مقروض پاکستان کی پہلی ترجیح
مقروض ملک جو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہواس کی پہلی ترجیح زمین بوس معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوتی ہے اور پاکستان آج اسی تگ و دو میں مصروف ہے۔یہ کام آسان نہیں،ایک جانب قرض کی ادائیگی کرنا ہے، دوسری جانب زراعت اور صنعت سمیت ہر شعبہ مناسب منصوبہ بندی اور دیکھ بھال نہ ہونے کی بناء پرتباہ ہوچکے ہیں۔لاکھوں ایکڑ زمین ہے مگر پانی کی عدم دستیابی نے اسے ویران کر دیا ہے۔دالیں، خوردنی تیل،حتیٰ کہ پنیر اور دہی بھی درآمد کیا جارہا ہے۔برآمدات کم ہوتی چلی گئیں اور بنگلہ دیش برآمدات میں پاکستان سے آگے نکل گیا۔ذوالفاقار علی بھٹو کے پاتھوں لگائی گئی اسٹیل ملایک بڑا اثاثہ تھی،ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے حکمرانوں نے دانستہ اس قیمتی اثاثے کو لوٹ مار کے ذریعے ملکی معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ بنا دیا۔مشرقی ہمسایہ سینکڑوں ڈیم نہ صرف تعمیر کرتا رہا بلکہ یہ بھی کہتا رہا کہ پاکستان کو پانی کے ہتھیار سے تباہ کردیں گے۔اس کے باوجود پاکستان کے حکمرانوں نے اس جانب توجہ نہیں دی۔کوئلے، تیل /ڈیزل اور گیس سے چلنے والی غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ کئے گئے نقصان دہ معاہدے طویل عرصے کے لئے پاکستانی عوام پر مسلط کر دیئے۔گردشی قرضہ ان ہی احمقانہ اور خودغرضانہ معاہدوں کا نتیجہ ہے۔اس کے علاوہ سب سے بڑاجرم یہ کیا کہ قرض لینے والے حکمرانوں نے قرض کی واپس ادئیگی کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان2018میں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔جسے ثبوت چاہیئے سعودی عرب کے معاہدے میں موجود شرط پڑھ لے:”دیوالیہ ہونے کی صورت میں سعودی عرب 72گھنٹوں میں اپناقرض واپس لے سکتا ہے“۔ سود خور اتنے طاقتور ہیں کہ قرض دینے سے پہلے مقروض ملک سے ایسی شرائط پر دستخط کرالیتے ہیں جو عوام کی رگوں سے خوان اور توانائی کا آخری قطرہ نچوڑنے کاسبب بنتی ہیں۔قرض دینے والے ملک یا بینک کو اس ملک کے عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی اس لئے کہ عوام کی سیاست سے لاتعلقی اور خاموشی کے باعث حکمران اپنی تجوریاں بھرتے رہے۔ ملکی خزانہ نہ صرف خالی ہوا بلکہ اس پر قرضوں کا بھاری بوجھ بھی لادا گیا۔اگر عوام حکمرانوں کو کھلی چھوٹ نہ دیتے، ان پرنظر رکھتے تو حکمرانوں کو من مانی کرنے کا موقعہ نہ ملتا۔یاد رہے الیکشن کے دوران ہر امیدوار، ہر گھر میں ووٹرز کو ان کا ووٹ نمبر اور پولنگ اسٹیشن کا پتہ پہنچا دیتا ہے مگر ووٹر گھر سے نکل کر ووٹ ڈالنے نہیں جاتے۔پولنگ اسٹیشنز خالی رہتے ہیں۔ میڈیا پر یہ خبر نشر ہوتیہے کہ دوپہر تک فلاں پولنگ اسٹیشن پر ایک بھی ووٹر نہیں آیا۔الیکشن سے لاتعلقی کی سزا مہنگائی، بیروزگاری، اور جہالت کی صورت میں ملتی ہے، اور پاکستان کے عوام گزشتہ دہائیوں سے مسلسل یہ سزا بھگت رہے ہیں۔ان کی جان کب چھوٹے گی؟حکومت اور اپوزیشن میں سے کوئی بھی اس سوال کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ اپوزیشن موجودہ حکومت کو جیسے القاب سے نوازنا چاہے، نوازتی رہے،اس سے اس کا قد نہیں بڑے گا۔ اس کادیرینہ سیاسی ریکارڈ تبدیل نہیں ہوگا۔اب بات بہت دور تک پہنچ چکی ہے۔ ریاست کا اپنا وجود خطرے میں ہے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں سالانہ اضافے کی سکت نہیں رہی۔ بلوچستان میں حکمرانوں کی عدم توجہی کا یہ عالم ہے کہ 1400سے زائد اساتذہ کو ترقی دینے میں 35سال لگ گئے۔ جب محکمہ تعلیم کی کارکردگی اتنی مایوس کن ہے تو دیگر محکموں کی حالت کا اندازہ لگانے میں کسی کو دشواری نہیں ہونی چاہیئے۔ٹیکس وصول کرنے والے ادارے(ایف بی آر) کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ایف بی آر کے اہلکار اور افسران ٹیکس چوری کا راستہ خود دکھاتے ہیں، سہولت کار بنتے ہیں۔سرکاری دفاتر میں ”چائے پانی“ اور ”پہیئے لگانے“ جیسی اصطلاحیں رائج ہیں۔اب توقع ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مددسے یہ بری عادت اور شرم ناک روایت اختتام پذیر ہوگی۔پارلیم،نٹ میں قانو سازی کی بجائے ہلڑ بازی اور بائیکاٹ کیا جاتا ہے، اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرکے ایم این اے کی جانب سے ان کے منہ پر جوتا مارنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ حکومت آرڈیننس جاری کرے تو عدالت پہنچ جاتے ہیں۔ اب تو عدالتوں نے بھی کہنا شروع کردیا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے کو غیر منتخب جج کیوں ڈی سیٹ کرے؟یاد رہے جس ملک یا بینک نے قرض دیا ہے اس کے پاس دستخط شدہ دستاویز موجود ہے، پاکستان ادا نہیں کرے گا تو عالمی عدالت ایسی شکایت موصول ہونے پر ادا ئیگی کا حکم دے سکتی ہے،حکم عدولی کی صورت میں دیوالیہ قرار یئے جانے کا خدشہ حقیقت بن سکتا ہے۔دانشور عوام کی رہنمائی کریں۔انہیں زمینی حقائق سے آگاہ کریں۔بیشترسیاسی جماعتیں اپنی ہیئت ترکیبی کے لحاظ سے سیاسی نہیں رہیں، موروثی جماعتیں بن چکی ہیں۔ باپ کے بعد بیٹا یا بیٹی پارٹی سربراہ کا عہدہ سنبھالتے ہیں۔ یہ رویہ سیاسی جماعت کو لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیتا ہے۔عام کارکن میرٹ کے بل پر اس عہدے تک نہیں پہنچ سکتا۔ صرف جماعت اسلامی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ابھی موروثی نہیں بنی۔کمیونسٹ پارٹی مدت ہوئی ”ہے سے تھی“ہو چکی۔عالمی سطح پر نئی صف بندی ہوتی نظر آرہی ہے۔یوکرین میں روسی پیشقدمی نے اس عمل کو تیز کر دیا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن کوئی فوری حکمت عملی نہیں دے سکے۔معاملہ بیان بازی سے آگے نہیں بڑھا۔یوکرین کو اس وقت مدد کی ضرورت ہے، ہمدردی اور دعاؤں سے وہ روس کا مقابلہ نہیں کرسکے گا۔سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بلاکر سوائے قراردادیں منظور کرنے کے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔امریکہ صرف اس ملک پر اپنی اور اپنے نیٹو اتحادیوں کی افواج اتارتا ہے جو عسکری اعتبار سے کمزور ہو۔مد مقابل روس اور چین جیسا کوئی ملک نظر آئے تو اقتصادی پابندی والی حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔روس کے صدر پیوٹن نے واضح اوردو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے وہ عادی ہیں۔امریکہ 1945سے آج تک صرف پس ماندہ اور غیر ترقی یافتہ ملکوں پر حملہ کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔عراق، لیبیاء،اورشام پر چڑھائی کرتا رہا ہے۔ افغانستان کو دھمکی دیتا رہا ہے کہ پتھر کے دور میں پہنچا دے گا۔جبکہ یوکرین کی فضاؤں میں روسی جنگی طیارے اڑ رہے ہیں، جدید اسلحے سے لیس ہیں۔یوکرین بھی مدد کی اپیلوں کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔یہ کام پاکستان بھی کر چکا ہے، لیکن صرف اپیلیں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے سے نہیں روک سکیں اور چھٹا امریکی بحری بیڑہ آج تک موقعہ واردات تک نہیں پہنچا۔لگتا ہے یوکرین بھی خودہی کوئی درمیانہ راستہ نکال لے گا۔ روس کو یقین دہانی کرادے گاکہ یورپی یونین میں شامل نہیں ہوگا، اسی روز جنگ ختم ہوجائے گی۔


