا ہے۔قرض کی نئی قسط جاری کرنے سے پہلے اپنی شرائط پر عملدرآمد کراتا ہے، صرف دستخط نہیں کراتا۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا اپوزیشن اور حکومت عوام کی گردن آئی ایم ایف کے چنگل سے چھڑانے کے لئے ایک ہوکر سوچتے۔اگر ایک ہوکر نہیں سوچ سکتے تب بھی پارلیمنٹ میں اپنے علم اور تجربہ کے مطابق درست تجاویز تو دے سکتے ہیں۔ساڑھے تین سال گزر چکے ہیں، حکومت اور اپوزیشن میں سے کسی ایک کا غصہ کم نہیں ہوا، دشنام طرازی میں کمی نہیں آئی۔ ہر اجلاس میں ہلڑ بازی اور ہنگامہ آرائی کے سوا کچھ نہیں دیکھنے کو ملتا۔اپوزیشن کا خیال تھا پی ٹی آئی کی حکومت ناتجربہ کار ہے،(بلکہ نا اہل بھی ہے)،اپنی ناتجربہ کاری اور نااہلی کی بناء پر پے درپے معاشی اور سیاسی غلط فیصلے کرے گی اور ان غلط فیصلوں کے بوجھ کے ساتھ خود ہی زمین بوس ہو جائے گی۔ساڑھے تین سال میں اپوزیشن کی توقع پوری نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کو پکی امید تھی کہ پی ٹی آئی کی حکومت عالمی سطح پر بھی تنہا ہوجائے گی۔افغانستان میں بالخصوص اپوزیشن کو کامل یقین تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو بری طرح شکست ہوگی۔مگر افغان طالبان نے حیران کن طور پر امریکہ اور اس کے نیٹو حمائتیوں کو مجبور کر دیا کہ وہ دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان کو امریکہ کے ساتھ میز پر بٹھانے کے لئے پاکستان کی منتیں کریں۔واضح رہے31 اگست 2021کو کابل سے امریکی افوج کا انخلاء دوحہ معاہدے کا منطقی نتیجہ تھا۔اس کے ہر محاذ پر امریکہ کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔اس کا ثبوت امریکہ کا یہ اعلان ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود دنیا اسغان میں بینکوں کے ذریعے لین دین کر سکتی ہے، تاکہ افغان عوام کی اقتصادی پریشانی دور ہو سکے۔علم سیاست کی کتب میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیاجاتا ہے کہ سیاستدان میں دیوار کے پار دیکھنے کی صلاحیت ہونی چاہیئے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کو اس حوالے سے مایوسی ہوتی ہے۔ملک میں بار بار مارشل لاء کا نفاذسیاسی ناکامی کی واضح مثال ہے۔وینزویلا اور ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی سے یہی پیغام ملتا ہے کہ جو حکومت اپنے عوام کی مشکلات دور کرتی ہے،اس کا تختہ الٹ کر مارشل لاء نہیں لگایا جا سکتا۔جنرل پرویز مشرف کے عدالتی خوف سے بیرون ملک فرار کے بعد پاکستان میں توقع کی جا سکتی ہے کہ آئندہ کوئی جنرل رات گئے، پچھلے پہر:”ہیلو مائی کنٹری مین!“کہنے کی جسارت نہیں کرے گا۔لیکن اس کے لئے سیاست دانوں کو وطن واپس آکر عدالتوں کا سامنا کرنا ہوگا،ورنہ ابھی تک سولین اور فوجی حکمرانوں کا پلڑابرابر ہے؛ایک جنرل حکمرانبیرون ملک بیٹھا ہے، اور دوسرا تین بار وزیر اعظم رہنے والا سیاست دان ہے،دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔دونوں مفرور ہیں،اوردونوں اشتہار ی ہیں۔


