عدالتی کارروائی میڈیا پر براہ راست دکھانے کی خواہش
عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کی حکومتی خواہش بظاہر بڑی معصومانہ ہے،اس کا مقصد یہ ہے کہ ملزمان جو کچھ عدالت میں دوران سماعت کہتے ہیں یا بعض سوالوں کا جواب دینے کی بجائے آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں مگر عدالت سے نکلتے ہی میڈیا کے روبرو اس کے برعکس دعویٰ کرتے ہیں کہ استغاثہ کے پاس ثبوت نہیں، جھوٹا مقدمہ قائم کر رکھا، مقدمہ چلائیں تو میری بیگناہی ثابت ہو جائے گی۔حکومت چاہتی ہے کہ ملزمان کے جھوٹے دعووں اور دوغلے پن کا راستہ بند کر سکے۔قومی اسمبلی میں قراداد لانے کی کوشش اس سمت میں پہلاقدم ہے۔پاکستان میں سیاست کے نام پر جو گل کھلائے گئے ہیں اس بارے میں مستقبل کا مؤرخ درست رائے دے سکے گاآج کچھ کہنا اس لئے ممکن نہیں کہ مکمل ڈیٹا کسی کے پاس نہیں۔ رائے دینے والے غیر جانبدار نہیں، ایک یا دوسرے فریق کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔اپنے سب کو اچھے لگتے ہیں، ساری برائیاں غیروں میں نظر آتی ہیں۔ علاوہ ازیں سیاست دان کہتے ہیں کہ انہیں تو ہر پانچ سال کے بعد عوامی احتساب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔احتساب ان کا ہونا چاہیئے جو عملاً مختار کل ہیں، امور مملکت چلاتے ہیں۔ان کا اشارہ ملٹری اور سول بیوروکریسی کی طرف ہوتا ہے اور ان دونوں میں سے بھی وہ اول الذکر کے احتساب کے متمنی ہیں۔یہ قضیہ بھی دیر تک حل طلب رہے گا۔اس لئے کہ اس قسم کی باتیں اسی وقت اچھی لگتی ہیں جب موڈ اچھاہو، بھوک نہ ستا رہی ہو۔یہ ڈر نہ ہوکہ کوئی قرض خوا کسی لمحے دروازے پر دستک دے سکتا ہے۔آج پاکستان کی معاشی صورت حال یہ ہے کہ کہ برادر اسلامی ملک نے 3ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ایک سال کے لئے جمع کرانے سے پہلے ایک کاغذ پر لکھوا لیا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے دیوالیہ ڈکلیئر کر دیا جاتا ہے تو سعودی عرب اپنی رقم72گھنٹوں میں واپس لے سکتا ہے۔جتنی مدت یہ 3ارب ڈالر پاکستان کے بینک میں جمع رہیں گے پاکستان 4فیصد سالانہ سود بھی ادا کرے گا۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے سینیٹ میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ قرض لیتے وقت اس قسم کی شرائط لکھوائی جاتی ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔اس موقع پر وزیر خزانہ نے ایوان بالا کو یقین دلایا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے خطرے سے باہر نکل آیاہے۔ٹی وی ٹاک شوز میں سے ایک میں سابق سفیر نے اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک نہ لائے جانے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اپوزیشن (مسلم لیگ نون)موجودہ معاشی بدحالی کی بناء پر حکومت میں آنانہیں چاہتی کیونکہ اسے علم ہے ڈیڑھ سال میں معیشت سدھارنا اس کے بس میں نہیں، قومی اور صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ اور سینٹ میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی نون لیگ کے پاس ہے،سیاسی بطور پر ان عہدوں کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔پی پی پی 2023 تک ان ہاؤس تبدیلی چاہتی ہے تاکہ سندھ میں اس کی حکومت جاری رہے۔اس کی ضرورت(نون لیگ کی طرح) مائنس ون ہے کہ عمران خان وزیر اعظم نہ رہیں۔ان کی جگہ پی ٹی آئی کا کوئی دوسرا ایم این اے یہ منصب سنبھال لے جو ان سے ہاتھ ملائے،انہیں دیکھ کر مسکرائے۔انہیں ہر تقریب میں چور اور لٹیرا نہ کہے۔جبکہ مولانا فضل الرحمٰن فوراً نئے انتخابات کرائے جائیں کیوں کہ ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں، عمران خان کو لانے والوں نے ان کے سر پر سے ہاتھ اٹھا لیا ہے،بلدیاتی انتخابات کی طرح وہ قومی اور صوبائی اسمبلی میں بھی بہت کچھ پانے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔گویا پی ڈی ایم میں شامل ہر پارٹی کی منزل جدا ہے۔اس لئے تبدیلی بھی ایک قسم کی نہیں، الگ الگ ہے۔یعنی ایک ہی ڈبے میں بیٹھے مسافر وں کی جیب میں مختلف شہروں کے ٹکٹ ہیں۔یہی وجہ ہے حکومت پورے وثوق سے کہہ رہی ہے،نہ لانگ مارچ ہوگا اور نہ ہی عدم اعتماد۔ بلکہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد تو یہاں تک یقین رکھتے ہیں اپوزیشن عمران خان کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ 2008کے بعد اقتدار میں آمنے والی دونوں پارٹیوں نے اپنی مدت 5سال پوری کی، اس سے پہلے ان میں سے کسی کی حکومت ختم نہیں کی گئی۔وزیر اعظم تبدیل ہوتے رہے مگر پسارٹی وہی رہی۔اس کے علاوہ یہ خبریں بھی میڈیا کی رونق بنی ہوئی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اسی ماہ(فروری میں ہی) روس کا دورہ کرنے والے ہیں،اور ان کا یہ دورہ 22سال بعد پاکستان کے وزیر اعظم کا دورہ ہے۔گیس پائپ لائن سمیت متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے۔اس کے نتیجے میں نہ صرف پاک روس تعلقات مستحکم ہوں گے بلکہ پاکستان کی معیشت میں بھی بہتری آئے گی،لوگوں کو روزگار ملے گا۔دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہمیشہ کے لئے ٹل جائے گا۔ اس کے بعد ترکی کے صدر پاکستان کا دورہ کریں گے،چین کے صدر کا دورہ بھی متوقع ہے۔اہم ملکوں کے سربراہان کی جانب سے ایسے دورے اس وقت نہیں کئے جاتے جب کسی حکومت کے چل چلاؤ کا وقت ہو۔اپوزیشن ابھی تک اپنا پلان اے تیار نہیں کر سکی، جبکہ ماضی میں حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے ایک سے زائدپلان پر غور کیا جاتا تھا۔اگلے روز پی ڈی ایم کے سربراہ کا لب و لہجہ اور ان کی بدنی بولی سے بھی یہ پیغام نہیں ملا کہ اپوزیشن کسی حتمی فارمولے تک پہنچ گئی ہے۔معولانا کے مطابق حالات بدل گئے ہیں، گراؤنڈ تیار کرنے کے لئے مراحل باقی ہیں۔حکومتیارحادیوں سے رابطہ کیا جائے گا۔پی ٹی آئی کے ارکان کے پاس نہیں جائیں گے۔کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ ہم کسی کو پیسے یا سیٹوں کا لالچ دیں گے۔وفاق سے صوبوں تک جہاں ہو سکا عرم اعتماد لائیں گے۔نون لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ”عوام دیکھ رہے ہیں کون حکمرانوں سے جان چھڑائے گا، مولانا کے پیپلز پارٹی سے سے تعلقات مجھ سے بھی پرانے ہیں“۔ایسی پریس کانفرنسز سے عوام کو گھروں سے نہیں نکالا جا سکتا۔یاد رہے پہلے حکومت سے نجات کے جذبے سے سرشارمسائل زدہ عوام گھروں سے نکلتے ہیں،ان کا غم غصہ بے قابو ہوجائے تب حکومت گھر جانے کا سوچتی ہے۔فی الحال نہ عوام میں کوئی ہلچل پیدا ہوئی ہے اور نہ ہی اتحادیوں نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کی حامی بھری ہے۔مسلم لیگ قاف کا جواب معنی خیز ہے:”انہوں نے حکومت سے کوئی معاہدہ نہیں کیا، ان کا معاہدہ ”ریاست“ سے ہے۔پاکستان کی 74سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی سیاسی پارٹی نے ”ریاست“ سے معاہدہ کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ایسے انکشافات کی روشنی میں حکومت کو گھر بھیجنا ممکن نہیں جبکہ ”کھچڑی“ کا ابھی سامان جمع ہورہا ہے، پکی نہیں، پکے گی تو خوشبو آنا شروع ہوگی۔


