اخلاقی آداب کے تقاضے
جب معاشرہ انحطاط پذیر ہو تو اخلاقی آداب کا خیال رکھنا ترک کردیا جاتا ہے۔تنقید کے نام پر فحاشی رائج ہوجاتی ہے۔ذو معنی فقرے بازی اور مخالفین کے بارے میں جو منہ میں آئے بلاجھجک کہہ دینا قابل تحسین رویہ بن جاتا ہے۔چھوٹے بڑے کی تمیز اٹھ جاتی ہے۔ جو سامنے آئے طنزیہ جملے کسنا شروع کر دیتے ہیں،جیسے پہلے سے تہیہ کئے بیٹھے ہوں۔ پاکستانی معاشرہ بھی اسی مقام پر آچکاہے۔ اگراصلاح احوال میں تاخیر کی یہ تو نفسیاتی عارضہ سب کچھ تباہ کردے گا۔کوئی شخص آسمان سے بارش کے قطروں کی طرح زمین پر نہیں اترتا، اپنی زندگی کسی الگ تھلگ ویران جزیرے میں نہیں گزارتا۔ ہر انسان کی پیدائش سے پہلے اس کے ماں باپ،دادی دادا، نانی نانا،چچی چچا، خالہ خالو، ممانی ماموں وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔یہ مل کر اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔اوریہی سب مل کر خاندان، قبیلہ،اور معاشرہ کہلاتے ہیں۔اس لئے معاشرے کا ہر رکن ایک دوسرے کا احسان مند ہے۔کسان کھیتی باڑی کرتا ہے، گندم، چاول، دالیں، سبزی اور پھل اگاتا ہے۔دوسرے دودھ دینے والے جانور پالتے ہیں ، ان لوگوں کی محنت سے دودھ اور گوشت کی ضرورت پوری ہوتے ہے دیگر لوگوں کا ذریعہ معاش دیگر معاشرتی ضرورتوں کی تکمیل ہے۔ریاست بھی کوئی خیالی تصور نہیں، اس کے بھی اجزائے ترکیبی ہیں۔ سب واقف ہیں۔تمام شعبے معاشرے کی ضرورت ہیں اور باہم مل کر معاشرے کو توانا بنانے میں مصروف ہیں۔ ان میں کوئی ایک یا ایک سے زیادہ اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی بجائے گالم گلوچ کرنے لگیں تو سمجھ لینا چاہیئے کہ معاشرہ بیمار ہے۔بیماری کا بروقت علاج نہکیا جائے توق یہ بڑھ کے معاشرتی بقاء کے لئے ایک خطرہ بن جاتی ہے۔پاکستان میں جو کچھ آج ہورہا ہے، جس طرح معیشت تباہی کے دہانے تک پہنچ چکی ہے۔صحافی آئی بی اہلکاروں کی ویڈیوز بنا رہے ہیں، آئی بی کے اہلکار اور افسر صحافیوں کو خودہی سزا دے رہی ہے۔دونوں عدالت بنے ہوئے ہیں۔دوسرے سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ویڈیوز دکھا کر اپنی انا کی تسکین کی تگ و دو میں لگے ہیں۔حکومت پر تنقید ہوئی تو ایف آئی نے چھاپے مارے۔ایک ہلچل مچی ہے۔ہر فریق اپنی طاقت کے بل پر دوسروں کو نیچا دکھانے کی فکر میں ہے۔کسی کو یہ خیال نہیں کہ اس عمل کے نتیجے میں معاشرہ تباہ ہوگا یا ریاست کمزور ہوگی؟ہرشخص اپنی مونچھ کو بل دے رہا ہے۔سچ یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، غلط ہے، نہیں ہونا چاہیئے۔ مگر جنونی کیفیت میں سب سوچنے سمجھنے سے معذور ہیں۔ ایسے مناظر ماضی میں بھی عوام نے دیکھے ہیں لیکن ان کا انجام نعروں اور توقعات کے برعکس نکلا۔آج بھی اصلاح احوال کے نام پر کسی مشترکہ لائحہ عمل کے بغیربعض منتشرالخیال ٹولے مختلف سمتوں میں بھاگے جا رہے ہیں۔ اس بے سمت اور بے مقصد بھاگ دوڑ کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا؟ کوئی پیشگوئی ممکن نہیں۔زمینی حقائق جانے بغیراندازوں اور مفروضوں کوبنیاد بنا کرکسی دلیل کے بغیر جو کچھ کہا جائے غیرمعتبراور غیر حتمی ہوگا۔پاکستان جیسا ملک اپنی بدترین معیشت کے غیر مستند اعدادوشمار اور بے بنیاد خواہشات کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔حکومت اور اپوزیشن کو اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔


